مردان پولیس نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کے توہین رسالت کے الزام میں قتل کی تفتیش کے سلسلے میں دومولویوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دونوں مولویوں پر مشعال خان کے جنازے میں بدمزگی پھیلانے کا الزام ہے جبکہ ان کی نفرت انگیز تقریر کے بعد عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں توہین رسالت کی خبر پھیل گئی۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے مشعال کے قتل سے چند گھنٹے قبل تین طالب علموں کو ‘توہین رسالت کی سرگرمیوں’ میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے نوٹس جاری کردیا تھا۔

مردان پولیس کے سربراہ عالم شنواری کا کہنا تھا کہ ویڈیوز کی بنیاد پر قتل میں ملوث 20 افراد کی شناخت ہوئی ہے اور کہا کہ ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مشعال خان کے آبائی علاقے صوابی میں ان کے جنازے میں مداخلت کرنے اور مشعال کے خاندان کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے الزام میں مقامی مولویوں کے خلاف بھی تفتیش کررہے ہیں۔

صوابی پولیس کے ایک سنیر افسرکا کہنا تھا کہ ‘دونوں مولویوں نے مقتول طالب علم اور اس کے خاندان کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے لیے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو استعمال کیا اور لوگوں اور دیگر علما کی جنازے میں شرکت میں مشکلات کھڑی کیں’۔

صوابی کے ایک رہائشی سلمان احمد کے مطابق ایک مقامی امام نے مشعال خان کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کیا تھا جس کے بعد ایک ٹیکنیشن کو جنازہ پڑھانے کو کہا گیا جس پر کئی لوگوں نے مزاحمت کی۔

دوسری جانب صوابی کے زید ٹاؤن میں بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے ‘بے گناہ، بے گناہ، مشعال خان بے گناہ’ کے نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کیا جبکہ مشعال کے دوستوں، رشتہ داروں، سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور عوام کی بڑی تعداد نے احتجاج میں حصہ لیا۔

احتجاج میں شامل لوگوں نے مشعال کی قبر پر پھول رکھے جس کے بعد ان کے حجرے میں گئے، فاتحہ پڑھی اور خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔

یاد رہے کہ مردان پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد مزید سات ملزمان کو گزشتہ روز گرفتار کرکے انسداد دہشت گردی میں پیش کرکے ایک روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY