بنو حنیفہ کا وفد اورعدی بن حا تم کا قصہ

گزشتہ نشست میں ہم مختلف وفو د کی آمد کے با رے میں با ت کرر ہے تھے جن کا نو ہجری اور دس ہجری کے پو رے سا ل تانتا بندھا رہا۔حتیٰ کہ حضو ر (ص) حجة الوداع کےلئے تشریف لے گئے۔ہم بخو ف ِ طوالت ان سب کا ذکر نہیں کر رہے اور نہ ہی دوسرے سیرت نگا روں نے کیا ہے۔ لہذا صرف چیدہ چیدہ وفود پر اکتفا کر رہے ہیں خصوصا ً جن میں امت کےلئے کوئی سبق حضور (ص) نے چھو ڑا ہے ۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں ۔

وفدِ بنو حنیفہ: تا ریخ کے اعتبا ر سے سب سے زیادہ متنا زع یہ وفد ہے اس کو کچھ مو رخین نے 8 ھ سے پہلے بتا یا ہے اور کچھ لو گوں نے10 ھ بتا یا ہے مگر چو نکہ امام بخاری (رح) نے اس کو مختلف حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ دس ہجری کا واقعہ ہے لہذا ہم اس کو یہا ں درج کر رہے ہیں واللہ عا لم ۔ مگر سب ایک با ت پر متفق ہیںکہ بنو حنیفہ کا ایک وفد آیا جو کہ انصار میں سے ایک خا تو ن بنت ِ حا رث کے یہا ں قیام پزیر ہوا ۔اور لو گ تو حضور (ص) سے ملا قا ت کر نے کےلئے چلے گئے، مگر مسلمہ کو اپنی اونٹوں کی نگہدا شت کے لیئے چھو ڑ گئے بعد میں وہ لوگ وہاں جا کر ایما ن لے آئے۔ اور جب حضو ر (ص) نے ان کی تا لیف ِ قلو ب کے لیئے پانچ پانچ ا وقیہ چا ندی عطا فر ما ئی توانہیں اس کا خیا ل آیا ،لہذا انہو ں نے اس کا ذکر کیا اور حضور (ص) نے اس کو بھی حصہ یہ کہہ کر عطا فرمایا کہ اس کےلئے بھی یہ ہی حکم ہے جو تمہا رے لئے ہے۔اور مزید فر ما یا کہ اس کی جگہ برُی نہیں ہے ، جس سے آپ کی مراد سیر ت نگا روں کے مطا بق یہ تھی کہ وہ بھی اپنے سا تھیوں کے سا مان کی حفا ظت کر رہا اس کی جگہ بھی برُی نہیں ہے۔ مگر اس نے حضور (ص) کے اس جملہ کو پکڑ کر ارتداد کی بنیا د رکھی اور وہ یما یمہ جا تے ہو ئے مرتد ہو گیا۔ جبکہ وہ بھی اہلِ وفد کے سا تھ مسلما ن ہو گیا تھا اور کہنے لگا تم لو گ اس کے معنی نہیں سمجھے۔ اس میں یہ راز مضمر ہے کہ حضور (ص) نے فر ما یا کہ میں بھی ان کے سا تھ رسا لت میں شریک ہوں اور قرآن جیسے انداز میں جعلی آیا ت لو گوں کو سنا نے لگا۔ اس کو مزید جلا اپنے ایک اور ہم قبیلہ سے ملی جو کہ قر آن سیکھنے کےلئے رک گیا تھا اور اس کا نا م رحال بن عنقوہ تھا وہ ایک دن حضرت ابو ہریرہ اور حضرت فرات بن حیان کے سا تھ بیٹھا تھا کہ ادھر سے حضو ر (ص) کا گزر ہوا تو حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ ” تمہا ری ایک دا ڑھ جہنم میں ہو گی “اس کو سن کر دو نوں بہت ہی خائف ہو گئے ،اور عمر بھر خا ئف رہے حتیٰ کہ وہ دا ڑھ ظا ہر ہو گئی، جس کی طرف حضور (ص) کا اشا رہ تھا یعنی رحا ل وا پس جا کر مر تد ہو گیا۔ اور اس نے کچھ حصہ قر آن کا اس کو پہنچا دیا جس کو اس نے اپنے نا م سے منسو ب کر کے لو گوں کو سنا نا شروع کر دیا ۔جو کہ بعد میں جنگ یما مہ کے مو قعہ پر مسلمہ کذاب کے سا تھ ہی جہنم رسید ہو ا ۔جب مسلمہ کذا ب نے اپنی جڑیں کا فی مظبو ط کر لیں اور بنو حنیفہ اس پر ایمان لے آئے یعنی مر تد ہو گئے۔ تو اس نے اپنے دو سفیر حضور (ص) کی خدمت ِ اقدس میں بھیجے اور جب وہ با ر یا ب ہو ئے تو حضو ر (ص) کے ہا تھ میں ایک چھڑی تھی جس میں صرف چند پتے تھے ۔اس کو ہلا تے ہو ئے حضور (ص) نے فر ما یا کہ اگر وہ مجھ سے یہ ٹہنی بھی ما نگتا تو میں وہ بھی نہ دیتا۔ اور ان سے پو چھا کہ کیا تم اس کو نبی ما نتے ہو؟ تو انہوں نے کہا ہاں ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔تب حضو ر (ص) نے فرمایا کہ اگر سفیروں کو قتل کر نے کا رواج ہو تا تو میں تم دو نوں کو قتل کر دیتا ۔یہ واقعہ ابن ِ اسحاق نے حضرت سہیلی اور حضرت ابن ِ بکیر کے (رض)حوالے سے تحریر کیا ہے اور سا تھ ہی وہ خطو ط بھی جو مسلمہ کذا ب اور اس کے جوا ب پر مشتمل ہیں ۔ مسلمہ نے لکھا تھا”مسلیمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد (ص) رسو ل اللہ کی طر ف،اما بعد مجھے آپ کے سا تھ شریک ِ امر کیا گیا ہے،پس ہما رے اور قریش کے لیئے نصف نصف حکو مت ہے۔لیکن قریش ایسی قوم ہے جو زیا دتی کر تی ہے لہذا آپکی طر ف دو ایلچی یہ خط لیکر آرہے ہیں ۔اس کے جوا ب میں رسول (ص) اللہ نے جو جواب تحریر کرا یا وہ درج ِ ذیل ہے ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

”محمد (ص) رسو ل اللہ کے طر ف سے ، مسلیمہ کذا ب کی طر ف،ہدایت کی پیروی کر نے والوں پر سلا متی ہو ِ اما بعد زمین کا ما لک اللہ تعا لیٰ ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا تا ہے اور انجا م متقین کے لیئے ہے “۔

یہاں یہ امر دلچسپی سے خا لی نہیں ہے کہ وہ بھی آپکو (ص) رسول اللہ ما نتا تھا۔ جیسا کہ اس کے خط سے ظا ہر ہے مگر ختم نبو ت ان معنی میں نہیں ما نتا تھا جن معنی میں مسلما نوں کا اجما ع ہے کہ حضور (ص) کے بعد کو ئی نبی نہیں آئے گا اور حضو ر (ص) اس سلسلہ کی آخری کڑی ہیں۔ لہذا حضو ر (ص) نے اسی کو ہی نہیں اس کے سفیروں کو بھی واجب القتل قرار دیا ۔ دوسری با ت یہ تھی کہ اس نے جو آیا ت کی طر ح عبا رت گھڑی تھی اس میں اسلام کی تما م بنیا دی ارکان سے بھی چھوٹ تھی ۔جو لوگوں کو خو ش آئند تھیں۔ نہ نما ز نہ رو زہ نہ حج نہ زکات۔ جیسے کہ آج کل کے زما نہ میں اسلام میں ما ڈرن ازم کے نا م پر وہ مو شگا فیاں لو گ کر رہے ہیں کہ کسی ترکیب سے حلال اور حرا م کی کا فر ق مٹ جا ئے۔ تو سب اسی کے تا بع ہو جا ئیں ،اور اس با ت کو قطعی بھو ل گئے کہ جو حضو ر (ص)نے طا ئف کے وفد کے جواب میں کہی تھی ۔انکا مطا لبہ تھا کہ نما ز ہما رے لیئے ایک سا ل کےلئے ملتوی کر دی جا ئے ۔تو حضور (ص)نے فر ما یا کہ ”اس دین میں کو ئی بھلا ئی نہیں جس میں رکو ع نہیں “ اور وہاں یہ عالم تھا کہ ابن ِ بیہقی (رح) کے مطا بق ایک صحا بی جب بنو حنیفیہ کی مسجد کے پا س سے گزرے تو امام کو کچھ ایسی عبا رت پڑھتے سنا جو قر آن میں کہیں نہیں تھی۔ ” اور قسم ہے آٹا پیسنے والیوں کی اور آٹا گو ند ھنے والیوں کی اور روٹی پکا نے والیوں کی اور ثرید بنا نے والیوں کی اور لقمہ لینے والیوںکی“ یا ”اللہ تعالی ٰ نے حا ملہ عو رتوں پر رحم فر ما یا ان سے وہ جا ن نکا لی جو دو ڑتی پھر تی ہے،جو ایک جھلی اور رحم ِ ما در کے در میان میں ہو تی ہے اور شراب و زنا کو لو گوں کےلئے حلا ل کر دیا اور نما ز کو معا ف کر دیا “ اس پر بنو حنیف نے اس لیئے شاید اتفا ق کر لیا کہ یہ دین آسان تھا۔

عدی بن حا تم کا قصہ : یہ شخص مشہو ر مخیر حا تم کا بیٹا تھا ۔ اور حضو ر (ص) سے سخت متنفر تھا اسلئے کہ اس کا رتبہ اپنے علا قے میں با د شا ہوں جیسا تھا اور یہ مذہبا ً نصرا نی تھا ۔ اس علا قہ میں وہ لو گوں سے چو تھا ئی حصہ پیدوار میں وصول کر تا تھا ۔ چو نکہ اسے اپنے مفادات عزیز تھے لہذا یہ ہی وجہ نفرت تھی۔ مگر خو د میں ان سے مقا بلہ کر نے کی طا قت بھی نہیں تھی ۔لہذا اس نے اپنے غلا م کو کہہ رکھا تھا کہ جیسے ہی تجھے کو ئی خبر محمد (ص) کی فوج کے بارے میں ملے تومجھے بتا نا۔اور اچھے اچھے اونٹ چھا نٹ کر اپنے پاس رکھ لینا تا کہ فرا ر میں آسا نی رہے ۔ایک دن اس کے غلا م نے آکر بتا یا کہ تجھے جو کچھ کر نا ہے وہ کر کیو نکہ میں نے کچھ جھنڈے والے سوار دیکھے ہیں ۔جو محمد (ص) کو اپنا رہبر کہتے ہیں لہذا وہ گھبراہٹ میں اپنے اونٹ اور ما ل متا ع لیکر شا م کی طر ف فرار ہو گیا، اور اس گھبر اہٹ میں اس کی بہن پیچھے رہ گئی ۔ جو سوار پیچھا کر رہے تھے انہیں جل دے کر خود تو نکل گیا ،مگر اس کی بہن گر فتا ر ہو گئی ۔ اس کو مسجد ِ نبو ی (ص) میں لا کر رکھا گیا ۔جہاں اور بھی قیدی تھے ۔جو مختلف سرا یا میں قید ہو کر آئے تھے ۔ایک روز حضو ر (ص) کا جب ادھر سے گزر ہو اتو وہ کھڑی ہو گئی اور دہا ئی دینے لگی حضور (ص) رک گئے ۔ پو چھا تو کو ن ہے اور کیا ما جرا ہے ؟اس نے عرض کیا میں حاتم کی بیٹی ہو ں ۔با پ مر گیا چھڑا نے والا فرار ہو گیا ۔پس آپ مجھ پر احسان فر ما ئیں اللہ تعا لیٰ آپ پر احسان فر ما ئے گا۔حضو ر (ص) نے پو چھا کہ تمہا را چھڑا نے والا کو ن تھا ؟ تو اس نے عدی بن حا تم کا نا م لیا ۔حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ وہی جو خدا اور رسول (ص) سے بھا گنے والا ہے۔لہذا حضور (ص) نے کہا کہ جا میں نے تجھ پر احسان کیا اور اسوقت حضور(ص) کے سا تھ علی کرم اللہ وجہہ بن ابی طا لب بھی تھے، اور فرمایا کہ تو جا نے کی جلدی نہ کر جب تجھے کو ئی قا بل ِ اعتبا ر آدمی مل جا ئے تو اس کے سا تھ چلی جا نا ( تب تک تو ہما ری مہمان ہے) یہاں تک کہ قبیلہ بلی یاقضا عہ کی ایک جما عت آگئی جو شا م جا رہی تھی ۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے سوچا کہ میں اپنے بھا ئی کہ پا س شام چلی جا ؤں۔ لہذا میں نے درخواست کی۔ حضو ر (ص) نے مجھے جیب خر چ اور سواری کے لیئے اونٹ مر حمت فر ما یا اور میں قافلے کے سا تھ شا م روانہ ہو گئی۔

باقی آئندہ

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY