وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان قلمبند کرادیا ہے،انہوں نے تقریبا ساڑھے 5گھنٹے تک جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کرایا ۔

حسین نواز سے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے مے فیئر فلیٹس ، ہل میٹلز لمیٹڈ اور عزیزیہ ملز سمیت دیگر دستاویزات مانگ لی ہیں،جے آئی ٹی کے طلب کرنے پر دو ایمبولینسیں جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئی ۔

پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے سامنے حسین نواز دوسری بار پیش ہوئے ،ان سے قبل نیشنل بینک کے صدر سعید احمد سپریم کورٹ کے حکم پر آج جے آئی ٹی میں پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا ۔

وزیراعظم کے صاحبزادے صبح 11 بجے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لئے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے ،ان کے ہمراہ ن لیگ کے رہنما اور کارکنان بھی موجود تھے،پہلی پیشی کے برعکس آج حسین نواز نے میڈیا سے بات چیت نہیں کی ۔

جے آئی ٹی کی کارروائی کے دوران وفاقی جوڈیشل کمپلیکس میں ایک ایمبولینس کی آمد ہوئی ،جس کے ہمراہ آنے والے ڈاکٹر عمر نے کہا کہ انہیں فون کرکے بلایا گیا ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ن لیگ کے رہنما دانیال عزیز نے کہا کہ جے آئی ٹی ارکان کی جانب سے گواہ پردبائو ڈالنے کی بات کی ۔

عمران خان اب اپنی قربانی کی بات کررہے ہیں،انہیں سمجھ آگیا ہے کہ ان کا کھیل ختم ہوچکا ہے،پی ٹی آئی سربراہ اسمبلی آئے تو سبق سکھائیں گے۔

اس موقع پر ن لیگی رہنما آصف کرمانی کا کہناتھاکہ حسین نوازتمام کاغذات لے کرآئے ہیں،جن ممبران پرتحفظات ہیں، ان کواس تحقیقات سےخود کوعلیحدہ کرلینا چاہیے تھا، ہم نے اپنے تحفظات عدالت کے سامنے پیش کردیے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY