پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے بدقسمت اے ٹی آر 42 طیارے کے پائلٹ کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے پہلا رابطہ پی کے 661 کے چترال سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہوا۔

پائلٹ نے کہا کہ طیارے کے بائیں انجن میں خرابی پیدا ہوگئی ہے اور کچھ ہی دیر بعد انھوں نے خوفزدہ آواز میں کہا، ‘مے ڈے! مے ڈے!’ اور پھر جہاز ریڈار سے غائب ہوگیا اور اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 32 ناٹیکل میل دور حویلیاں کے گاؤں بتولنی کے پہاڑوں میں گر کر تباہ ہوگیا۔

بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ جہاز نے 3 بجکر 55 منٹ پر ٹیک آف کیا اور اسے 4 بجر 40 منٹ پر اسلام آباد میں لینڈ کرنا تھا، تاہم 4 بجکر 15 منٹ پر جہاز گر کر تباہ ہوگیا۔

مذکورہ عہدیدار کے مطابق جہاز کے کریش ہونے سے چند منٹ قبل پائلٹ نے ایمرجنسی کال کی اور ایمرجنسی لینڈنگ کی اجازت طلب کی، جس کے بعد طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔

ایمرجنسی کوڈ کی وضاحت کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ پائلٹس ‘مے ڈے’ کا کوڈ ورڈ ایمرجنسی کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کال میں کوئی تعطل نہیں تھا اور کنٹرول ٹاور کا عملہ پائلٹ کو درپیش مسئلے پر توجہ دے رہا تھا جبکہ کال موصول ہوتے ہی بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ایمرجنسی لینڈنگ کے لیے انتظامات کرلیے گئے تھے جبکہ فائر بریگیڈ کو بھی موقع پر پہنچنے کا کہہ دیا گیا تھا۔

مذکورہ عہدیدار کے مطابق بتولنی گاؤں کے ایک رہائشی نے 4 بجکر 35 منٹ پر بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کال کرکے طیارہ تباہ ہونے کی اطلاع دی، جنھیں ایئرپورٹ مینیجر سے رابطہ کرنے کو کہا گیا۔

ایوی ایشن ڈویژن کے سیکریٹری عرفان الہیٰ نے ڈان کو بتایا کہ ایئر کموڈور منیر احمد کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جاچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت جہاز کے تباہ ہونے کی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ طیارے کے بائیں انجن میں خرابی پیدا ہوگئی تھی، ساتھ ہی انھوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران طیارے کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY