امریکہ کے محکمۂ دفاع کے حکام نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اگست میں کابل میں کئے گئے ڈرون حملے میں، جس میں غلطی سے بے گناہ شہری اور بچے ہلاک ہوئے تھے، کسی بھی اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔
امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگان کے مطابق سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے مستقبل میں اس قسم کے حملے کے لیے امریکہ کے سینٹرل کمانڈ اینڈ اسپیشل آپریشن کمانڈ کے جنرلز کی جانب سے دی گئی سفارشات کو منظور کیا ہے۔
یہ سفارشات پینٹاگان کے غیر جانب دار معائنہ کاروں کی جانب سے دی گئی تجاویز پر مبنی ہیں جو گزشتہ ماہ ریلیز کی گئی تھی۔
پینٹاگان کے ترجمان جان کربی کے مطابق ان سفارشات میں حملے میں ملوث اہلکاروں کو سزا دینے کی تجاویز شامل نہیں تھیں۔
ائیر فورس کے لیفٹننٹ جنرل سمیع سعید نے اس تحقیقات کے دوران کہا تھا کہ اس حملے میں رابطے میں تعطل پیدا ہوا تھا اور بمباری کے عمل کے دوران ہدف کی شناخت اور تصدیق میں مسائل پیدا ہوئے تھے جس کی وجہ سے 10 شہری، جن میں سات بچے بھی شامل تھے، ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ تجاویز جنہیں لائیڈ آسٹن کی حمایت بھی حاصل ہے میں کہا گیا تھا کہ یہ حملہ ایک المناک غلطی تھا اور اس کے دوران کسی اہلکار کی جانب سے بدانتظامی یا غفلت سامنے نہیں آئی ہے۔












