غلام اسحاق خان صدرِ پاکستان منتخب ہوئے

غلام اسحاق خان20 / جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کرنے کے بعد 1940ء میں انہوں نے صوبہ سرحد کی سول سروس سے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ صوبہ سرحد کے ہوم سیکریٹری، سیکریٹری محکمہ خوراک، صوبائی ترقیات کے سیکریٹری اور کمشنر ترقیات رہے۔ ایسے ہی کئی اور عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد یکم فروری 1961ء کو انہیں واپڈا کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔

وہ اس عہدے پر 11 / اپریل 1966ء تک فائز رہے۔ انہوں نے وفاقی سیکریٹری مالیات، گورنر اسٹیٹ بنک اور سیکریٹری دفاع کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیکریٹری جنرل انچیف مقرر کیا۔

یہ عہدہ وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور ہی میں وہ وزیر خزانہ بھی رہے۔ مارچ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 17 / اگست 1988ء کو فضائی حادثہ میں جنرل ضیاء الحق کی ناگہانی موت کے بعد انہوںنے پاکستان کے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا۔ غلام اسحاق خان 12 / دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے، وہ اپنے اس عہدے پر 19 / جولائی 1993ء تک فائز رہے۔

انہوں نے اگست 1990ء اور اپریل 1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کو رخصت کیا اور یوں اپنے کیریئر کے آخری زمانے میں وہ ایک متنازع شخصیت کی شکل میں سامنے آئے۔ صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے اپنی عمر کا بقیہ حصہ پشاور میں بسر کیا۔27 / اکتوبر 2006ء کو پشاور ان کا انتقال ہوگیا اور وہ پشاور ہی میں یونیورسٹی ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان اور ستارۂ پاکستان کے اعزازات سے نوازا تھا۔
————————————————————————————————————-

ظہیر کاشمیری کی وفات

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب ظہیر کاشمیری 12 دسمبر 1994ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ظہیر کاشمیری کا اصل نام غلام دستگیر تھا اور وہ 21 / اگست 1919ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ادب کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔ ان کے شعری مجموعوں میں آدمی نامہ، جہان آگہی، چراغ آخر شب اور حرف سپاس کے نام شامل ہیں۔حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں، اُجالا ہے
————————————————————————————————————-

الیاس کاشمیری کی وفات

پاکستانی فلمی صنعت کے مشہور اداکار الیاس کاشمیری 12 / دسمبر 2007ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔
الیاس کاشمیری 25 / دسمبر 1925 کو لاہور میںپیدا ہوئے تھے۔ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا چنانچہ جب انہیں فلموں میں کام کرنے کا شوق ہوا تھا انہوں نے بمبئی کا رخ کیا۔ بمبئی میں ان کی ملاقات سہراب مودی کے بھائی رستم مودی سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنی فلم گل بکائولی میں ایک چھوٹا سا کردار دے دیا۔ اس کے بعد انہوں نے دو فلموں ملکہ اور عابدہ میں مرکزی کردار ادا کئے۔فلم ملکہ میں ان کی ہیرو شوبھنا سمرٹ تھیں جو مشہور اداکارہ کاجول کی نانی تھیں جبکہ فلم عابدہ میں ان کی ہیروئن سورن لتا تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد الیاس کاشمیری نے پنجابی فلم مندری سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ یہ فلم 28 / نومبر 1950ء کو ریلیز ہوئی تھی اور اس کے ہدایت کار دائود چاند تھے۔
اس کے بعد ریلیز ہونے والی فلم قسمت میں انہوں نے سنتوش کمار کے بڑے بھائی کے کردار میں بڑی عمدہ اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ اس فلم میں ان کا کردار تایا کا تھا جس کے بعد وہ پوری فلمی صنعت میں تایا جی کے نام سے پکارے جانے لگے۔
1954ء میں ہدایت کار ایم جے رانا کی فلم ماہی منڈا میں انہوں نے ولن کا کردار ادا کیا اور یوں ان کی فنی زندگی کے ایک نئے دورکا آغاز ہوا۔اس فلم کے فلم ساز باری ملک تھے جن کے ساتھ الیاس کاشمیری کی دوستی بعد میں رشتے داری میں بدل گئی اور الیاس کاشمیری کے بیٹے کے ساتھ باری ملک کی بیٹی کی شادی بھی ہوئی۔
الیاس کاشمیری نے بطور فلم ساز ایک فلم عشق پر زور نہیں بھی پروڈیوس کی تھی جس میں ان کی اداکاری کو بھی بہت سراہا گیاتھا۔
الیاس کاشمیری نے مجموعی طور پر 547 فلموں میں کام کیا جن میں سے بیشتر فلمیں پنجابی زبان میں بنائی گئی تھیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔
————————————————————————————————————-

احمد دائود کی وفات

اردو کے ممتاز ادیب احمد دائود 12 / دسمبر 1994ء کو راولپنڈی میں وفات پاگئے اور قبرستان موہن پورہ، کشمیر بازار، راولپنڈی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
احمد دائود یکم جون 1948ء کو راولپنڈی میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ ان کا شمار اردو کے جدید افسانہ و ناول نگاروں میں ہوتا تھا۔ ان کی تصانیف میں افسانوی مجموعے، مفتوح ہوائیں، دشمن دار آدمی، خواب فروش اور ناول رہائی شامل ہیں۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY