میں بھی صرف ایک تماشائی ہوں اور کچھ نہیں ۔عزیررشید

0
273

میں جب جب جیسے جیسے اور جہاں جہاں گروں گا میں تب تب ویسے ویسے اور وہاں وہاں ان لوگوں کو سب سے پہلے دعوت نظارہ دوں گا جو یہ دیکھنے کے لیے زندگی کے اس سفر میں میرے ہمسفر رہے کہ میں کب کب کہاں کہاں اور کیسے کیسے گرتا ہوں

میں نے بہت پیار سے اس کا ہاتھ پکڑا اور نہایت رازداری سے اس کے کان میں پوچھا ، کیا تم ان لوگوں کو جانتے ہو ؟

اس نے ایک بار پھر پہلے کی طرح بولنا شروع کردیا

میں جب تک آنکھوں کی روشنی سے محروم تھا لوگوں کا تماشہ دیکھنے بنانے اور رچانے والوں کا سرغنہ تھا ، جب بینائی ملی تو معلوم پڑا کہ تماشائیوں کی اس بستی میں تماشہ بنانے اور دیکھنے والے سب کے سب بزدل اور میں پرست لوگ ہیں ، یوں میں نے اپنی میں کا چولا اتارا اور گھنگرو پہن کر سر میں خاک ڈالی اور اب رقص میں رہتا ہوں ، لوگ آتے ہیں اور لطف نظارہ لے کر چلے جاتے ہیں کچھ تلخ جملے بولتے ہیں کچھ گالیاں دیتے ہیں اور کچھ دعایئں دے کر چلے جاتے ہیں ، مجھے کسی سے کوئی گلا نہیں ، قصور ان کا نہیں ، دراصل وہ جانتے نہیں ہیں کہ میں اب دیکھ سکتا ہوں

کیا دیکھ سکتے ہو ؟ دوست ، جملہ کچھ سوالیہ سا میرے منہ سے نکلا اور وہ پھر پہلے کی طرح نہ سمجھ میں آنے والی باتیں کرنے لگا

میں دیکھ سکتا ہوں کہ کون کیا چاہتا ہے اور اب تو مجھے لوگوں کے دل کا حال بھی معلوم پڑنے لگا ہے ان کہی باتوں کی بھی سب سمجھ لگ جاتی ہے اور کہی کا کھوٹ اور جھوٹ بھی دکھائی دیتا ہے ، میں پاگل نہیں ہوں مگر کچھ لوگ مجھے پاگل بھی سمجھتے ہیں ، دراصل وہ مجھ سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس میرے سوالوں کا کوئی جواب نہیں

کیسے سوال ؟

اب کی بار اس نے بنا کچھ کہے بہت غور سے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر تھوڑی سی خاک اٹھا کر اپنے بالوں میں ڈال لی

میں نے پوچھا دوست ایسا کیوں کررہے ہو

یہی تو تم چاہتے تھے

اس لمحے مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ میری آنلھوں میں غور سے کیوں دیکھ رہا تھا اس نے پڑھ لیا تھا اس کو پتہ چل گیا تھا کہ میں بھی صرف ایک تماشائی ہوں

اور کچھ نہیں ۔ ۔ ۔

عزیررشید

SHARE

LEAVE A REPLY