محمد خالد مسعود رشتے میں میرے کیا تھے ۔۔۔ ؟ سات دسمبر دوہزار سولہ کی شام سے یہی سوچ رہی ہوں کہ آخر وہ میرے کیا لگتے تھے ۔۔ کیا وہ صرف میرے ماموں جان تھے ۔۔ کیا وہ میرے لیئے باپ مماثل سائیابان تھے ۔۔۔ کیا وہ میرے محترم استاد تھے ۔۔ کیا وہ میری نثرنگاری کے مداح تھے ۔۔ کیا وہ میرے دوست تھے ۔۔ میں کیا کروں مجھے یہ سب کچھ ان کی محبت ، شفقت کے سامنے چھوٹے لگ رہے ہیں ۔۔
وہ جو ہمیں ہنستے ہنساتے دنیا کی رمز سمجھا جایا کرتے تھے ۔۔۔ وہ جو ہر عمر میں ڈھل جایا کرتے تھے ہر ایک کی سہیلی ہو جایا کرتے تھے ۔۔ ۔۔ خط ایسے شگفتہ اور خوش خط کہ جیسے بند لفافے میں وقت بھیج دیا ہو ۔۔۔ دوستوں ، بھانجوں کے ساتھ کبھی پہاڑوں کی سیر کو جانے والے ، تو کبھی دریاؤں جھیلوں میں عکس زندگی تلاش کرنے والے ۔۔ فطرت کی ہر ادا پر نثار ۔۔ محبت اور عزت کرنے والے شوہر ۔۔ خوشیاں بانٹنے والے باپ ، بہنوں کے سامنے ڈھال ہوجایا کرتے ۔۔ میں اس وقت بھی سوچا کرتی تھی جب میں پنجاب میڈیکل کالج ، فیصل آباد میں پڑھا کرتی تھی اور اکثر چھٹی پر ماموں جی کےگھر عبدللہ پور آجایا کرتی تھی ۔۔ اور اس وقت ان یاداشتوں کو لکھتے ہوئے بھی یہی سوچ رہی ہوں کہ محمد خالد مسعود واحد اولاد نرینہ ہوتے ہوئے بھی اپنی بی بی جی اور باؤں جی کے بگڑے ہوئے بیٹے نہیں تھے ۔۔ ہائے مجھے تو آج پتہ چلا کہ انہوں نے زندگی میں صرف دو کام ہی کیئے تھے ۔۔ انسانوں سے محبت اور اپنے رشتوں کی حفاظت ۔۔۔

khalid-masood-1

پی کے 166سے ماموں جی سات دسمبر کی شام گھر واپس آنا چاہتے تھے اور پی آئی اے کا طیارہ فلائٹ نمبر سے چترال سے روانہ ہوئے اور ان کا طیارہ ساڑھے 4بجے کے قریب ایبٹ آباد کے قریب جگہ “ حویلیاں “ میں لاپتہ ہوگیا ، جس میں چترال سے اسلام آباد آنے والے 47افراد سوار تھے ۔ طیارہ فضا میں ڈولتا رہا ۔۔ اپنی ہی آگ میں جھلستا رہا اور حویلیاں آرڈیننس فیکٹری کے قریب پہاڑی علاقے میں گرتے ہی پاش پاش ہو گیا اور 47افراد ایک سیکنڈ میں یوں اس دنیا سے ناطہ توڑ گئے جیسے خواب میں آنکھ کھل جاتی ہے ۔۔ انہیں لوگوں میں میرے ماموں جان محمد خالد مسعود بھی راہ عدم ہوگئے ۔۔ گویا اس طیارے میں بدقسمتی سفر کر رہی تھی۔ان سے پیار کرنے والے دنیا کے الگ الگ نقشوں پر خاموش یہ سوچ رہے ہیں کہ کسے سب سے پہلے یقین آئے تو وہ باری باری اپنا یقین دوسروں میں تقسیم کر دے ۔۔ اسی خاموشی میں سات روز گزر گئے ۔طیارہ گرنے کے مقام سے اٹھتا دھواں میری آنکھوں کے منظر بدلتا رہا ۔۔

ایک ہلچل ہے جینے والوں میں
شہرِ خاموش بس گیا ہو گ
(دلشاد نسیم )

میں سوچ رہی ہوں کہ ان حکمرانوں کا تو نا کوئی اپنا کسی حادثے میں مرتا ہے اور نا ہی کوئی ان میں غریب ہوتا ہے ۔۔ انہیں نا ہی کسی کی بدعا لگتی ہے اور نا ہی کوئی نظر ۔۔خدا ہے ۔۔ ۔۔؟ انہیں کیسے پتہ چلے ۔۔؟ ۔ان کی مجرمانہ غفلت نے 44 گھروں میں صف ماتم بچھا دی ہے اور وہ کہتے ہو دعائے خیر کرو ۔ اور ہم بے صبرے ہیں ۔۔۔ ارے ہم تو صرف میت کے تبرک کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔ تحقیقات کے لیئے تیسرا جنم لینا ہو گا ۔۔میتوں میں ایک میت فیم ” دل دل پاکستان ” کے سابقہ گلوکار اور مذہبی اسکالر جنید جمشید کی بھی تھی ۔۔ پورے پاکستان میں دکھ اور رنج کے سات دن لہروں کی طرح ہچکولے دیتیں رہیں ۔مختلف لوگ یقیننا ایک جیسا نہیں سوچ سکتے لیکن قریب قریب تک پہنش ہی سکتے ہیں ۔۔ کوئی اس حادثے کو جنید جمشید کو مارنے کی سازش کہہ رہا تھا تو کوئی یہ کہہ رہا ہے پی آئی کی سازش ہے کہ وہ یہ سارے اونے پونے بیچنا چاہتا ہے ۔۔ تاکہ پاکستان کی قومی ایئر لائن نجی ایئر لائن میں بدل جائے اور یہ ٹھیکہ کسی اپنے کو ہی جانا تھا ۔۔ پر ہمارے ” اپنوں ” کی جان و مال کی قیمت پر کیوں ۔۔ ؟

khalid-masood2

سب ہی جانتے ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹے طیارے میں بھی دو انجن ہوتے ہیں ۔۔ اس بدقسمت طیارے کا ایک انجن پرواز سے پیشتر ہی خراب تھا ۔ صرف ایک انجن چل رہا تھا جس کے لیئے سول ایوییشین کے صدر اعظم سہگل نے ٹی وی پر کہا ” ان کو امید تھی کہ جہاز ایک انجن پر منزل پر پہنچ جائے گا ” ۔۔۔ جبکہ اس جہاز کے پنکھے کئی ماہ سے لینڈنگ کے دوران الٹا چلنا شروع ہو چکے تھے اور گواہ کے طور پر پائلٹس کی شکایت آن ریکارڈ لکھیں ہوئی ہیں ۔ کاش کوئی احساس کر سکے کہ کوئی جب کسی کے پیاروں کو ایسے لاوارث سمجھ لیتا ہے ۔۔ غفلت کی وجہ سے مار دیتا ہے ۔۔۔۔ پھر کندھے اچکا کر کہہ دیتا ہے کہ اللہ کو یہی منظور تھا ۔۔۔۔کیسے مان لوں یہ سب ۔۔۔جب خدا نے زندگی کو بچانے کی ہر ممکن ہدایت کی ہے ، سو ایسے ایسے بے حس لوگوں سے درخواست گزار ہوں کہ جب کبھی وہ بیمار ہو جائیں تو کسی ڈاکٹر کو نا دکھائیں ۔۔ اور جو کبھی کوئی ان کے سامنے اپنا مر رہا ہو تو ہاتھ باندھ کر ان کے مرنے کا انتظار کرتے رہیں کہ اللہ کو یہی منظور ہے ۔۔۔۔۔۔۔

انسانی جان کا جانا برحق ہے پر کیسے جائے گی اس پر دھیان دینا ضروری ہے ۔۔ ورنہ قتل ، خود کشی ، آسمانی اور حادثاتی اموات کا کا فرق مٹا دیجئے ۔۔مجھے دکھ ہوتا ہے اپنے لوگوں کو اتنی ارزانی کے ساتھ رہتا دیکھ کر ۔۔ مرتا دیکھ کر ۔۔ اپنے وطن اور ہم وطنوں کی سکھ سلامتی کی ہزاروں کڑوڑوں دعائیں مانگ رہی ہوں ۔
میرے عزیز دوستو۔۔۔
ہمیں دعاوں میں صرف مسلمانوں ہی کو نہیں بلکہ ہر ذی روح کو شامل کرنا چاہیئے ۔۔ کیونکہ ہماری بقا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے ۔۔ یہ بلکل ایسے ہی ہے کہ اگر سب ہی اچھے ہو جائیں گے تو انہین اچھا سمجھنے کا پیمانہ کیا ہوگا ۔ جیسے دکھ نا رہیں تو خوشیوں کا ذائقہ کیا رہ جائے گا ۔۔۔ دنیا کے رونق میلے ایک دوسرے سے ہیں ۔۔۔ ہمیں سب کی سکھ سلامتی کی دعا کرنی ہے تاکہ امید بندھی رہے اور ہمارے درمیان فاصلے مٹ جائیں ۔۔۔
یارب ۔۔
تو دلوں کے بھید جانتا ہے
ہم تجھ سے ہر انسان کی سکھ سلامتی کی دعا کرتے ہیں ۔۔۔
ہمیں کوئی دکھ ۔۔ کوئی سکھ تجھ سے دور نا لے جائے ۔۔

یارب کچھ تو بتا کہ اب کیاکروں ۔۔۔۔ ماموں جی کا چہرہ آنکھوں سے ہٹتا ہی نہیں ہے ۔۔ ویسے ہی ہنستے مسکراتے ۔۔ زیر لب کچھ کہتے ہوئے اور قہقہوں اور خوشیوں کی پھلجھڑیاں ساتھ ہی لے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسی عجیب شخصیت تھی ہر عمر والے کو اپنی عمر کے لگتے تھے ۔۔سینکڑوں کتابیں پڑھنے والے کمال ادبی انسان تھے ۔۔ اللہ پاک ان کے درجات بہت بہت بلند کرے ۔۔ الہی آمین ۔۔۔سوچ رہی ہوں جنت میں اپنی بہنوں کو مل گئے ہونگے ۔۔ اب وہاں رونقیں لگا لی ہونگی ۔ خالدہ کے “ باؤں“ اپنی بہن کی بیقراری پر ان کے باذووں میں سما گئے ہونگے ۔۔ کبھی سوچا ہی نہیں تھا یہ لمحات بھی آنے والے تھے ۔۔۔ یارب جانتی ہوں جانے والوں کو کون روک سکا ہے ۔۔ ۔۔ پر ایسے جانے پر نا جانے کا گمان تا حیات رہے گا ۔ ۔۔ حکومتوں کے لیئے ہم انسان صرف نمبرز ہوتے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ۔۔ سوچ رہی ہوں جتنے پیسے لواحقین کو دیتے ہیں ۔۔ جتنا حادثات کے ٹکڑوں کو سمیٹنے پر لگاتے ہیں۔۔ یہی پیسے طیارے کی دیکھ بھال اور معیار پر کیوں نہین لگاتے ۔۔۔

کاش ۔۔۔ ہائے کاش ۔۔ ایسا نا ہوا ہوتا ۔۔ ان کی بیوہ “ شہنا ز “ اور ان کے یتیم بچوں کے چہرے میری آنکھوں میں آنسوؤں کی طرح آ بیٹھے ہیں ۔۔۔ ہائے دکھی دل اپنے پیاروں کی لاش کیسے پہچانیں گے ۔۔۔ کوئلے ہیں کہ سیاہ ہڈیاں ۔۔۔کوئی بھی تو نا جان سکے گا ۔۔ تو پھر چلو ایسا کرتے ہیں کہ تم میرے پیارے کا جنازہ کندھوں پر لے چلو اور ہم تمہارے پیارے کوسر آنکھوں پر اٹھالیتے ہیں ۔۔۔ پر روئیں گے اپنوں اپنوں کو ۔۔ وہ ہمارے پیارے جو دن کا نور اور رات کا سکون ہوا کرتے تھے ۔۔ جن کے ہونے سے ڈرکبھی خوفزدہ نا کر سکا تھا ۔۔ اب وہ تبرک کی طرح ہماری جھولیوں میں ڈالے جائیں گے ۔۔۔

تبرک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہائے ۔۔ یہ کیا
بس ۔۔ اتنا سا ہی
ظالم لوگ
تبرک دیتے ہوئے بھی
کتنی کنجوسی کر جاتے ہیں
میں نے بھلا کب سوچا تھا
لاش بھی
تبرک جیسی ہوتی ہے
کبھی پوری ملتی ہی نہیں

(ڈاکٹر نگہت نسیم)

دوستو ۔۔ !
میرے ماموں خالد مسعود جہاز سی 661 کے حادثے میں 7 دسمبر 2016 کی شام ہم سب سے ہمیشہ کے لیئے بچھڑ گئے تھے پر اپنےگھر آج لوٹے تھے ۔۔ پورے سات دنوں کے بعد پندرہ دسمبر کی دوپہر کو ۔۔ ۔پر یہ کیا زرا دیر کو رکے بھی نہیں اور الٹے پیر شہر خموشاں کو چل دئے ۔۔اف نا دیکھا نا نظر اٹھائی ۔۔ کوئی ایسے بھی جاتا ہے بھلا۔۔

ماموں جی آپ کو کوئی پہچان پایا یا نا نہیں پر آپ ہمیشہ پیار کی پہچان اور شفقت کا معیار بن کر ہمارے دلوں میں آخری سانس تک رہیں گے ۔۔۔
خدا پاک آپ پر ہمیشہ مہربان رہے۔۔
الہی آمین
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

2 COMMENTS

  1. بہت خوبصورت تحریر ایک بہترین انسان کے لیے پر پھر بھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوگا

LEAVE A REPLY