چوہدری محمد علی کی وفات

یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی کی تاریخ پیدائش 15جولائی 1905ءہے۔
چوہدری محمد علی ننگل انبیا، تحصیل نکودر ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1928ء میں انڈین آئوٹ اینڈ اکائونٹس سروس میں شامل ہوئے اور تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ قیام پاکستان سے پہلے جب عارضی حکومت میں لیاقت علی خان وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے بطور مشیر اعلیٰ ان کاوہ بجٹ تیار کرنے میں بڑی مدد کی جسے غریبوں کا بجٹ کہا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل اور 1951ء میں وفاقی وزیر خزانہ بنے۔ 1955ء میں دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 11 / اگست 1955ء سے 12 / ستمبر 1956ء تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ ان کے عہد حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کے پہلے آئین کی منظوری تھا۔
ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد وہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ تاہم محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔انہوں نے تحریک پاکستان کے موضوع پر Emergence of Pakistan
کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس کا ترجمہ ’’ظہور پاکستان‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔
——————————————————————————————————————–
سرفراز نواز کی پیدائش

یکم دسمبر 1948ء پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر سرفراز نواز کی تاریخ پیدائش ہے۔

سرفراز نواز لاہور میں پیدا ہوئے اور ان کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز6 / مارچ 1969ء کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں انگلستان کے خلاف ہوا۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں مجموعی طور پر 55 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور 177 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے45 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی حصہ لیا اور مجموعی طور پر63 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ سرفراز نواز کا سب سے یادگار ٹیسٹ میچ مارچ 1979ء میں میلبورن کے مقام پر کھیلا گیا ٹیسٹ میچ تھا۔ اس ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں جب پاکستان شکست کے قریب تھا توسرفراز نواز نے صرف ایک رنز کے عوض آسٹریلیا کے 7 کھلاڑیوں کو آئوٹ کرکے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اس اننگز میں انہوں نے مجموعی طور پر 86 رنز کے عوض آسٹریلیا کے 9کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔سرفراز نواز کی ایک وجہ شہرت ان کی اداکارہ رانی کے ساتھ شادی بھی ہے۔ وہ لاہور میں مقیم ہیں۔
—————————————-
یوسف ظفر کی پیدائش

اردو کے ایک ممتاز شاعر جناب یوسف ظفر یکم دسمبر 1914ء کو مری میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑے نامساعد حالات میں زندگی بسر کی۔ 1936ء میں انہوںنے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1939ء میں انہوں نے میرا جی کے ساتھ حلقہ ارباب ذوق کی بنیاد ڈالی اور قیام پاکستان کے بعد مشہور ادبی جریدے ہمایوں کے مدیر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں وہ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے اور اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے تک ترقی پائی۔ جناب یوسف ظفرکی سوانح عمری ’’یوسف ظفر کی بات‘‘ کے نام سے اشاعت پذیرہوچکی ہے جب کہ ان کے شعری مجموعوں میں نوائے ساز‘ عشق پیماں‘ حریم وطن‘ صدا بہ صحرا‘ زہرخند اور زنداں کے نام شامل ہیں۔ ان کی شاعری کی کلیات بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔ ان کی نثری تصنیف یہودیت بھی اپنے موضوع پر لکھی گئی ایک بڑی وقیع تصنیف ہے۔
جناب یوسف ظفرنے راولپنڈی میں 7 / مارچ 1972ء کو وفات پائی۔ راولپنڈی میں فوجی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
—————————————————————————————————————————-
پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام

جب ذوالفقار علی بھٹو سیاسی اختلافات کی بنا پر 1966ء میں صدر ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہوئے تبھی سے وہ ایک سیاسی جماعت کے قیام کے لیے کوشاں تھے۔
اسی زمانے میں لاہور میں کچھ دانشور‘ جن میں اخبار نویس‘ اساتذہ‘ وکلا‘ ادیب اور سرکاری ملازم شامل تھے‘ ایک ہفتہ وار ادبی اجلاس میں ملک کے مسائل پر بحث کرکے ان مسائل کے ممکنہ حل کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ یہ اجلاس ڈاکٹر مبشر حسن کی اقامت۔4 کے گلبرگ میں منعقد ہوا کرتے تھے۔ ان افراد نے مسٹر بھٹو سے رابطہ قائم کیا اور مسٹر بھٹو اور جے اے رحیم کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
30 نومبر اور یکم دسمبر 1967ء کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی اقامت پر اس نئی پارٹی کا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا جس میں پارٹی کا نام پاکستان پیپلز پارٹی تجویز کیا گیا اور پارٹی کے چار رہنما اصول منظور کیے گئے:
(الف)اسلام ہمارا دین ہے۔ (ب)جمہوریت ہماری سیاست ہے۔(ج)سوشلزم ہماری معیشت ہے۔(د)طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے تایسی اجلاس میں جو افراد شریک ہوئے ان میں رسول بخش تالپور‘ حنیف رامے‘ شیخ محمد رشید‘ حیات محمد خان شیرپائو‘ عبدالوحید کٹپر‘ معراج محمد خان‘ حق نواز گنڈا پور‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ جے اے رحیم‘ بیگم شاہین رامے‘ ملک حامد سرفراز‘ اسلم گورداسپوری‘ رفیق احمد باجوہ اور امان اللہ خان وغیرہ شامل تھے۔اس اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو کو پارٹی کا چیئرمین اور جے اے رحیم کو جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو بہت جلد ملک کے غریب طبقے کی حمایت حاصل ہونا شروع ہوئی۔ پارٹی کی اصل قوت مغربی پاکستان کا نوجوان طبقہ تھا جو ملک میں سوشلزم اور مساوات پر مبنی معاشرے کے قیام کا خواہش مند تھا۔ یوں یہ پارٹی مغربی پاکستان کی مقبول ترین پارٹی بن گئی اور 1970ء کے انتخابات میں اس نے اپنی یہ مقبولیت ثابت بھی کردی۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY