اک کربلا بسائی ہے پارہ چنار میں۔صفدر ھمدانی

0
231

اک کربلا بسائی ہے پارہ چنار میں

ہر سمت بس دہائی ہے پارہ چنار میں
اک کربلا بسائی ہے پارہ چنار میں
قندیل خوں جلائی ہے پارہ چنار میں
لٹتی ہوئی کمائی ہے پارہ چنار میں

عشق علی کی کس لیئے ایسی کڑی سزا
ہے ماتم حسین کی اتنی بڑی سزا
۔۔۔۔۔۔۔
یاں پر ملی حیات صداقت کے نام کو
عزت ملی رسول خدا کے کلام کو
دی ہے شکست ظلم کے فاسق ںظام کو
اتریں گے یاں فرشتے درود و سلام کو

پارہ چنار سچ کہوں شہر شہید ہے
اس شہر کے نصیب میں مرگ یزید ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
عشاق اہل بیت ہیں برباد پھر رہے
قاتل گلی گلی میں آزاد پھر رہے
ماؤں کے ساتھ بچے ہیں ناشاد پھر رہے
بے خوف کیسے ملک میں جلاد پھر رہے

لخت جگر ہیں ماؤں کے خوں میں نہا گئے
مٹی میں خون دل کی ہیں خوشبو بسا گئے
۔۔۔۔۔۔
بکھرے ہوئے لہو کے ہیں دھارے زمین پر
دم توڑتے ہیں بہنوں کے پیارے زمین پر
لتھڑے پڑے ہیں خوں میں ستارے زمین پر
کس نے فلک سے چاند اُتارے زمین پر

دیکھو کہ ہم بھی نرغہء صد اشقیا میں ہیں
چودہ سو سال ہو گئے ہم کربلا میں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔
یہ دشمنان حق و صداقت ہیں باخدا
یہ ہر غنیم بد کی حمایت ہیں باخدا
آل رسول سے یہ عداوت ہیں باخدا
ہر اک زماں میں شجرہء ذلت ہیں باخدا

دشمن ہیں یہ خدا کے خدا کے رسول کے
اجداد بھی عدو تھے علی وبتول کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاتل علی و فاطمہ کے عاشقوں کے ہیں
یہ سب غلام اپنی قبیح خواہشوں کے ہیں
تفسیر یہ عذاب کی سب آیتوں کے ہیں
اک سلسلہ یہ کوفے کی اُن سازشوں کے ہیں

یہ قاتلان اکبر و اصغر کی نسل ہیں
ہم جانتے ہیں دشمن حیدر کی نسل ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارہ چنار سلسلہ ء شان کربلا
اک بار پھر لکھا گیا عنوان کربلا
ضامن ہیں ان شہیدوں کے سلطان کربلا
صفدر ہماری نسلوں پہ احسان کربلا

اب ظلم انتہا پہ ہے آ جایئے امام
حملہ کھُلا خدا پہ ہے آ جایئے امام

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY