میجر محمد اکرم (نشان حیدر) کی شہادت

5 دسمبر 1971ء کو پاکستان آرمی کے میجر محمد اکرم نے ہلّی ضلع دیناج پور مشرقی پاکستان کے محاذ پر 5 / دسمبر 1971ء کو جام شہادت نوش کیا۔
میجر محمد اکرم 4 / اپریل 1938ء کو ڈنگہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدا میں وہ نان کمیشنڈ عہدے کے لئے منتخب ہوئے مگر پھر خصوصی امتحانات پاس کرنے اور ملٹری اکیڈمی کاکول سے تربیت حاصل کرنے کے بعد 13 اکتوبر 1963ء کو وہ بحیثیت سیکنڈ لیفٹیننٹ پاکستان آرمی کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے وابستہ ہوئے۔1965ء میں انہیں کیپٹن اور 1970ء میں میجر کے عہدے پر ترقی ملی۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں انہوں نے ظفر وال سیکٹر میں خدمات انجام دیں۔

انہیں مشرقی پاکستان میں 7 / جولائی 1968ء کو متعین کیا گیا۔1971ء کی جنگ کے آغاز کے وقت وہ ہلّی ضلع دیناج پور میں فرینٹیر فورس رجمنٹ کی ایک کمپنی کی قیادت کررہے تھے۔ انہوں نے دشمن کی فضائیہ‘ توپ خانے اور بکتربند دستوں کی لگاتار یلغار کی زد میں رہتے ہوئے دشمن کے ہر حملے کو روکے رکھا۔ انہوں نے دو ہفتے تک دشمن کو پاکستان کی سرزمین پر ایک انچ بھی آگے نہ بڑھنے دیا اور بے مثال جرات و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخردم تک لڑتے رہے۔ اس یادگار معرکے میں انہوں نے اپنے فرض کی تکمیل کے لیے جس انداز میں جان کا نذرانہ پیش کیا وہ ایک لازوال روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔

میجر محمد اکرم کی جرأت کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے انہیں ملک کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر عطا کیا۔ وہ بنگلہ دیش میں بوگرا کے مقام پر آسودۂ خاک ہیں۔
میجر محمد اکرام شہید کا نشان حیدر کا اعزاز 31 / جنوری 1977ء کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ان کی والدہ مسماۃ احسان بی بی نے حاصل کیا۔
———————————————————————————————————————————-
پطرس بخاری کی وفات

اردو کے نامور ادیب‘ برصغیر کے صف اول کے براڈ کاسٹر، ماہر تعلیم اور اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری اور ناظم محکمہ اطلاعات احمد شاہ بخاری پطرس نے نیویارک میں 5 / دسمبر 1958ء کو وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔

احمد شاہ بخاری یکم اکتوبر 1898ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کیا اور کیمبرج یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا اسی زمانے میں انہوں نے پطرس کے قلمی نام سے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھنے کا آغاز کیا۔

جب آل انڈیا ریڈیو 1936ء میں قائم ہوا تو وہ اس ادارے سے بحیثیت نائب کنٹرولر وابستہ ہوئے۔ 1939ء میں اس ادارے کے ڈائریکٹر جنرل بنے اور 1945ء تک اس عہدے پر فائز رہے قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے قدیم تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل بنے۔ 1950ء میں انہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل نمائندہ مقرر کیا گیا۔ 1952ء میں انہیں سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی اور ایک ماہ تک اس ادارے کی صدارت کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

1954ء میں بخاری صاحب کو اقوام متحدہ میں شعبہ اطلاعات میں ڈپٹی سیکریٹری جنرل مقرر کردیا گیا بعد ازاں وہ اس ادارے کے انڈر سیکریٹری بھی رہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ڈیگ ہیمر شولڈان کے بڑے قدر دان تھے۔ حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے 44 برس
بعد 14 / اگست 2003ء کو انہیں ہلال امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا۔
———————————————————————–
جوش ملیح آبادی کی پیدائش

اردو کے ایک بڑے شاعر جوش ملیح آبادی 5 / دسمبر 1898ء کو ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔

جوش کے والد نواب بشیر احمد خان، دادا نواب محمد احمد خاں اور پر دادا نواب فقیر محمد خاں گویا سبھی صاحب دیوان شاعر تھے۔

جوش نے نو برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔ ابتدا میں عزیز لکھنوی سے اصلاح سخن لی۔ پھر یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور خود اپنی طبیعت کو رہنما بنایا۔ عربی کی تعلیم مرزا ہادی رسوا سے اور فارسی اور اردو کی تعلیم مولانا قدرت بیگ ملیح آبادی سے حاصل کی۔

جوش نے حیدرآباد (دکن)، دہلی، کراچی اور اسلام آباد کئی شہروں میں زندگی گزاری۔ دو رسالوں کلیم اور آج کل کے مدیر رہے، کئی فلموں کے گانے اور مکالمے لکھے اور پاکستان آنے کے بعد اردو لغت کے مدیر رہے۔
جوش ملیح آبادی نے متعدد شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ اپنی خودنوشت یادوں کی برات کے نام سے تحریر کی۔ جنگل کی شہزادی، ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب، مناظر سحر، تلاشی اور فتنہ خانقاہ آپ کی مشہور نظمیں ہیں۔ حسین اور انقلاب وہ مرثیہ ہے، جس نے مرثیہ گوئی کے ایک نئے دبستان کی بنیاد رکھی۔
ستر کی دہائی میں جوش کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ 1978ء میں انہیں ان کے ایک متنازع انٹرویو کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں بلیک لسٹ کردیا گیا مگر کچھ ہی دنوں بعد ان کی مراعات بحال کردی گئیں۔

جوش ملیح آبادی نے 22 / فروری 1982ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
ان کی تاریخ وفات معروف شاعر نصیر ترابی نے ان کے اس مصرعہ سے نکالی تھی:
میں شاعر آخر الزماں ہوں اے جوش

——————————————————————————————————————————–
روشن آرا بیگم کی وفات

کلاسیکی موسیقی کی نامور گائیکہ ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم 5 /دسمبر 1982ء کووفات پاگئیں۔

روشن آرا بیگم کا اصل نام وحید النسا بیگم تھا، وہ 1915ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں ان کا تعلق ایک موسیقی دان گھرانے سے تھا چنانچہ موسیقی سے ان کا لگائو فطری تھا۔

ابتدائی مشق ان کی والدہ چندا بیگم نے کروائی پھر استاد لڈن خان سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھے۔

اسی زمانے میں فلموں میں بھی کام کیا۔ پھر کیرانہ گھرانے کے استاد عبدالکریم خان کی شاگردی اختیار کی اور کیرانہ گھرانے کی سب سے ممتاز نمائندہ بن گئیں۔

روشن آرا بیگم کی شادی ایک پولیس افسر چوہدری احمد خان سے ہوئی تھی جو موسیقی کے بڑے شوقین تھے۔

چوہدری احمد خان لالہ موسیٰ کے رہنے والے تھے، چنانچہ قیام پاکستان کے بعد روشن آرا بیگم نے بھی لالہ موسیٰ میں اقامت اختیار کی اور ریڈیو پاکستان لاہور سے گاہے بہ گاہے موسیقی کے پروگرام کرتی رہیں۔

روشن آرا بیگم کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا تھا۔وہ لالہ موسیٰ ضلع گجرات میں جی ٹی روڈ پر تعمیر شدہ مقبرہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
——————————————————————————————————————————–
مرزا عبدالقادر بیدل کی وفات

فارسی کے عظیم شاعر ابوالمعانی مرزا عبدالقادر بیدل کی تاریخ وفات 5 /دسمبر1720ء ہے۔

مرزا عبدالقادر بیدل 1644ء میں عظیم آباد پٹنہ میں پیدا ہوئے اور عمر کا بیشتر حصہ وہیں بسر کیا۔ تصوف سے بڑی رغبت تھی۔ سلوک و معرفت کے سلسلے میں جن شخصیات سے فیض حاصل کیا ان میں میرزا قلندر، شیخ کمال، شاہ ابوالقاسم، شاہ فاضل اور شاہ کابلی کے نام قابل ذکر ہیں۔ وہ ابتدا میں رمزی تخلص کرتے تھے بعدازاں انہوں نے اسے بدل کر بیدل کرلیا۔ ان کی تصانیف میں چہار عنصر، محیط اعظم، عرفان، طلسم حیرت، طور معرفت، گل زرد، نکات اور دیوان شامل ہیں۔

مرزا عبدالقادر بیدل کو برصغیر میں فارسی کے عظیم شعرا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے غزلیات، مثنویوں،قصائد اور رباعیات کی شکل میں ایک لاکھ سے زیادہ اشعار کہے تھے۔
غالب اور اقبال ان سے بے حد متاثر تھے۔ غالب کا ایک مشہور شعر ہے:
طرز بیدل میں ریختہ کہنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے
وہ دہلی میں آسودۂ خاک ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY