مشرقی ایشیائی ریاست تھائی لینڈ کے دار الحکومت بنکاک کے ایک ہسپتال کے باہر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 24 افراد زخمی ہوگئے جبکہ ہسپتال کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دھماکا فرامونگ کتکلاؤ نامی ایک ہسپتال کے مرکزی دروازے کے قریب ہوا، جو فوجیوں اور ان کے اہلخانہ کے علاج و معالجے کے حوالے سے مشہور ہے۔

اس دھماکے کی ذمہ داری اب تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی، تاہم تھائی فوجیوں نے ہسپتال کے داخلی راستوں کو سیل کردیا۔

تھائی لینڈ پولیس کی بم ڈسپوزل ٹیم کے کمانڈر کمتھورن اوکھاروین نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’ہم نے ایسے ٹکڑے تلاش کیے ہیں جو بم بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے کون ملوث ہے’۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکام سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔
تھائی حکومتی ترجمان کائیوکمنرڈ نے اس دھماکے کے نتیجے میں 24 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

تھائی فوج کے قومی سلامتی یونٹ کے مطابق زیادہ تر افراد شیشوں کے ٹکڑے لگنے کے باعث زخمی ہوئے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اس دھماکے کے پیچھے فوجی بغاوت کی مخالف سیاسی جماعتیں یا پھر تھائی لینڈ کے جنوبی علاقوں میں بسنے والے علیحدگی پسند مسلمان گروپ ہو سکتے ہیں۔

ڈپٹی نیشنل پولیس چیف جنرل سری وارا رنگسی برہمناکل کا کہنا تھا کہ بم ایک ڈبے میں چھپا کر ہسپتال کے داخلی راستے پر رکھا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY