واشنگٹن کی جانب سے عالمی جوہری معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی پر خبردار کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ وہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی جوہری معاہدے کو ختم کرنے نہیں دیں گے۔

خیال رہے کہ ٹرمپ نے امریکا کے صدارتی انتخابات کیلئے اپنی مہم میں ایران کے جوہری معاہدے کو ‘سب سے برے مذاکرات’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے عالمی طاقتوں سے ہونے والے جوہری معاہدے کو ختم کردے گے، جس کے مطابق ایران خود پر لگی پابندیوں کو اٹھانے کے بدلے میں اپنا جوہری پروگرام بند کرنے کیلئے تیار ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی میں سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے پوئے حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے اقدامات ہمیں متاثر نہیں کریں گے۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ‘کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ جے سی پی او اے (ایران کے جوہری پروگرام پر جامع جوائنٹ ایکشن پلان) کو ختم کردے گا؟ اور تم کیا یہ سوچتے ہو کہ ہم اور ہمارے عوام ایسا ہونے دیں گے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے دیا جانے والا بیان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا باعث ہوسکتا ہے، یہ ایسی پیش رفت ہے جو ایرانی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے، خاص طور پر روحانی کیلئے جو ایران کیلئے آئندہ صداراتی اُمیدوار بھی ہیں۔

رواں سال جون میں ٹرمپ کی جانب سے دیے جانے والے بیان پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنائی نے جوہری معاہدے کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدام سے خبردار کیا تھا۔

گذشتہ ماہ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے پابندیوں میں توسیع کو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

روحانی نے خامنائی کے مذکورہ بیان کی حمایت کی جس میں انھوں نے گذشتہ ماہ امریکی کانگریس کی جانب سے ایران پابندی ایکٹ (آئی ایس اے) میں 10 سال کی توسیع کیلئے قانون پاس کرنے کی مخالفت کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY