روپے کی قدر میں کمی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو آپریشنل خسارے کی صورت میں ماہانہ 2 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کے اجلاس میں ایوی ایشن سیکریٹری محمد ثاقب عزیز نے بتایا کہ یہ آپریشنل خسارہ دیگر اخراجات اور قرض کی مد میں ہونے والے 400 ارب روپے کے نقصان کے علاوہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ مالی خسارے کا ایک سبب ضرورت سے زائد ملازمین کا ہونا بھی ہے، جس کی وجہ سے اس ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں کی جاسکی۔

ان کا کہنا تھا کہ تنخواہوں کا معاملہ وزارت خزانہ کو بھیج دیا گیا ہے اور امید ہے کہ جلد حل ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس خصوصی طور پر پی آئی اے کے مسائل پر گفتگو کے لیے بلایا گیا تھا جس میں اراکین پارلیمنٹ کو پیش آنے والی دشواریاں، بکنگ کے نئے سافٹ ویئر نظام میں خرابیاں اور پی آئی اے کے افسران پر منی لانڈرنگ کرنے کے الزامات شامل ہیں۔

اجلا س میں سینیٹر حاصل خان بزنجو نے دریافت کیا کہ پی آئی اے کب تک خسارے میں چلتی رہے گی، جس پر سیکریٹری ایوی ایشن کا کہنا تھا کہ قومی ایئرلائن کے لیے نیا کاروباری منصوبہ گزشتہ حکومت کے سامنے پیش کیا گیا تھا جو ابھی تک زیر التوا ہے۔

تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ خان جو کمیٹی کی سربراہی کر رہے تھے، کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے خسارے کی بڑی وجہ آلات کی خریداری میں غیر شفافیت ہے، اگر یہ کام صحیح سے کیا جائے تو کافی نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY