مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں قبطی عیسائیوں کے ایک چرچ میں بم دھماکے میں پچیس افراد ہلاک اور کم سے کم پچاس زخمی ہوگئے ہیں۔
مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز چرچ میں دعائیہ تقریب کے دوران بم دھماکا ہوا ہے۔ اس وقت دعائیہ تقریب ختم ہونے کے قریب تھی۔ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ کیتھڈرل کے خواتین والے حصے میں بارہ کلو گرام بارود کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔
فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے دار قبول نہیں کی ہے۔تاہم سوشل میڈیا پر داعش کے بعض حامیوں نے اس دھماکے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔داعش کے ایک حامی نے ٹیلی گرام مسینجر پر تین مرتبہ ”اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر ” لکھا ہے۔ ایک اور نے لکھا ہے کہ ”اللہ اس پر رحمت کرے جس نے یہ کام کیا ہے”۔
کیتھڈرل میں موجود ایک شہری عماد الشکری نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ”جونہی پادری نے ہمیں عبادت کی تیاری کے لیے کہا تو دھماکا ہوگیا۔ اس کے بعد ہال میں ہر طرف دھواں اور گرد وغبار تھا اور میں دروازے کو تلاش کرنے لگا لیکن مجھے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا”۔
مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں برسرپیکار داعش سے وابستہ جنگجو ماضی میں بھی قاہرہ میں متعدد بم حملے کر چکے ہیں۔گذشتہ جمعہ کے روز قاہرہ اور اس کے شمال میں دو بم دھماکوں میں چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY