سابق صدر آصف علی زرداری نے سیاسی مخالفین کا نام لیے بغیر طنز کیا ہے کہ 30 سال تک اسٹیبلشمنٹ کے کندھے پر سیاست کرنے والے بتائیں کہ وہ کیا لے کر آئے اور آج ان کے پاس کیا ہے؟

لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما عزیز چن کی جانب سے افطار تقریب سے خطاب میں سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی موقع نہیں، مگر سیاستدان سیاسی بات نہ کرے تو کیا کرے، پہلے ملک ہے، پھر دھرتی ہے اور پھر قبر ہے۔ تاہم یہ لوگ تو اپنی دھرتی سے بھی وفا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ بھول رہے ہیں کہ تکلیف کے دوران بھی پہلے ملک ہوتا ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ 3 عشرے رہے، چھانگا مانگا کی سیاست انہوں نے شروع کی۔ بتایا جائے کہ جب آپ پاکستان آئے تو کیا لے کر آئے اور آج آپ کے پاس کیا ہے؟

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ آج کل بہت سے دوستوں کا چرچا ہے۔ پہلے ملک ہے، دھرتی ہے اور بعد میں اقتدار ہے لیکن یہ طاقت کے نشے میں اتنے پاگل ہو گئے ہیں کہ انہیں دھرتی کا بھی خیال نہیں رہا۔

قومی کمیشن بنانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ ہم کمیشن بنانے کو تیار ہیں، مگر اسے ضیا الحق دور سے شروع کریں۔ سپریم کورٹ میں بھٹو صاحب کا ریفرنس موجود ہے، سپریم کورٹ انصاف کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں ہوا ہے کہ قوموں نے معافیاں مانگیں، پہلے آپ تو بتائیں کہ آپ کی دکان کہاں سے آئی؟ آپ کے بزرگ جب آئے تو وہ کیا لے کر آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کمیشن ہر کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ وسیع پیمانے پر بننا چاہیے، ہم سے یا ہمارے سے پہلے والوں سے غلطیاں ہوئی ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY