مشہور شہید ناموس رسالت غازی علم دین کی تاریخ پیدائش 4 / دسمبر 1908ء ہے۔

لاہور کے ایک کتب فروش راج پال نے 1928ء میں رسول اکرمؐ کی ذات بابرکات کے متعلق ایک نازیبا کتاب شائع کی تھی جس کا نام ہی ایک مسلمان کا خون کھولانے کے لیے کافی تھا۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد مسلمانوں نے ہندوستان بھر میں راج پال کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔ راج پال گرفتار تو ہوا لیکن قانونی سقم کی وجہ سے رہا ہوگیا۔ 6 / اپریل 1929ء کو لاہور کے نوجوان علم دین ، راج پال کی دکان پر پہنچے اورنہایت سکون سے اسے واصل جنم کرکے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کردیا۔
غازی علم دین پر راج پال کے قتل کے الزام میں مقدمہ چلا اور ہائی کورٹ نے انہیں موت کی سزا سنادی۔ 31 / اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل ان کی سزائے موت کے حکم پر عمل درامد ہوگیا۔6 / نومبر 1929ء کو انہیں لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ جہاں ان کا مزار مرجع خلائق ہے۔
———————————————————————————————————————-
انور سدید کی پیدائش

اردو کے مشہور ادیب، نقاد اور محقق جناب انور سدید 4 / دسمبر 1928ء کو پیدا ہوئے ۔

انہوں نے سول انجینئرنگ میں تعلیم کے حصول کے بعد اردو ادبیات میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں اردو ادب کی تحریکیں، اردو ادب میں سفر نامہ،پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ ،میر انیس کی اقلیم سخن، اردو افسانے کی کروٹیں اور اردو ادب کی ایک مختصر تاریخ بے انتہا مشہور ہیں۔وہ لاہور میں مقیم ہیں۔
———————————————————————————–
مولانا صلاح الدین کا قتل

نامعلوم دہشت گردوں نے 4 / دسمبر 1994ء کی شام اندھا دھند فائرنگ کرکے پاکستان کے بے باک اور معروف صحافی جناب محمد صلاح الدین کو شہید کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ہفت روزہ تکبیر کے مدیر جناب صلاح الدین جب شام کو اپنے دفتری کام نمٹانے اور عملے کو ضروری ہدایات دینے کے بعد گھر جانے کے لئے دفتر سے روانہ ہوئے تو دفتر کے باہر پہلے سے موجود دہشت گردوں نے اچانک ان پر فائرنگ کردی۔ جناب صلاح الدین کے جسم پر سترہ گولیاں لگیں مگر ان کا ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ ڈرائیور فوری طور پر جناب صلاح الدین کو سول اسپتال لے گیا مگرجناب صلاح الدین نے راستے ہی میں دم توڑ دیا۔

جناب صلاح الدین 5 / جنوری 1935ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1948ء میں وہ کراچی تشریف لائے، جہاں انہوں نے بڑی جدوجہد کے بعد اپنا مقام بنایا۔ 1963ء میں انہوں نے روزنامہ حریت سے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز کیا پھر کچھ دنوں وہ روزنامہ جنگ سے بھی وابستہ رہے۔ 1970ء میں وہ روزنامہ جسارت سے منسلک ہوئے۔ روزنامہ جسارت سے ان کی یہ رفاقت تقریباً 13 برس جاری رہی اس دوران انہوں نے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔

1984ء میں انہوں نے اپنا ہفت روزہ تکبیر جاری کیا۔ ملک کے صحافتی حلقوں میں جناب صلاح الدین کو ایک بہادر، بے باک، نڈر اور جرأت مند صحافی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کے مخالفین بھی ان کی ان خوبیوں کے قائل تھے۔ جناب صلاح الدین نے مسلم قومیت اور پاکستان کے تحفظ کی جنگ بڑی پامردی سے لڑی۔ اس دوران ان کے گھر اور ان کے دفتر کو نذرآتش بھی کیا گیا اور ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا مگر وہ لسانی سیاست اور دہشت گردی کے مستقل مذمت کرتے رہے۔ انہیں آزادی صحافت کے لئے قربانیاں دینے کے سلسلہ میں کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیاتھا۔ حکومت پاکستان نے بھی 14 / اگست 1997ء کو انہیں ہلال امتیاز کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔
———————————————————————
صاحبزادہ عبدالقیوم خان کی وفات

صوبہ سرحد کے مشہور ماہر تعلیم صاحبزادہ عبدالقیوم خان کی تاریخ وفات 4 / دسمبر 1937ء ہے۔
صاحبزادہ عبدالقیوم خان 1864ء میں ضلع صوابی کے گائوں ٹوپی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کی اور تحصیلدار اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور پولیٹیکل ایجنٹ کے عہدوں پر فائز رہے۔ 1912ء میں انہوں نے پشاور میں ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے اسلامیہ کالج کی بنیاد رکھی، اس ادارے نے جسے اب یونیورسٹی کا درجہ دیا جاچکا ہے صوبہ سرحد کے مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ حکومت ہند نے صاحبزادہ عبدالقیوم خان کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر خان بہادر، سی آئی ای، نواب اور سر کے خطابات کے علاوہ قیصر ہند گولڈ میڈل سے سرفراز کیا جبکہ عوام نے انہیں سرحد کے سرسید کا خطاب دیا۔

صاحبزادہ عبدالقیوم خان ہندوستان کی مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن بھی رہے اور 1930 ء تا 1932ء میں لندن میں منعقد ہونے والی گول میز کانفرنسوں میں بھی شریک ہوئے۔ وہ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY