اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران فاروق قتل کیس کے مزید 3 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سید کوثر عباس زیدی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی درخواست پر سماعت کی اور ان کی استدعا پر مزید تین ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

ایف آئی اے نے جن 3 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کی استدعا کی، ان میں کاشف خان کامران، محمد انور اور افتخار حسین شامل ہیں۔

عدالت میں پیش کیے جانے والے ایف آئی اے کے چالان کے مطابق کاشف خان کامران براہ راست عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہے۔

ایف آئی اے کے پروسیکیوٹر وسیم رانجھا کی استدعا پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، انھوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ عمران فاروق قتل کے حوالے سے 6 ستمبر 2010 کو درج کی جانے والی ایف آئی آر میں مذکورہ ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کیلئے ورانٹ جاری کیے جائیں۔

وسیم رانجھا نے جس ایف آئی آر کے حوالے سے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کی استدعا کی، اس میں یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ تینوں ملزمان کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔

یاد رہے کہ مقدمے کے تین ملزمان معظم علی، خالد شمیم اور محسن علی سید گرفتار اور اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید ہیں۔

کیس کی آئندہ سماعت 8 دسمبر کو ہوگی۔

یاد رہے کہ 29 نومبر 2016 کو حکومت پاکستان نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف پانچ سال قبل لندن میں قتل ہونے والے پارٹی کے سینئر رہنما عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ درج کیا.

مقدمہ ہفتہ کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر انعام غنی کی مدعیت میں درج کیا گیا.

مقدمے میں ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور اور افتخار حسین کے علاوہ معظم علی خان، خالد شمیم، کاشف خان کامران اور سید محسن علی بھی نامزد ہیں.

SHARE

LEAVE A REPLY