سینیٹ میں مودی کے بیان پر متفقہ مذمتی قرار داد منظور

0
462

سینیٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کےبیان پر مذمتی قرارداد متفقہ طورپر منظورکی گئی۔

قرارداد سینیٹر سحر کامران نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان پاکستان کو دہشت گردی سے منسوب کرنے کے بیان کی مذمت کرتا ہے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا

ادھر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سینیٹ میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر بھارت نے پاکستانی سرزمین پر سرجیکل اسٹرائیکس کی کوشش کی تو پاکستان کی مسلح افواج اس کا پوری طاقت سے جواب دیں گی۔

سینیٹ میں اپنے خطاب کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے اندر سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کی جرات کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں بھارت کی جانب سے کیا جانے والا سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ بے بنیاد اور جھوٹا نکلا۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ اور سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا مقصد کشمیریوں کی جدوجہد آزادی، بھارت کی اندرونی سیاسی کشیدگی اور جامع مذاکرات سے نظریں چرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر کی جدو جہد آزادی کو کراس بارڈر دہشت گردی اور دراندازی سے جوڑنے کی ناکام کوششیں کررہاہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت سفارتی سطح پر ناکامی سے دوچار ہوچکا ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں سے خوف زدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی حق خود ارادیت حاصل کرنے کی جدوجہد میں ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیر دفاع نے سینیٹ کو بتایا کہ دسمبر 2016 تک بھارت نے مجموعی طور پر 330 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی جن میں سے 290 مرتبہ لائن آف کنٹرول جبکہ 40 بار ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY