تین جون 1989ء آیت اللہ روح اللہ خمینی کا یوم وفات

0
242

ایران کے مذہبی رہنما۔ بانی اسلامی جمہوریہ ایران ۔ آیت اللہ العظمٰی امام روح اللہ موسوی خمینی 24 ستمبر 1902ء کو خمین میں پیدا ہوئے جو تہران سے تین سو کلومیٹر دور ایران ، عراق ، اور اراک (ایران کا ایک شہر) میں دینی علوم کی تکمیل کی۔ 1953ء میں رضا شاہ کے حامی جرنیلوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر تودہ پارٹی کے ہزاروں ارکان کو تہ تیغ کر دیا تو ایرانی علماء نے درپردہ شاہ ایران کے خلاف مہم جاری رکھی، اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی سیاست کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے-آپ کا خاندان نے کشمیر سے ہجرت اور خاندان نسبت سید ہسید علی ہمدانی سے ملتا ہے

اكتوبر 1964ء كا ذكر ہے شاه كى حكومت نے اىک قانون كى منظورى دى جس كے تحت امرىكى فوجى مشن كے افراد كو سفارتكاروں كے ہم پلہ وه حقوق دئیے گئے جو وىانا كنونشن كے تحت سفارتكاروں كو حاصل ہیں اس كے معنى یہ ہیں کہ امرىكى جو چاہیں کرتے رہیں ان پر اىرانى قانون لاگو نہ ہو گا – اگلے دن امام خمینى نے مدرسہ فىضىہ قم مىں وه شہره آفاق تقرىركى جو اىک عظىم انقلاب كا دىباچہ بن گئى انہوں نے کہا:
” مىرا دل درد سے پھٹا رہا ہے میں اس قدر دل گرفتہ ہوں کہ موت كے دن گن رہا ہوں اس شخص (اشارہ: رضاشاہ پہلوی) نے ہمیں بىچ ڈالا ہمارى عزت اور ایران كى عظمت خاک میں ملا ڈالی،اہل ایران كا درجہ امریكى كتے سے بهى كم كر دیا گیا ہے اگر شاه ایران كى گاڑی كسى امریكى كتے سے ٹکرا جائے تو شاه كو تفتىش كا سامنا ہو گا لىكن كوئى امریكى خانساما شاه ایران یا اعلى ترىن عہدے داروں كو اپنى گاڑی تلے روند ڈالے تو ہم بے بس ہوں گے، آخر كیوں ؟ كیونكہ ان كو امریكى قرضے كى ضرورت ہے- اے نجف، قم،مشہد، تہران اور شیراز كے لوگو! میں تمہیں خبردار كرتا ہوں یہ غلامى مت قبول كرو كیا تم چپ رہو گے اور كچھ نہ کہو گے ؟ کیا ہمارا سودا كر دیا جائے اور ہم زبان نہ كهولىں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

اس تقرىر نے تخت شاہی کو ہلا كرركھ دىا پورا اىران ارتعاش محسوس كرنے لگا سات دن بعد امام خمینى كو گرفتار كركے تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سےجلا وطن كر دىا امام ایک سال ترکی میں رہے، اور 4 اکتوبر 1965ء میں نجف اشرف چلے گئے۔ عراق کی سرزمین بھی آپ کے لیے تنگ ہوگئی تو 6 اکتوبر 1978ء کو فرانس منتقل ہوگئے۔ اور پیرس کے قریب قصبہ نوفل لوش تو میں سکونت اختیار کی۔ جلاوطنی کے اس سارے عرصے میں شاہ ایران کے خلاف تحریک کی ’’ جس میں ملک کے تمام محب وطن عناصر شامل تھے‘‘ رہنمائی کرتے رہے۔ 17 جنوری 1979ء کو شاہ ایران ملک سے چلے گئے۔
امام خمینى جب ىكم فرورى 1979ء كو سولہ سالہ جلا وطنى كے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سے بہشت زہرا كے قبرستان تک لاكهوں اىرانىوں نے ان كا استقبال كىا بعض لوگوں نے یہ تعداد 1 كروڑ سے بهى زىاده لكهى ہے یہ بهى عجىب دن تها شاہانہ جاه و جلال ركهنے والا اىک حكمران امرىكہ كى بهرپور سرپرستى اىک بڑى سپاہ اور ساواک جىسى خونخوار اىجنسى كے باوجود اىک خرقہ پوش كے ہاتهوں شكست كها كر ملک سے فرار ہو چكا تها اس كى نامزد كرده حكومت خزاں رسىده پتے كى طرح كانپ رہى تهى شاه پور بختىار تمام تر كاغذى اختىارات كے باوجود ردى كے كاغذ كا اىک پرزه بن چكا تها جو كسى لمحے کوڑا دان كا رزق بننے والا تها- شاه نے قم كے حوزه علمىہ فىضىہ كى آواز دبانے كے لئےكىا كىا جتن نہ کئے كون كون سے مظالم نہ توڑے لىكن امام خمینى كى آواز نہ دبائى جاسكى امرىكہ كى گود مىں بیٹها بادشاه اہل اىران كى خودى اور ان كى زندگیوں سے كهىل رہا تهاامام خمینى كچھ وقت قم میں گزارنے کے بعد تہران آئے تو کہا میں عوام کے درمىان كسى ساده سے گھر میں رہوں گا حجت الاسلام سىد مہدى نے بارگاہ حسىنىہ جماران سے متصل اپنا گھر پىش كىا امام خمینى نے کہا میں كرا‎‎ئے كےبغىر نہیں رہوں گا 80 ہزار اىرانى رىال ىعنى تقرىباً 650 روپے ماہانہ كراىہ مقرر ہوا جنورى 1980ء سے 3 جون 1989ء تک امام اسى كواٹر نما گھرمیں مقىم رہے یہ وه دور تها جب اىران میں ان كى فرمانروائى تهى ان كے اشاره ابرو كے بغىر ایک پتا بهى حركت نہ كرتا تها اىران كے انقلاب كى سارى صورت گرى اسى حجرے میں ہوئى.آپکا انقلاب اسلامی اس بات کی واضح دلیل تھی کہ آپ کچھ کر گزرنے والے انسان تھے۔ جس چیز کا عزم فرماتے اسے پورا کرنے کیلئے رکاوٹوں کے ہونے باوجود بلا جھجھک اس میں کود پڑتے اور جان کی بازی لگانے سے کبھی نہ ڈرتے تھے انکے قول اور فعل میں تضاد بالکل نہ تھا یہاں تک فرانس والے وعدے کو عالم اسلام کے ہر فرد نے دیکھا جب اسے ہر سال حج کے موقع پر اخبارات کی شہ سرخیوں میں درج ڈیل باتیں ملاحظہ کرنی پڑیں:
10,000 دس ہزار ایرانیوں کا خانہ کعبہ کے سامنے مظاہرہ۔
کئی ہزار ایرانی مردوں اور عورتوں نے مسجد نبوی کے سامنے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے۔
تین سو ایرانیوں کو حج کے موقع پر نعرہ بازی کے جرم میں سعودی عرب سے نکال دیا گیا۔
ایک لاکھ ایرانیوں نے خانہ کعبہ کے سامنے مظاہرہ کیا۔

کینسرکی وجہ سے ان کا انتقال 3 جون 1989ء میں ہوا۔ تہران کے قریب دفن ہوئے

SHARE

LEAVE A REPLY