پرتگال کے سابق وزیرِاعظم انتونیو گوتیرس نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔

وہ یکم جنوری 2017ء کو عالمی ادارے کے نویں سربراہ کی حیثیت سے باقاعدہ طور پر آئندہ پانچ سال کے لیے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری کے عہدے کی مدت پانچ سال ہے اور کوئی بھی شخص زیادہ سے زیادہ دو بار اس ذمہ داری پر فائز رہ سکتا ہے۔

گوتیریس جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے بان کی مون کی جگہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری بنے ہیں جن کے عہدے کی دوسری مدت 31 دسمبرکی شب پوری ہورہی ہے۔

گوتیریس نے پیر کو اقوامِ متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی کے سامنے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس سے قبل جنرل اسمبلی کے ارکان نے سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

گوتیرس کو جنرل اسمبلی نے رواں سال اکتوبر میں سیکریٹری جنرل کے عہدے پر منتخب کیا تھا۔ وہ اس سے قبل 1995ء سے 2002ء تک پرتگال کے وزیرِاعظم رہے ہیں جس کےبعد انہوں نے 2005ء سے 2015ء تک اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔

وہ عالمی ادارے کی 71 سالہ تاریخ میں پہلے سیکریٹری جنرل ہیں جو کسی حکومت کے سربراہ رہے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں بطور سربراہِ حکومت ان کا تجربہ عالمی ادارے کی سربراہی میں ان کے کام آئے گا۔

عالمی ادارے سے منسلک سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ انتونیو گوتیرس جلد ہی نائجیریا کی وزیر برائے ماحولیات امینہ محمد کو عالمی ادارے کا ڈپٹی سیکریٹری جنرل نامزد کریں گے جب کہ وہ اپنے چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریاں بھی کسی خاتون کو سونپنے پر غور کر رہے ہیں۔

امینہ محمد گزشتہ سال نائجیریا کی وزیرِ ماحولیات بنی تھیں جس سے قبل وہ بان کی مون کی خصوصی مشیر برائے ترقیاتی منصوبہ بندی کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY