عالمی اخبار کے ہم سفر

8
65122

عالمی اخبار ایک ادارے کا نام ہے جہاں فکر کی نشو و نما کے لیئے  ایک دوسرے سے سیکھنے کا شوق سب کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دوسرے سے ناصرف قریب رکھتا ہے بلکہ خیال کی ڈوری میں پروئے بھی رکھتا ہے ۔ ایک عشرے سے زیادہ کا عالمی اخبار کی کامیابی کا سفر کیسا رہا وہ قاریئن کے سامنے ہی ہے لیکن اس خوبصوت اخبار کو ہم آپ تک کبھی پہنچا نہ پاتے جو ہمارےدوستوں کا ساتھ نہ ہوتا ۔۔۔۔ آیئے آپ بھی ان سے سے ملیں ۔۔ اور ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر ان احباب کا اور ان کے اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی بلامفاد مساعی پر عالمی اخبار تاحیات نازاں رہے گا ۔۔صفدر ھمٰدانی۔”مدیر اعلیٰ”۔عالمی اخبار

مدیر اعلی۔ صفدر ھمدانی

معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج سے گریجوایشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسروابستہ ہوگئے.

صفدر ھمٰدانی نے  ریڈیو پاکستان میںاپنی ملازمت  کے دوران ریڈیو کی اکیڈیمی کے علاوہ ریڈیو ہالینڈ اور تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات سرانجام دیں .انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ’ کفن پہ تحریریں’ 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں ‘فرات کے آنسو’…مرثیوں کا مجموعہ….نورِ کربلاعزائی شاعری پہ تحقیق… اور’معجزئہ قلم’رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ… فروری 2004 میں شائع ہوا

انکی تالیف اور تدوین”کلیات حسین”  حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔

اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ” تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا”  شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک”زینت ہستی” ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ”عطائے رضا” کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ ” رو رہا ہے آسماں” مرثیوں کاایک اور مجموعہ اورغزلوں کے مجموعے” بادل۔چاند اور میں ” اور” گونگی آنکھیں” زیر ترتیب ہے۔

مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان(کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)،نیدرلینڈ،ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی میں فرینکفرٹ ،برلین،فشتہ، سٹٹگارٹ،فرانس،ناروے،،سویڈن میں سٹاک ہولم اور لن شاپنگ، ڈنمارک ،یونان،دبئی،ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی،ہیوسٹن،فلوریڈا،نیوجرسی،کینڈا میں وینکور اور ٹورنٹو۔۔شام, مصر ، فن لینڈ اور آسٹریلیا میں سڈنی اور میلبورن کے علاوہ آسٹریا میں ویانہ اور کویت جیسےملکوں اورشہروں کا سفر کر چکے ہیں ۔

 

ماہ پارہ صفدر۔ مدیر حالات حاضرہ ۔ عالمی اخبار

لندن میں بی بی سی کی اردو سروس سے منسلک ماہ پارہ صفدر نشریات کی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سرگودھا سے اور اعلیٰ تعلیم جامعہ پنجاب سے حاصل کی جہاں سے انہوں نے انگریزی کا ایم اے کیا اور پھر لندن یونیورسٹی سے وئیمن سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری لی

پاکستان میں ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کی نیوز کاسٹر کے حوالے سے انکی دنیا بھر میں شناخت ہے انکی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز لاہور ریڈیو سے اور پی ٹی وی کے لاہور مرکز سے ہوا اور بعد وہ ریڈیو کے مرکزی بیوز روم اسلام آباد اور پی ٹی وی اسلام آباد سے منسلک رہیں

انیس سو نوے کے اوائل میں انکو بی بی سی اردو سروس لندن کے لیئے منتخب کیا گیا جہاں وہ آج تک مصروف کار ہیں

نشریات کی دنیا میں خدمات کے طور پر اندرون متعدد ایوارڈ مل چکے ہیں

ماہ پارہ صفدر کئی برسوں سے شعر گوئی کے تخلیقی عمل کو اپنائے ہیں لیکن انہوں نے شاعری کی بجائے نشریاتی دنیا کو اپنی پہچان بنایا ہے اور شاعری کو فقط اظہار کے ایک میڈیم تک ہی محدود رکھا ہے۔ انکے والد سید حسن عباس زیدی،سسُر مصطفیٰ علی ھمدانی اور شوہر صفدر ھمدانی ادبی دنیا میں اپنی شناخت رکھتے ہیں لیکن ماہ پارہ صفدر کی ادبی دنیا میں اپنی الگ انفرادیت ہے

ٹی وی ریڈیو کی یاداشتوں پر مشتمل بی بی سی کی ان لائن سیریز کی مقبولیت کے بعد ان دنوں وہ ان یاداشتوں کو کتابی صورت دینے میں مصروف ہیں جو جلد ہی شائع ہو گی

عالمی اخبار پر انکے خبری تجزیے شائع ہوتے رہتے ہیں

ڈاکٹر نگہت نسیم۔”نائب مدیر”۔عالمی اخبار

میں خوش نصیب ہوں جب میں ٹیم میں شامل ہوئی تو بابا نے میرا تعارف کچھ یوں لکھا تھا ۔۔ ان کا لکھا ہوا میرے لیئے سند ہے ۔۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم پیشے کے اعتبارسے ماہر نفسیات ہیں اور اردو ادب اور صحافت پر بھی دسترس رکھتی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں اور انکے افسانوں کے دو مجموعے”گرد بادِ حیات” اور ”مٹی کا سفر” شائع ہو چکے ہیں لیکن نظم نگاری میں انکا منفرد اور بے باک انداز اظہار انہیں عہد حاضر کے نظم نگاروں میں ممیز کرتا ہے۔  انہیں اس امر کا ادراک ہے کہ انکا مزاج غزل گوئی کا نہیں اس لیئے انہوں نے غزل کے مصرعے زبردستی جوڑنے کی بجائے حقیقی اور خالص نظم لکھنے پر ہی خود کومرکوز رکھا ہے ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم میرا جی کے بعد نظم کو غزل کے مقابلے میں اسکا کھویا ہوا وقار واپس دلوانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ جس کی گواہی ان کی نظموں کا مجموعہ “‌سفید جھیل ہے “‌۔۔ انکے افسانے پاکستان اور بیرون پاکستان کے  ادبی جریدوں میں برسوں سے شائع ہو رہے ہیں۔ ان کا کالموں کامجموعہ “‌یہی دنیا ہے  یہیں کی باتیں “‌ بھی منظر عام پر آچکا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ اور نظموں کا دوسرا مجموعہ زیر طبع ہے ۔

نگہت نسیم سڈنی میں ایک عرصہ سے ریڈیوایف ایم 100.9 کی اردو سروس کے پروگرام “ ریڈیو دوستی “ کی میزبان رہی ھیں اور آج کل ریڈہو  سڈنی   2000 – 98۔5 ایف ایم سے منسلک ہیں اور پروگرام “‌دوستی “‌کی میزبان ہیں ۔ اٍس کے ساتھ ساتھ ملٹی کلچر آرٹس کی جانب سے ٹی وی ایس پر یش کیا جانے والا پروگرام “ دیسی ٹی وی “ میں بھی میزبانی کرتی رہی ھیں ۔ آج کل   ایرانی ” ٹی وی سحر”  پر مختلف سماجی، علمی،ادبی اور طبی مسائل پر ماہرانہ رائے دیتی ہیں

شمس جیلانی۔”معاون مدیر ، بیورو چیف،کینیڈااور مدیر دینی امور”۔عالمی اخبار

اردو زبان کو بیرونی ممالک میں زندہ رکھنے کے لیئےادیبوں،شاعروں اور محققین  نے علم و ادب اور تحقیق و جستجو کی جو شمع روشن کر رکھی ہے اس کے ذریعے وہ دراصل ایک ایسا جہاد کر رہے ہیں جو جہاد بالقلم ہونے کے ناطے جہاد بالسیف سے بہت افضل ہے اور  شمس جیلانی اس فہرست میں صف اول کے لکھاریوں میں شامل ہیں اور لکھنے والوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی عمر کی دھونس جمانے کی بجائے اپنے مطالعے اور اپنی تحریر سے دل میں گھر کرتے ہیں۔

اسلامی موضوعات پر انکی تحریریں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں اور اسی طرح انکی شاعری میں بھی مسلم امہ کے لیے ایک تڑپ موجود ہے

عالمی اخبار میں انکی شرکت اور قلمی تعاون ہم سب کے لیئے باعث عزت اور باعث رہنمائی ہے۔

شمس جیلانی صاحب کی شائع شدہ کتب میں ‘‘ سورہ فاتحہ اور اس کے تقاضے،اسلام اور حقوق العباد،قصے مخلصین کے،حضرت امداد اللہ مہاجر مکی اور ہفت مسائل،صدا بہ صحرا،گمان معتبر،اتم ہے انسان، بنیادیات ذیابیطس اور تازہ کتاب سیرت النبی صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم،روشنی حرا سے شامل ہیں۔

ظفر معین بلے جعفری بیورو چیف پاکستان

ظفر معین بلے جعفری ایک ادیب ، شاعر ، دانشور ، صحافی ، تجزیہ کار ، اردو ادبیات کے استاد ، مقرر اور متحرک شخصیت ہیں ۔سوشل میڈیا پر بھی دن رات سرگرم نظر آتے ہیں ۔ادب کا ذوق و شوق انہیں اپنے والد بزرگوار سے ورثے میں ملا، جسے انہوں نے اپنی توانائیوں کو بروئے کار لاکرخوب جلابخشی ۔
ظفر معین بلے جعفری کا تعلق ایک معروف روحانی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ان کاشجرہ ء نسب عظیم روحانی بزرگ سلطان الہند خواجہ ء خواجگاں حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے ہوتا ہوا مولائے کائنات حضرت علی المرتضی ٰعلیہ السلام اور اُم ابیھا حضرت فاطمۃ الزھرا بتول بنت رسول سلام اللہ علیھا سے جاملتا ہے ۔ ظفر معین بلے جعفری کے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے مرحوم دنیائے ادب و ثقافت کاایک بڑا نام ہیں ۔ وہ اب اس دنیامیں نہیں لیکن اپنے چاہنے والوں کےدلوں میں آج بھی زندہ ہیں ۔اشفاق احمد ، این میری شمل ، پیرحسام الدین راشدی اور ڈاکٹروزیرآغا انہیں تصوف پر اہم اتھارٹی کہتے اور سمجھتے تھے۔وہ ایک ایسے صحافی تھے ،جن کی زیرادارت پندرہ سے زیادہ جرائد شائع ہوئے۔ وہ ڈیڑھ سو سے زیادہ مطبوعات کےمولف تھے، یہ کتابیں ، کتابچے اور بروشرز اردو ، انگریزی ، فارسی اور ہندی میں مرتب کی گئیں ۔ادب و ثقافت کی ترویج و ترقی کیلئے بھی انہوں نے اہم خدمات انجام دیں ۔ظفر معین بلے جعفری انہی کے رستے کے مسافر ہیں۔اپنے باپ کی طرح شہرت سے گریزاں نظرآتے ہیں ،البتہ دوسرے لوگوں کی ادبی کاوشوں کو دل کھول کر سراہتے ہیں اور ان کی تشہیر کا سوشل میڈیا پرخوب چرچا کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
ادب و صحافت ، درس و تدریس اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں۔ ماہنامہ ادب لطیف ۔ لاہور اور ہفت روزہ آوازِ جرس لاہور جیسے مقبول ادبی جرائد کے دس ، دس برس سے زائد عرصےتک مدیر بھی رہے۔ ملکی وغیر ملکی اخبارات و جراٸد میں ان کے کالمز ۔مضامین اور قطعات بھی گزشتہ پچیس برس سے شائع ہورہے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے مشاہیرِ ادب کے ساتھ ان کے مکالمے بھی اخبارات و جرائد کی زینت بنتے رہے ہیں ۔اپنے والد سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی مشاہیر ادب کے ساتھ رفاقتوں کی داستانیں یا ذاتی مراسم کی یادیں اور باتیں بھی وہ رقم کرتے رہے ہیں۔
ان کے والد سید فخرالدین بلے نے ادبی تنظیم قافلہ بنا رکھی تھی ،جس کےماہانہ بنیاد پر پڑاٶ بارہ برس سے زاٸد عرصے تک ان کی بیٹھک میں ہوتے رہے ، میزبان توان کے والد ہی تھے لیکن مہمان داری کا فریضہ ظفر معین بلے جعفری ہی انجام دیا کرتے تھے ۔پاکستان۔بھارت اور دنیا بھر کے ہزاروں شعرإ۔ ادبا ، ناقدین ، گلوکاروں اور مصوروں اور فنون لطیفہ سے وابستہ نامور شخصیات قافلے کے پڑاٶ میں شریک ہوتی رہی ہیں ۔ یہ لاہور کی ادبی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور ظفر معین بلے جعفری اس کی جھلکیاں وقتاً فوقتاً تحریروں اور یادگار تصویروں کی صورت میں دکھاتے رہتے ہیں ۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے ظفر معین بلے جعفری کی والدہ ماجدہ محترمہ مہر افروز بلے صاحبہ بھی ایک بہت زیادہ ادب نواز خاتون تھیں ان کے بانو قدسیہ ۔ صدیقہ بیگم ۔ ادا جعفری ۔ الطاف فاطمہ ۔ منصورہ احمد ۔ بیگم مسعود اشعر ۔ افضل توصیف اور بیگم انتظار حسین ، سیما ٕپیروز اور ساٸرہ ہاشمی جیسی نامور ادبی و مجلسی خواتین سے ذاتی ، گھریلو اور دوستانہ مراسم رہے۔
ظفر معین بلے جعفری آٹھ بہن بھاٸیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ ان سے بڑے تین بھاٸی صاحبان سید انجم معین بلے ۔ سید عارف معین بلے اور آنس معین دنیاٸے شعر و ادب میں منفرد ، جداگانہ اور ممتاز مقام کے حامل ہیں
سید ظفر معین بلے جعفری کاسفر کئی جہتوں میں نظر آتا ہے۔ یہ شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی میں بھی سچل چئیر میوزیم کے نگران و منتظم کی حیثیت سے میں خدمات انجام دے کر اپنے گہرے نقوش چھوڑ چکے ہیں ۔
آٸی۔سی۔ایم۔اے۔پی۔ ملتان برانچ کے پرنسپل یا منتظم اعلی کے طور پر بھی خدمات انجام دے کر نام کمایا۔
کیمبرج سسٹم او اینڈ اے لیول میں اردو زبان و ادب کے بہترین استاد قرار پائے۔ بحیثیت سینٸر کیمبرج استاد انہوں نے 2000 تا 2021 مسلسل اکیس برس ملک بھر میں کیمبرج امتحانات کا بہترین نتیجہ دینے کا اعزاز بھی سمیٹا ہے۔
کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیراہتمام کیمبرج ٹیچرز ٹریننگ ورکشاپ، پروگرام بھی مسلسل تین برس تک ظفر معین بلے جعفری کی سربراہی میں ہوا
سید فخرالدین بلے صاحب کے قاٸم کردہ اشاعتی ادارے معین اکادمی کے بورڈآف ڈاٸریکٹرز میں بھی شامل رہے۔انسانیت کی خدمت کاجذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ جہاں کسی کے ساتھ ناانصافی ہو ،ان کاقلم جہاد پر آمادہ دکھائی دیتا ہے ۔آپ ان کے بہت سے رنگ عالمی اخبار میں دیکھتے رہے ہیں اور اب ان کی اس عالمی ادارے سے وابستگی کے بعد آئندہ بھی دیکھتے رہیں گے۔

سردار علی خان، بیورو چیف, کے پی کے

جناب سردار علی خان المعروف سردار علیزئی ملک بھر کے ریڈیو اہلکاروں میں ایک بڑے پیمانے پر معروف نشریاتی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے ادارے (ریڈیو پاکستان) میں تین دہائیوں سے زائد عرصے تک مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں یعنی پروگرام پروڈیوسر سے لے کر اسٹیشن ڈائریکٹر تک پروگرام کی نگرانی، خبریں، انتظامیہ، فنانس اور ادارے کے انجینئرنگ ونگز۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران وہ پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، لاہور، اسلام آباد اور مظفرآباد میں تعینات رہے۔ اس کے پاس مضبوط انتظامی، باہمی رابطے، تنظیمی اور وقت کے انتظام کی مہارت اور اپنے عملے پر کمانڈ کا سلسلہ ہے .اس کے پاس ڈیڈ لائن پر چلنے والے پروڈیوسر کی اعلیٰ ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے، مطالبہ کرنے والے اور چیلنجنگ ماحول کو پھلنے پھولنے کی صلاحیت ہے۔
عنوان کے علاوہ، نیشنل براڈکاسٹنگ سروس اسلام آباد (براڈکاسٹنگ کے میدان میں موجودہ دور کی تکنیکی ترقی کے مطابق جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی ایک نیا متعارف کرایا گیا کرنٹ افیئرز چینل)۔ پروگرام کا مواد زیادہ تر سوات، مالاکنڈ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر مبنی تھا۔ بونیر، باجوڑ ایجنسی، ایس ڈبلیو ایجنسی، شمالی وزیرستان ایجنسی کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں فوج کے آپریشن کے بعد ان کی بحالی کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔
وہ پی بی سی اسلام آباد، پشاور، مظفرآباد اور لاہور کے وفاقی اور صوبائی دارالحکومت کے اسٹیشنوں کے ہیڈ (اسٹیشن ڈائریکٹر) بھی رہ چکے ہیں۔ جناب سردار علی خان نے آزاد جموں و کشمیر میں اکتوبر 2005 کے تباہ کن اور مہلک زلزلے کے فوراً بعد جب پریس اور الیکٹرانک میڈیا کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، ریڈیو مظفرآباد کا بطور ایس ڈی چارج سنبھالنے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کیا۔ ایجنسی فرانس پریس، دی نیوز پیپرز-لاس اینجلس ٹائمز، اے پی پی، دی ڈیلی ڈان، دی نیوز انٹرنیشنل، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ جنگ سمیت بین الاقوامی اور قومی پریس نے انہیں کھلے دل سے سراہا۔
نتیجتاً، ایف ایم ریڈیو جرنلزم کے شعبے میں زلزلے کے دوران رضاکارانہ، سرشار، جوش و جذبے کے لیے انہیں وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے پی بی سی ایکسی لینس ایوارڈ 2006 سے نوازا گیا۔
انہوں نے بہت سے پی بی سی ایکسیلنس ایوارڈز حاصل کیے۔ انہیں کے پی کے میں پہلے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے بانی کے طور پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

مقدسہ بانو، بیورو چیف مانچسٹر

تعلیم و تربیت ،
ڈگری جرنلزم
ہیومینٹیرین نیڈز اسیسمنٹ، ہاورڈ ہیومینٹیرین انیشیٹو،
پبلک ریلیشنگ،
سپیشلسٹ ٹرینگ ” وائلنس اگینسٹ چلڈرن”
سپورٹ ویکٹم آف ٹارچر ( یورپی یونین)
این جی اوز ڈویلپمنٹ نیشنل سنٹر اسلام آباد
موبیلٹی اینڈ اورینٹیشن، منسٹری آف وومن ڈویلپمنٹ اینڈ سوشل ویلفئیر اینڈ سپیشل ایجوکیشن ۔
انڈرسٹینڈنگ چلڈرن بیہویر برطانیہ ،
کئیر اینڈ ایجوکیشن برطانیہ
آی ٹی سکلیزبرطانیہ،

پیشہ ورانہ تجربہ
درس و تدریس،
امیگریشن کیس ورکر ،
سوشل ورکر(جہلم فورم، عورت فاونڈیشن، سپارک، ڈسٹرکٹ ویمن ویلفیئر اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل، ممبر سٹیزن ایکشن کمیٹی، الفلاح سکالرشپ سکیم و دیگر
ممبر
پریس کلب آف پاکستان یو کے( نائب صدر)
سوشل میڈیا آفیسر ،وومن فورم لیبر پارٹی،
نائب صدر جہلم فورم مانچسٹر برانچ یو کے
سیکرٹری نشرو اشاعت خزینہ شعر و ادب برطانیہ
ایڈیشنل جنرل سیکرٹری پی پی پی برطانیہ

سلمان مرچنٹ .۔ویب ماسٹر اور سربراہ تکنیکی شعبہ

………………………

سید ندیم زیدی۔ سربراہ شعبہ مارکیٹنگ و کمرشل سیکشن

……………………

روما رضوی۔ انچارج شعبہ ادب


لاہور میں مقیم روما رضوی کو عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ نے شعبہ ادب کا انچارج مقرر کیا ہے اور ہمیں یہ یقین ہے کہ انکی شمولیت اس شعبے کو مزید توانائی دے گی۔ عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ اور قارئین کی طرف سے روما رضوی کو مبارکباد۔ مدیر اعلیٰ، صفدر ھمٰدانی
عالمی اخبار کے لیئے اپنا تعارف انہوں نے ان الفاظ میں تحریر کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زبردست شخصیات آپکے اس اخبار سے منسلک ہیں
میرے پاس تو کوئی ایسا تجربہ یا کوئی کتاب میرا حوالہ نہیں ماسوا اسکے کہ علم و ادب میری تربیت میں شامل ہے ۔۔۔ میرے دونوں ہی والدین مطالعے کے شوقین تھے اور گھر میں سب سے بڑی تفریح کتب بینی ہی سمجھی جاتی رہی ہے والدہ نے گھر پر ہی تعلیم حاصل کی تھی مگر اردو کے بہترین ادیبوں کو پڑھا اور فارسی زبان میں بھی کئی کتابوں کو پڑھتی رہیں اس لئے ہماری گفتگو میں بھی انکی تربیت شامل رہی ۔۔ والد صاحب بھی آخری دم تک جب تک انکی بینائی نے ساتھ دیا ۔۔ مختلف موضوعات پر پڑھتے تھے اور ہم سب سے ان موضوعات پر گفتگو کرتے تھے اسی لئے مطالعہ کا شوق ہم سب بہن بھائیوں میں بھی پیدا ہوگیا ۔۔میری پیدائش
12 دسمبر / 1971 میں کراچی پاکستان میں ہوئی۔۔۔گریجویشن سرسید گرلز کراچی سے مکمل کی وہاں بھی اساتذہ نے ہمیشہ مددگار و راہنما رہے اُردو مضامین لکھنے میں آل پاکستان منعقدہ مقابلوں میں بھی حصہ لیا جن میں اکثر اول انعام حاصل کیا اردو سے دلچسپی کے باعث کالج سے نکلنے والے سالانہ مجلِے کی مدیرہ بنا دی گئی۔۔۔ کراچی یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی کچھ عرصہ پیشہ ورانہ حثیت سے وکالت کو اختیار کیا اور پھر ذاتی مصروفیات کی بنا پر تدریس کے شعبہ کو ہی ترجیح دی
شادی کے بعد لاہور آنا ہوا چند سالوں کے لئے سعودی عرب پھر ملائیشیاء میں بھی کئی سال قیام رہا اور اس دوران مختلف قومیت کے لوگوں کی قربت میسر رہی تو احترامِ انسانیت
بین الاقوامی مذہب محسوس ہونے لگا۔۔یا یوں کہیئے کہ اس کائنات میں موجود ہر ذی روح قابلِ محبت و احترام نظر آنے لگا۔۔ 2014 میں وطن واپسی ہوئی تب سماجی کارکن کی حثیت سے اپنے شہر کی مختلف بستیوں میں مستحق بچوں کیلئے قائم کئے گئے اسکولز میں پڑھایا اور کچھ اولڈ ایج ہومز میں بھی کام کیا ۔۔ لوگوں کو قریب سے دیکھنے اور انکے حالات جاننے کے بعد لکھنے کو تحریک ملی اور انسانی زندگی کے کئی پہلو مشاہدے میں آئے ۔۔ افسانے نظمیں اور بلاگز لکھنے شروع کئے جنہیں دوستوں کی جانب سے ہمیشہ سراہا گیا ۔۔ صدا کاری کا شوق ہوا تو کئی دوستوں کے افسانے ریکارڈ کئے جو کئی پرائیوٹ ریڈیو چینلز نے نشر کئے ۔۔
اب تک ان تمام شعبوں میں بطور طالبعلم سفر جاری ہے ۔۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ جیسے احباب میرے سر پرستوں میں شامل ہیں ۔۔
عالمی اخبار ایک بڑا نام ہے جسکا حصہ ہونا ہر لکھنے والے کا خواب ہے۔۔اور میرے لئے بصورتِ نوآموز پرواز کے لئے ایک وسیع آسمان کا درجہ رکھتا ہے ۔۔۔دعا ہے کہ میں آپ اساتذہ کے سامنے ایک ہونہار طالبعلم ثابت ہوسکوں ۔۔

روما رضوی بقلم خود

Mohammed Safdar. Editor English Section

 

Mohammed Safdar introduces himself like this……..I have graduated from the University of Warwick in Economics, Politics and International Studies, and am currently working at BDO Stoy Hayward, providing financial services.

Despite the fact that I’m not studying Journalism, I’m concious of the world around me, and the way in which worldy affairs are mediated to the populace, and as a result, I’ve always been interested in writing. Encouraged by academically motivated parents, writing has been a gift passed on to me, and one which I enjoy .using to speak about current affairs.

SHARE

8 COMMENTS

  1. I am doing part time job as sub-editor in daily”Qaumi Akhbar” Karachi. I want to join your team of Aaalmi Akhbar. How can I be a team member of your newspaper

  2. My name is Hammad Hassan .i am a column writer/poet from Peshawar Pakistan i send my column for publish .kindly check the your email

  3. Hello Editor Saheb,
    ASAK.I would like to send my article/report covered for mushaira/Kavi Darbar in Australia.Please send me the correct address & page /e-mail address who to write to OR send me Mr.Safdar Hamdani’s e-mail to write to…I have known him ,so does he.Please help.
    Thank you.
    Mrs.Farida Lakhany
    Poetess/Journalist/Interpreter
    Sydney-Australia
    e-mail= faridalakhany@hotmail.com

  4. السلام علیکم صفدر ہمدانی صاحب جون دو ہزار نو میں میرا ایک کالم گونگا بجٹ کے عنوان سے اس ویب سائیٹ پر شائع ہوا تھا تاہم آج سرچ کیا تو وہ نہیں مل رہا کیا ٓپ پرانا رکارڈ ضائع کر دیتے ہیں

  5. نام: مشرف جبین
    جائے پیدائش/ تاریخ پیدائش۔ پشاور۔یکم نومبر1942 ء
    تعلیم: بی اے آنرز (اُردو) جامعہ پشاور
    ایم۔اے(اردو) جامعہ پشاور
    پروفیشن:ایسوسی ایٹ پروفیسر
    گورنمنٹ فرنٹیر کالج برائے خواتین پشاور
    خیبرپختونخوا (پاکستان)
    پرنسپل(ر) گورنمنٹ ڈگری کالج برائے طالبات ہری پور(ہزارہ)
    خیبرپختونخوا (پاکستان)
    تصانیف:
    1۔ برکھا کی بدلی (افسانے)
    2۔ تاریک اجالے (نثمیہ شاعری)
    3۔ سرگذشت گورنمنٹ فرنٹیر کالج برائے خواتین پشاورتاریخ وتحقیق
    4۔ بوستان ایران(سفرنامہ) خوشحال خان خٹک ایوارڈیافتہ
    5۔ بوستان ایران سفر نامہ کا فارسی ترجمہ
    6۔ صبح کا تارا (افسانے)
    7۔ سب سچ (افسانے)
    8۔ ویلز۔ دل آویز(سفرنامہ)
    9۔ ولایت چلے ہیں (سفرنامہ)
    Mrs. Musharraf Mubashar
    03339711182

  6. عالمی اخبار اور اس کا ادارتی بورڈ مہکتے پھولوں کا ایک گلدستہ ہے محترمی، مکرمی وبرادرِ معظم جناب صفدر ہمدانی کو دل کی اتھاہ گہرائوں سے ہدیہء تبریک پیش کرتا ہوں کہ جو ایسی عظیم تاریخی ہستی کے چشم وچراغ ہیں جنہوں نے ریڈیو لاہور سے آزادی پاکستان کی نوید سنائی۔خود بھی ماشاءاللہ نشریاتی دینا میں نمایاں مقام کے حامل ہیں ۔ آن لائین عالمی اخبار ان کی شبانہ روز مساعی جمیلہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔دست بدعا ہوں کہ مالک ہست وبود ان کے آن لائین صحافتی کارہائے نمایاں کو مزید جلا بخشے ۔آمین یارب العالمین۔

  7. ماشاء اللہ صفدر ہمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ماہ پارہ اور عالمی اخبار کی پوری ٹیم مستحق مبارک باد ہیں اردو کی خدمت میں اپنے تاریخ بنیادی نسل مشکور رہے گی

LEAVE A REPLY