حج کے مو قعہ پر سورہ توبہ کی آیا ت براءت کا اعلان،
رئیس المنا فقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال
ہم گزشتہ قسط میں یہاں تک پہنچے تھے کہ حضو ر (ص)نے سو رہ تو بہ کے نا زل ہو نے کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اعلان برا ءت کے لیئے روانہ فر ما یا ۔اب آگے پڑھئے ہیں۔وہ اعلان برا ئت کیا تھااس کو ابن ِاسحاق (رح) نے بہت سے حوالوں کے سا تھ بیا ن کیا ہے ۔حضو ر (ص)نے بقول ان کے حضرت علی (رض) کو طلب فر ما یا اور ارشا د فر ما یا کہ سو رہ برا ءت کے پہلے حصہ کو سا تھ لے جا ؤ اور جب لو گ قر با نی کے روز منٰی میں جمع ہو ں تو اعلان کردو ،کہ جنت میں کو ئی کافر دا خل نہیں ہو سکے گا ۔اور اس سال کے بعد نہ کو ئی مشرک حج کر سکے گااور نہ کو ئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف کر سکے گا۔ البتہ جس کا اللہ کے رسول (ص) کے سا تھ کو ئی عہد ہو تو وہ اسوقت تک اس پر قا ئم رہے گا (یعنی اپنی مدت پوری کریگا ) اس اعلان کے بعد کسی مشرک نے پھر حج نہیں کیا اور نہ برہنہ ہو کر طواف کر نے کی رسم ِ قبیح دہرا ئی گئی۔ سو رہ توبہ کے مطا بق سب کفارکو چا ر ما ہ کی مہلت عطا کی گئی ،اور جن قبا ئل اور افراد کے سا تھ معاہدات تھے وہ اس سے مستثنٰی رہے۔ یہ مدت سو رہ تو بہ کے مطا بق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے توسل سے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عنایت فر ما ئی تھی تا کہ لو گ اپنے پسندیدہ قبا ئل یا ملکو ں کی طرف چلے جا ئیں۔پھر دونوں حضرات حضور (ص) کی خد مت ِاقدس میں حا ضر ہو گئے اور تما م روداد ِ تکمیل ِ حکم میںپ یش کی اور اس پر حضور (ص) نے اظہا ر ِ پسندیدگی فر ما یا۔اس واقعہ کو ابن ِ اسحاق (رح) کے علا وہ اما م بخا ری (رح) نے بھی ایک حدیث کے ذریعہ سے حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس واقعہ کو تھو ڑا زیا دہ تفصیل سے بیا ن کیا ہے

انہو ں نے تحریر کیا کہ مجھ تک ابو سفیان سے مروی یہ حدیث پہنچی ہے کہ ابو صہبا ئ بن البکری کو بیان کر تے سنا کہ حضرت علی (رض) سے انہو ں نے حج ِ اکبر کے دن اس واقعہ کے با رے میں پو چھا تو حضرت علی (رض) نے فر ما یا کہ ”اول حضو ر (ص) نے ابو بکر (رض) بن قحا فہ کو امیر حج بنا کر بھیجا تھا کہ اتنے میں سو رہ برائت نا زل ہو گئی ۔ تو مجھے چا لیس آیا ت دیکر ان کے ہمرا ہ کر دیا حتیٰ کہ ہم عرفہ تک پہنچ گئے اور ابو بکر (رض) نے عرفہ میں لو گو ں کو خطا ب کیا۔جب وہ خطا ب کر چکے تو مجھ سے کہا کہ اب تم رسول (ص) اللہ کا پیغام پہنچا ؤ ۔پس میں کھڑا ہو گیااورمیں نے سو رہ براءت کی وہ چالیس آیات پڑھ کر سنا ئیں۔پھر ہم لو ٹ آئے اور قر با نی کی اور حلق کروایا یعنی سر منڈوایا اور رمی جمار کیا یعنی شیطا ن کو کنکر یا ں ما ریں ۔پھر مجھے پتہ چلا کہ جب ابو بکر (رض) خطاب فر ما رہے تھے، تو بہت سے لو گ وہاں مو جود نہیں تھے ۔ لہذااس کے بعدمیں ان لوگو ں کو تلا ش کر کے منٰی میں فرداً ،فرداً پیغام پہنچا تا رہا ۔انہو ں نے یہ بھی زور دیکر فر ما یا کہ میں نے پیغام منٰی میں نہیں بلکہ عر فہ میں پڑھا تھا“۔( میرے خیا ل سے یہ غلط فہمی اس لیئے ہو ئی کہ حضرت علی (رض) نے دو نو ں جگہ پیغا م پہنچا یا جیسا کہ اس روایت سے ظا ہر ہے کہ پہلے عرفہ میں پھر فردا ً فردا ً منٰی میں۔ حا لا نکہ دو نو ں با تیں اپنی جگہ درست ہیں ) ۔ان دونوں حضرا ت کی عدم مو جو دگی میں ایک اور اہم واقعہ بھی پیش آیا اور وہ تھا رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی سلو ل کی وفا ت ۔وہ شوال کے اوا خر میں بیما ر ہو ا اور ذیعقدہ میں وفا ت پا گیا ۔

اس دوران حضور (ص) اس کی عیا دت کو برا بر تشریف لے جا تے رہے۔ کیو نکہ جیسا کہ ہم پہلے بیا ن کر چکے ہیں کہ اس کے ایک صا حبزا دے بہت ہی متقی تھی اور ایک مر تبہ حضو ر (ص) نے انہیں اپنی نیا بت ِ مدینہ کے لیئے بھی چنا تھا ۔جیسا کہ پہلے آپ پڑھ چکے ہیں۔ جب وہ ذیعقدہ میں انتقال کر گیا۔ تو انکے صا حبزا دے کی در خو است پر اپنے جسم اقدس سے حضو ر (ص)نے اپنا پیر اہن اتا رااور اس کے کفن کے لیئے عطا کر دیا ۔ اس کے بعد نما ز جنا زہ پڑھا نے کا قصد کیا تو حضرت عمر (رض) نے آپ کا دامن پکڑ لیا ۔اور کہنے لگے حضو ر (ص)کیا آپ اس شخص کی نما ز جنا زہ پڑھا ئیں گے جس نے آپ کے با رے میں نازیبا الفا ظ استما ل کیئے تھے !آپ نے فر ما یا عمر میرے راستے سے ہٹ جا ؤ اس لیئے کہ میرے رب نے مجھے یہ کہہ کر اختیا ر دیا ہے، کہ میں چا ہے ستر مر تبہ اس کی بخشش کے لیئے دعا مانگوں یا نہ ما نگو ں میں معا ف نہیں کرونگا۔ لہذا اس کے لیئے میں ستر با ر سے زیا دہ دعا مانگونگا۔ شا ید اللہ تعا لیٰ اس کے لیئے کو ئی آسا نی فر ما دے ۔(آپ نے ملا حظہ فرمایا کہ یہ تھا حضو ر (ص) کا خلق جس کے با رے میں قر آن نے کہا کہ وہ اور ان کے سا تھی مسلمانوں کے سلسلہ میں حریص ہیں مگر یہا ں تو وہ مسلمان کے لیئے ہی نہیں بلکہ اپنے سب سے بڑے دشمن اور منا فق آعظم کے لیئے بھی اتنے ہی آپ کو بیچین نظر آرہے ہیں۔ پھر آپ ہی سو چیئے کہ ان کا مسلما نو ں پر شفقت کا کیا عا لم ہو گا۔ بشر ط ِ کو ئی مسلمان ہو تو سہی)۔مگر اما م بخا ری نے حضو ر (ص) کی اپنی قمیض عطا کر نے کی وجہ دو سری بیا ن کی ہے وہ فر ما تے ہیں کہ جب حضرت عباس (رض) مدینہ منورہ پہنچے ،تو ان کے پا س پہننے کے لیئے کپڑے نہیں تھے لہذا اسوقت ان کو عبد اللہ بن ابی نے اپنی قمیض پہنا ئی تھی کیو نکہ اور کسی کی قمیض ان کے جسم پر فٹ نہیں آ رہی تھی ۔واللہ عالم ۔ اس کے بعد یہ آیت نا زل ہوئی کہ ” جو ان میں سے مر جا ئے اس کی نما ز جنا زہ نہ پڑھئے نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ انہو ں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے “۔ اس کے با رے میں ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ اللہ تعا لیٰ نے حضور (ص) کو اور حضور (ص) نے عبد اللہ (رض) بن مسعود کو کچھ منافقین کے نام بتا دیئے تھے۔ لہذا جب صحا بہ کرا م ان کو کسی کی نما ز جنا زہ نہ پڑھتے دیکھتے تو با قی لو گ بھی نہیں پڑھتے تھے ۔ سن ٩ ھ کو اسلامی کی تا ریخ میں وفو د کا سا ل بھی کہا جا تا ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس سا ل جتنے وفو د آ ئے اتنے وفود کبھی نہیں آئے ۔یہ ہی وجہ تھی کہ غزوہ تبو ک کے بعد حضور (ص) نے مدینہ منورہ چھو ڑ نا منا سب نہیں سمجھا کیو نکہ لو گ رو من امپا ئر سے ٹکرا ؤ کے بعد خاکم بد ہن کسی اور نتیجے کے منتظر تھے ۔مگر وہاں جب صو رت ِ حا ل ہی یکسر بد ل گئی تو وہ فضا پیدا ہو گئی کہ تما م عرب کے وفود عا زم ِ مدینہ ہو گئے جس کی پیشنگو ئی سو رہ النصر میں پہلے ہی اللہ تعا لیٰ نے کر دی تھی اور جس میں یہ اطلا ع بھی تھی کہ آپکا مشن مکمل ہو چکا ہے اور اب آپ (ص) رب سے ملا قا ت کے لیئے تیا ر ہو جا ئیے ہم یہاں سورہ النصر اور اس کا تر جمہ پیش کر رہے ہیں

بسم اللہ ارحمٰن الرحیم ہ اذا جا ءنصر اللہ والفتح ہ ورایت ا لناس ید خلو ن فی دین اللہ افواجا ہ فسبح بحمد ک و ستغفرہ طانہ کان تبوابا ہ(ترجمہ اے محمد ) ”جب خدا کی امداداور نصرت آپہنچیں (ظاہرہو جا ئیں ) اور آپ (ص) لو گوں کو اللہ کے دین (اسلام ) میں جو ق در جوق داخل ہو تا دیکھیں ۔تو اپنے رب کی تسبیح اور تمحید میں مصروف ہو جا ئیے اور استغفار کیجئے وہ بڑا تو بہ قبو ل کر نے والا ہے “ یہاں بھی دراصل حضور (ص) کو مخا طب فر ما کر اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے امت کو یہ سبق دیا ہے کہ جب لو گ آپ کے دین کی طر ف متوجہ ہو تے دکھا ئی دیں تو آپ اس احسا ن پر اپنے رب کا شکر ادا کیجئے اور زیا دہ سے زیا دہ شکر ادا کیجئے ورنہ آپ جا نتے ہیں کہ حضور (ص) کے اگلے اور پچھلے گنا ہ سا رے ہی اللہ تعا لیٰ نے پہلے معا ف فر ما دیئے تھے۔ لہذا ان کو اس ہدایت کی کیا ضرورت تھی جو تما م انبیا ئے کرا م میں سب سے زیا دہ عبا دت کر نے والے تھے ۔یہ صرف امت کے لیئے سبق تھا کہ جب تمہیں کا میا بیاں حا صل ہو ں تو شکر کر نے کامقا م ہے۔ اور شکر کس طر ح اداکیا جا ئے کہ زیا دہ اپنے کر دار کو اونچا کیا جا ئے اور پہلے سے زیا دہ عبا دت کی جا ئے ۔ نہ کہ عیش اور عشرت میں پڑ جا یا جا ئے۔ جیسے کہ آجکل ہم ایک طر ف تو یہ کہتے ہیں کہ اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اور دو سری طرف اس طر یقے سے شکر کرنے کے بجا ئے وہ مظا ہرے کر تے ہیں۔ کہ جس میں شکر اور اسلا می تعلیمات کا شا ئبہ تک نہیں ہوتا ۔اور اس وقت ہم سورہ ابرا ہیم کی ان آیا ت کو بھی بھو ل جاتے ہیں ۔جس میں اللہ سبحا نہ تعا لیٰ نے حضرت مو سی ٰ (ّع) کی زبا نی کہلوا یا ہے کہ ”اگر تم شکر کرو گے تو میں زیا دہ دو نگا اور اگر کفر یعنی نا شکری کرو گے تو عذاب بھی شدید کرونگا“۔ لیکن ہم نے اس سو رہ سے کیا پورے قر آن سے سبق نہ سیکھنے کی ٹھا نی ہو ئی ہے ۔اور اس کے نتا ئج ہما رے سا منے ہیں اللہ تعا لیٰ ہم سب کو قرآن اور سنت سمجھنے اور عمل کر نے کی توفیق عطا فر ما ئے (آمین)۔ اس سال حضو ر (ص)مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہے۔ اس مو قعہ پر حضور (ص) نے مد ینہ چھو ڑنا منا سب نہ سمجھا اور وفود سے معا ملا ت طے کر نے اور معا ہدا ت کرنے میں گزارا۔ہم اس سے پہلی قسط میں بنو ثقیف سے معا ہدے کا ذکر کر چکے ہیں اس کے بعد وفود پر وفود آتے رہے حتٰی کہ حضو ر دو سرے سا ل حج الو داع پرتشریف لے گئے ۔ باقی آئندہ

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY