میثم تمار کا جنازہ تین دن تک سولی پر لٹکا رہا

0
220

عراق کے علاقوں میں واسطہ و بغداد کے درمیان نہروان نامی ایک جگہ پر یحیی تمار کا خاندان رہتا تھا یہ علاقہ پہلے ایران کا حصہ تھا قباد کے زمانہ میں یہاں کرد قبائل رہتے تھے میثم بن یحیی اوائل ہجرت میں اسی کرد قبیلہ میں ایک ایرانی خاندان میں پیدا ہوئے چونکہ ان کے خاندان میں خرمہ فروشی کا مشغلہ تھا اس لئے میثم تمار مشہور ہوئےـ

صفر سنہ ۱۶ ہجری میں مدائن کی فتح کے موقع پر نہروان بھی مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا اور میثم اسیروں میں شامل ہو گئے۔ پھر ایک مسلمان خاتون کے غلام قرار پائے ـ تقریباً بیس سال اس مسلمان خاتون کے غلام رہے ـ

سنہ ۳۷ ہجری میں ایک روز مولائے کائنات علی بن ابی طالب علیہ السلام اپنے کسی ساتھی کے ہمراہ بازار آئے دیناروں کی تھیلی اپنے ساتھی کے سپرد کی اور بازار میں اشیاء کا معائنہ کرنے لگے جس وقت آپ بردہ فروشوں کے نزدیک پہنچے تو ایک غلام پر آپ کی نظریں ٹھہر گئیں مولا نے بردہ فروش سے اس غلام کی قمیت معلوم کی تو اس نے سو دینار بتائے آپ نے ساتھی سے دینار دینے کے لئے کہا ـ ساتھی دینار کی تھیلی کھول کر شمار کرنے لگا بردہ فروش کو یقین ہو گیا تو اس نے کہا میں غلطی سے سو دینار کہہ گیا ہوں اس غلام کی قیمت دو سو دینار ہے مولا نے کہا کوئی بات نہیں ـ دو سو دینار لے لو ۔ آپ نے ساتھی کو دو سو دینار دینے کا حکم دیا مگر بردہ فروش پھر بدل گیا اور کہنے لگا آپ جیسے افراد تو اشخاص کی قیمت سے واقف ہیں کیا اس غلام کی یہی قیمت ہے میری نظر میں تین سو دینار ہونا چاہیئے آپ نے کہا کوئی بات نہیں تین سو دینار لے لو بردہ فروش پھر بولا ظاہراً تین سو بھی بہت کم ہیں ممکن ہو تو چار سو دینار دے دیجئے اور غلام کو اپنے ہمراہ لے جائیے اب چونکہ بردہ فروش کو ڈر ہو گیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ اس سے زیادہ بتانے پر خریدار بگڑ جائے اور چھوڑ کر چلا جائے اس لئے اس سے آگے نہ بڑھا ـ مولا نے چار سو دینار ادا کر کے غلام کو خرید لیا ـ
اس ایرانی غلام نے عربوں کو اپنا نام ” سالم ” بتایا تھا لہذا جب مولا نے اس کا نام دریافت فرمایا تو اس نے مولا کو بھی سالم بتایا ـ

مولا نے فرمایا : پیغمبر (ص) نے مجھے اطلاع دی تھی کہ تیرا اصلی نام میثم ہے میثم بے ساختہ اٹھے ” صدق اللہ ورسولہ و صدق امیر المومنین !!؛؛

حضرت امیرالمومنین (ع) نے فرمایا : آج کے بعد تم اپنے اصلی نام کو پہنچنواؤ ـ

اس کے بعد میثم نے اپنی کنیت ابو سالم رکھ لی اور میثم کو مشہور کر دیا ـ

میثم نے تقریباً چار سال کوفہ میں علی علیہ السلام سے علوم و معارف کا خزانہ جمع کیا اور مولا کے بلا تکلف دوستوں میں شمار ہونے لگے یہاں تک کہ میثم ایک دن مولا کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت محو استراحت ہیں ـ میثم پکارے مولا اٹھئے ـ وہ وقت بہت نزدیک ہے جب آپ کی ڈاڑھی کو آپ کے خون سے رنگین کیا جائے گا ـ

مولا نے فرمایا : درست ہے ـ مگر خدا کی قسم تمہارے ہاتھ پیر کاٹ دئیے جائیں گے اور صلیب (سولی ) پر تمہاری زبان کاٹ دے جائے گی ـ میثم نے کہا ایسا کون کرے گا ـ آپ نے فرمایا : ایک فاجر کنیز کا پست فطرت بیٹا جس کا نام عبید اللہ ابن زیاد ہے ـ

ابن حجر کتاب الاصابہ میں لکھتا ہے کہ ایک دن میثم سے علی علیہ السلام نے فرمایا : تم میرے بعد گرفتار کر لئے جاؤ گے

اور تمہیں ایک ضربت سے زخمی کیا جائے گا اور تین دن تک سولی پر چڑھے رہو گے تیسرے دن تمہاری ناک اور منھ سے خون بہے گا اور تمہاری ڈاڑھی رنگین ہو جائے گی ـ تم ” عمرو بن حریث ” کے گھر کے سامنے سولی پر چڑھائے جاؤ گے مقتولین میں تم دسویں آدمی ہو گے تمہاری سولی دوسروں کی سولی سے چھوٹی ہوگی ـ

پھر دو دن بعد آپ نے میثم کو وہ درخت دکھایا جس کی لکڑی سے بعد میں جناب میثم کے لئے صلیب تیار ہوتی تھی محلہ کناسہ میں عمرو بن حریث کا مکان واقع تھا جس کے سامنے خرمہ کا وہ درخت تھا جناب میثم نے عمرو بن حریث سے کہا میں تمہارا پڑوسی بننے والا ہوں وہ سمجھا کہ کوئی مکان خریدنے والے ہیں ـ جناب میثم روزانہ اس درخت کے نیچے نماز پرھتے تھےاور اس کو پانی دیتے تھے یہاں تک کہ اس درخت کو کاٹ دیا گیا ٬ اس درخت کے کاٹنے کی وجہ یہ تھی کہ ایک دن عبیداللہ ابن زیاد کوفہ کی طرف سے جا رہا تھا جس وقت کناسہ سے گذرا تو اس کا پرچم اس درخت میں اٹک گیا اس نے فال بد سمجھ کر اس درخت کے کٹوا دیا ـ اس درخت کے تنے کو ایک نجار نے خرید لیا اور اس کے چار ٹکڑے کر دیئے ـ جب میثم کو اطلاع ملی تو جناب میثم نے اپنے بیٹے صالح کو حکم دیا کہ ایک کیل پر میثم ابن یحیی لکھوا کر اس درخت کے ٹکڑے میں گاڑ دو ـ صالح ابن میثم بیان کرتا ہے کہ میں اپنے باپ کی شہادت کے بعد اس درخت کے ٹکڑے کے پاس گیا تو دیکھا کہ یہ وہی لکڑی تھی جس میں میں نے کیل گاڑی تھی اور وہ ابھی تک اسی جگہ تھی ـ جس دن سے علی علیہ السلام نے جناب میثم کو خریدا اس دن سے ان کو اپنے پاس رکھا اور ان کو راہ خدا میں آزاد کر دیا ـ شہادت علی علیہ السلام کے بعد باقی خاندان علی علیہ السلام مدینہ منتقل ہو گیا مگر جناب میثم کوفہ ہی میں رہے ـ ایک دن جناب میثم مدینہ گئے بھی تو امام حسین علیہ السلام سے ملاقات نہ ہو سکی البتہ جناب ام سلمہ سے ملاقات ہوئی ـ جناب ام سلمہ نے آپ کو عطر دیا جس سے آپ نے اپنی داڑھی کو معطر کیا تبھی جناب ام سلمہ نے اپ کی شہادت کی خبر دی اور بتایا کہ پیغمبر (ص) تمہیں یاد کیا کرتے تھے ـ

جناب میثم کو حب علی علیہ السلام کے جرم میں سنہ ۶۰ ہجری میں امام حسین علیہ السلام کے کربلا پہونچنے سے دس دن پہلے قتل کر دیا گیا تھا ان کا جنازہ تین دن تک سولی پر لٹکا رہا آخر کار سات خرمہ فروشوں نے رات میں سپاہیوں کو دھوکہ دے کر آپ کا جنازہ درخت سے اتارا اور دریا کے بیچ میں دفن کیا ـ آج جناب میثم کی قبر کوفہ کی مسجد کے جنوب غربی میں چھوٹے سے گنبد کے نیچے چاہنے والوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے ـ

SHARE

LEAVE A REPLY