جس عوام کو قومی سانحات متحد نا کر سکیں ؛از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم‎

0
317

سات دسمبر دو ہزار سولہ کی شام ، جہاز سی اے 661 کے حویلیاں میں 47 افراد بشمول دینی اسکالر محترم جنید جمشید کی ہلاکت کی خبر ایک بجلی کی طرح لواحقین پر گری ۔ لواحقین کا لفظ اس لیئے کہا ہے کہ باقی کی عوام تو فرقوں میں بٹی افسوس کی بجائے رائے دے رہی ہے کہ آیا کہ جنید جمشید اسکالر تھے بھی کہ نہیں ۔۔ اگر تھے تو کس پائے کے تھے ۔۔ آیا وہ شہید ہیں یا ہلاک ۔۔۔ جو کچھ بھی سوشل میڈیا کے توسط سے سامنے آیا وہ انتہائی دکھی کر گیا ۔۔ ان ساری جملہ بازیوں میں سب سے زیادہ تکلیف حکومت اور سربراہ سول اییشن اعظم سہگل کے اس بیان نے دی کہ ” ان کا خیال تھا کہ جہاز ایک انجن پر منزل تک پہنچ جائے گا” یہ غفلت قتل کے مترادف ہے پر سزا تو کمزور کے لئے ہوتی ہے ۔۔۔ سو کمزوروں کے لواحقین رو رو کر نڈھال نا جی رہے ہیں اور نا مر رہے ہیں کہ انہیں ابھی تک اپنے پیاروں کی راکھ بھی نا مل سکی ہے ۔۔۔

سوشل میڈیا ” فیس بک ” پر جیسے ایک میلہ سا لگا ہے سب اپنی اپنی سبزی ترکاری بیچ رہے ہیں ۔۔ میں نے بھی اپنی ریڑھی لگاتے ہوئے لکھا ۔۔۔ دوستو میں چاہتی ہوں کہ آپ بھی پڑھیں اور سوچیں کہ کیا جو لوگ اپنے وطن سے دور تلاش رزق کے لئے بدیسی زمین وں پر اترے ہوں کیا ان کا ناطہ اپنی جڑوں سے ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔ یا وہ کسی قومی سانحہ پر احتجاج کا حق نہیں رکھتے ۔۔

میرا فیس بک اسٹیٹس تھا ۔۔۔
ان کاش بائیس کڑوڑ پاکستانی عوام صرف ایک ایک جوتا ہی ہاتھ میں لے کرساری پارٹیوں کے ایک ایک لیڈر اور ورکروں کی طرف اچھال دیں تو یہ سارے بے غیرت بے حس ” جوتوں ” میں دفن ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن عوام اٹھے جب نا ۔۔۔۔
میرے مولا حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا ۔۔
“ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھو گے اتنی ہی زیادہ کوشش کرنی پڑے گی ”
اٹھو میرے وطن کے لوگو۔۔ کہیں دیر نا ہو جائے ۔۔۔ اپنے اپنے حصے کی روشنی پھیلانے کا وقت آگیا ہے ۔۔ ہواؤں کا رخ بدل چکا ۔۔۔۔۔۔۔دوستو

پہلا تبصرہ لندن سے جناب صفدر ہمدانی نے کیا ۔۔
“آپ کو یاد ہو گا میرا ایک پرانا کالم ہے، حکومت تو بے شرم ہے عوام اُس سے زیادہ بے شرم ہیں”
میں نے جواب میں لکھا ۔۔۔
” جی مجھے یاد ہے ۔۔ آپ نے ایک ہی نہیں کئی سو کالم اسی غم میں لکھے ہیں کہ عوام کیوں خاموش ہے”
پھر ایک ایسا تبصرہ آیا جس نے مجھے حیران کر دیا ۔۔ کیونکہ آصف بھائی بے حد منصف مزاج اور مثبت لب و لہجے میں اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں ۔۔ انہوں نے لکھا
” Syed Asif Abbas Gilani
جناب Safdar Hamadani صاحب! اللہ کا شکر ہے کہ آپ اِس ”بےشرم قوم“ کے رکن نہیں ہیں۔
پلیز! سب کو ایک ساتھ جھاڑو مت پھیریں۔ برطانیہ میں بیٹھ کر لفظوں کی توپ چلانا بہت آسان ہے۔ یہاں تشریف لائیں اور عملی قدم اُٹھائیں۔ پھر دیکھئے کیا مُول پڑتا ہے…. بسم اللہ
ہم نے اُموی اور عباسی ادوار کے مشکل ترین چھ سو سال خاموشی سے گزارے ہیں۔ مشیت ایزدی کیا ہے؟ صرف صاحب العصر عليه السلام کو علم ہے۔ جب امرِ الٰہی آن پہنچا تو پھر آپ سب مُشرکوں، مُنافقوں، بے دین اور بےشرم لوگوں کے سر ہوا میں اُڑتا دیکھیں گے۔ دُعا کریں کہ قائدِ ملت (عليه السلام) کا جلد ظہور ہو جائے۔

مجھے یقین ہے کہ جناب صفدر ہمدانی کو مجھ سے زیادہ اس بات پر دھچکا لگا ہوگا کہ وہ جب بھی کوئی تحریر لکھتے ہیں عمومی رویوں کے حوالے ہی سے لکھتے ہیں ۔۔ انہوں شدید دکھ میں لکھا
” Safdar Hamadani
Safdar Hamadani Syed Asif Abbas Gilani سیدی آپ کے اس لہجے پر تاسف ہوا
دعا گو ہوں آپ کے لیئے “

مجھے اس معاملے کو سلجھانا تھا ۔۔۔۔۔ میں دیر تک سوچتی رہی کہ آخر آصف بھائی نے اتنی شدت کا رویہ کیوں اپنایا ۔۔ کیوں وہ بات کی تہہ تک ناپہنچ پائے ۔۔ میں نے ہمت اور کوشش کر کے لکھا
” آصف بھائی میں سمجھتی ہوں کہ کوئی بھی لکھنے والا خواہ وہ صرف تبصرے ہی کیوں نا لکھتا ہو وہ بھی عمومی رویوں کی بات کرتا ہے ۔ آپ خود سوچیئے کیا پاکستان میں عوام کا رویہ شدت پسند نہیں ہے ۔۔ ؟ کیا وہ فرقوں میں بٹے ہوئے نہیں ہیں ۔۔؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں اجتماعیت ختم ہو چکی ہے ۔؟

آصف بھائی اس سارے تناظر میں زیادہ تر عوام ہی تو بے حس ہوتی ہے اور کیا بے حسی ” بے شرمی ” نہیں ۔۔۔؟ یہی پاکستان ہے نا جہاں سیالکوٹ میں میں دو بھائی انسانوں کے جم غفیر کے سامنے مار دیئے جاتے ہیں اور وہ وڈیو بناتے رہ جاتے ہیں ۔۔۔ یہ عوام ہی ہے نا جو جنید جمشید جیسے پاکستان کے آئی کون کو فرقے کی سولی پر چھڑھا کر اس کی موت کا مذاق اڑا رہی ہے ۔۔۔ میں جب اس کی حمایت میں کچھ لکھتی ہوں تو لوگ مجھے گالیاں دے کر چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ بے حسی بے شرمی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

پاکستان کی عوام جہالت کے اس اندھے کنویں میں جا گری ہے جہاں سے اب دعائیں بھی انہیں نکال نہیں پا رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ چونکہ انہی بے حسوں کے درمیان رہتے ہیں اس لیئے آپ کو محترم صفدر ہمدانی کا سچ اچھا نہیں لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ اسے کبھی حقیقت کی نظر اور صفدر ہمدانی کے لندن رہنے کو ایک طرف رکھ کر ایمانداری سے اور زمیداری سے دیکھئے تو آپ بھی وہی کہیں گے جو انہوں نے لکھا ہے ۔۔۔۔۔آئینہ دیکھنا اچھا اور کسی کا دکھانا اچھا نہیں لگتا کیونکہ وہ حقیقی تصویر جو ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم جیسے لوگ باہر رہنے سے پاکستان سے باہر نہیں ہوتے ۔۔ اور وطن سے باہر “آسانیاں ” اور ” تحفظ ” پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتا ۔۔۔ قیمت دینی پڑتی ہے اور ہم لوگ قیمت دیتے رہتے ہیں ۔۔ پاکستان کی عوام نے اگر اپنی آزادی کی اب بھی قدر نا کی تو ظاہر ہے ہم جیسے لوگ بھی کتنا اور لکھ سکیں گے ۔۔۔۔ پر شکر اللہ پاک کا ہم احتجاج کرنے والوں میں ہیں ۔۔ ظلم ہوتا دیکھ کر شور مچانے والوں میں ہیں ۔۔۔۔۔ اس چڑیا کی طرح ہیں جو اپنی ننھی سی چونچ میں پانی لے کر جنگل کی آگ بجھانے میں ہاتھ بٹا رہے ہیں ، یہ جانتے ہوئے کہ یہ آگ اسی وقت بجھ سکتی ہے جب جلنے والے خود ہاتھ پیر مار کر بجھانے والوں میں شامل نا ہو جائیں گے ۔۔۔۔ “

میں سوچ رہی ہوں جس عوام کو ” سانحات ” متحد نا کر سکیں اس عوام کو ” بے حس ” یا ” بے شرم ” یا ” بے غیرت ” تو کہہ سکتے ہیں پر ” قوم ” نہیں ۔۔ جب قوم نہیں ہیں تو ترقی پسند ، ترقی پذیر مہذب ہونا ۔۔۔ ؟

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY