پاکستان پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ضیاء الحق کی باقیات ابھی تک چل رہی ہیں۔ ہم پنجاب پر جمہوری قبضہ کرنے آئے ہیں۔ ہمیں ان شریفوں کو سمجھانا ہے کہ یہ ان کی آخری باری ہے۔ اگر عوام ساتھ دیں تو 2018ء میں نواز شریف کو خدا حافظ کہہ دیں گے۔ 2018ء کے بعد نواز شریف جیل میں ہونگے یا سعودی عرب میں یا پتہ نہیں کہاں ہونگے؟ اب ہمیں ان شریفوں کی شکل نہیں دیکھنی۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت نے اگر ہمارے چار آئینی مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا تو 27 دسمبر سے لانگ مارچ کا اعلان اور دمام دم مست قلندر ہوگا۔

ہم حکومت کو دکھا دیں گے کہ عوام کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے اور بلاول باہر نکل رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے چھ ماہ کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تین ماہ گو نواز گو اور آئندہ تین ماہ الیکشن مہم چلائیں گے۔ 27 دسمبر کے بعد لاہور میں رہوں گا اور پوری سیاست کروں گا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا حکومت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ پر الیکشن لڑنے والوں نے بجلی کی قیمت ڈبل کر دی۔ ملک میں انڈسڑیاں بند اور عوام بے روزگار ہو رہے ہیں۔ رائے ونڈ کی حکومت میں اقلیتوں پرتشدد ہو رہا ہے۔ حکومت خارجہ پالیسی نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ سٹیل سے میٹرو بنانے کے شوقین خاندان نے ہسپتالوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کہاں گیا سستا تندور اور آشیانہ سکیم کا منصوبہ؟ عوام کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیوں کیا گیا؟ –

SHARE

LEAVE A REPLY