فرانس میں واقع ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ میں دھماکا ہوا، تاہم اس کے نتیجے میں تابکاری کے اخراج کے امکانات ظاہر نہیں کیے گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ دھماکا فرانس کے شمال مغرب میں واقع فلیمن وِل  پلانٹ کے نیوکلیئر زون کے باہر ہوا اور تابکاری کے اخراج کے امکانات نہیں ہیں۔

ایک سینئر مقامی افسر اولیور مارمیون نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘یہ ایک اہم تکنیکی معاملہ ہے، لیکن اسے کوئی جوہری حادثہ نہیں کہا جاسکتا’۔

فرانس کے ایک مقامی اخبار کے مطابق واقعے میں کچھ لوگ زخمی ہوئے، جبکہ ایم 6 ریڈیو کا کہنا تھا کہ 5 افراد معمولی زخمی ہوئے۔

ترجمان کے مطابق فلیمن وِل 1 اور 2 کے نام سے 1300 میگاواٹ کے یہ پاور پلانٹس 1980 کی دہائی میں تعمیر کیے گئے تھے، وہاں ایک نیا ری ایکٹر بھی تعمیر کیا جارہا ہے، تاہم دھماکا اس جگہ نہیں ہوا۔

خبر رساں ادارے اے پی نے پلانٹ حکام کے حوالے سے بتایا کہ فلیمن وِلی کے دو نیوکلیئر ری ایکٹرز میں سے ایک کے مشین روم میں آگ لگنے سے دھماکا ہوا، جس پر فوری طور پر قابو پالیا گیا۔

واقعے کے بعد جوہری پلانٹ کے پیرس میں واقع ہیڈکوارٹرز کے حکام نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب نیوکلیئر سیفٹی اتھارٹی اے ایس این کا کہنا تھا کہ انھیں دھماکے سے متعلق کوئی معلومات نہیں اور فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

SHARE

LEAVE A REPLY