بایاں انجن پھٹنے اور ونگ کو نقصان پہنچنے سے طیارہ گلائیڈ نہ کر سکا

0
172

پی آئی اے کا کریش ہونے والا جہاز گلائیڈ کیوں نہ کرسکا؟اس حوالے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے انٹیلی جنس ونگ کی ابتدائی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دوران پرواز جہاز کا بایاں انجن پھٹ گیا جس سے جہاز کے بائیں ونگ کو نقصان پہنچا۔

طیارے کے بلیک باکس کو ڈی کوڈنگ کے لیے اے ٹی آر کمپنی فرانس بھیجنے کے لیے کراچی پہنچا دیا گیا ہے، کریش ہونے والا اے ٹی آر طیارہ دونوں انجن بند ہونے پر گلائیڈ کرکے بھی لینڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی انٹیلی جنس یونٹ کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 4 بجکر 12 منٹ پر جب جہاز کے بائیں انجن میں خرابی پیدا ہوئی اس وقت جہاز کی بلندی 13 ہزار 375 فٹ تھی،موسمی حالات مکمل سازگار، درجہ حرات 23 ڈگری سینٹی گریڈ، ہوا میں نمی کا تناسب 44 فیصد اورحد نگاہ 16 کلومیٹر جبکہ ہوا کا رخ جنوب مشرق کی جانب تھا۔

ان موسمی حالات اور بلندی میں جہاز 15 سے 25 کلومیٹر تک گلائید کرسکتا تھا،لیکن جہاز نے گلائیڈ کیوں نہ کیا؟ زمین پر کیوں آن گرا؟

کیونکہ جہاز کا خراب ہونے والا انجن آگ لگنے سے چند ہی لمحوں میں پھٹ گیا، بائیں پر کو شدید نقصان پہنچا اور جہاز ہوا میں تیرنے کے قابل نہ رہا۔

ذرائع سے حاصل ابتدائی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کریش کی اصل وجہ بلیک باکس اور کاک پٹ ڈیٹا کے تجزیے کے بعد ہی سامنے آئے گی، تاہم یہ بات طے ہے کہ جہاز کا اسٹرکچر برقرار نہیں تھا، ورنہ جہاز گلائیڈ ضرور کرتا،تحقیقات شفاف بنانے کے لیے جہاز کے بلیک باکس کو ڈی کوڈنگ کے لیے اے ٹی آر کمپنی فرانس بھیجا جائے گا۔

سیکریٹری سول ایوی ایشن اتھارٹی عرفان الٰہی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شفاف تحقیقات کے لیے ایف ڈی آر یعنی ’بلیک باکس‘ اور کاک پٹ کی گفتگو کا ڈیٹا تجزیے کے لیے مینو فیکچرر کمپنی اے ٹی آر کے پاس فرانس بھیجا جائے گا، جائے وقوع پر موجود تمام شواہد کو ٹیگ کر دیا گیا ہے، ضروری کارروائی مکمل ہوتے ہی جائے وقوع سے طیارے کا ملبہ ہٹا دیا جائے گا۔

عرفان الٰہی نے کہا کہ انکوائری کرنا سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کا کام ہے، تفصیلی رپورٹ آنے پر ہی حادثے کی حتمی وجہ معلوم ہوسکے گی

SHARE

LEAVE A REPLY