کراچی کی مرکزی جیل میں آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں موبائل فونز، ٹی وی سیٹس، ایل سی ڈیز اور جہادی مواد برآمد کیا گیا، بیرکس کے علاوہ قیدیوں کی جسمانی تلاشی بھی لی گئی۔
شہر کے وسط میں شہری آْبادی کے درمیان میں واقع سینٹرل جیل کراچی میں یہ آپریشن کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ اس جیل میں حکام کے مطابق چھ ہزار کے قریب قیدی موجود ہیں۔
کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بھٹائی رینجرز کے سیکٹر کمانڈر شاہد جاوید نے میڈیا کو بتایا کہ جیل حکام نے ان سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد پولیس کی مدد سے یہ آپریشن کیا گیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ تقریبا 27 سال بعد اس نوعیت کا جنرل آپریشن کیا گیا ہے، اس سے قبل 1990 میں یہ آپریشن ہوا تھا۔
واضح رہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹیڈ آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے، سیاسی و مذہبی جماعتوں، شدت پسند گروہوں اور جرائم پیشہ افراد کی ایک بڑی تعداد کو اسی جیل میں رکھا گیا ہے۔
گذشتہ ہفتے سینٹرل جیل سے دو انتہائی مطلوب ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جن کا تعلق شدت پسند گروہ لشکر جھنگوی سے تھا، جس کے بعد 12 کے قریب اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
بھٹائی رینجرز کے سیکٹر کمانڈر شاہد جاوید نے بتایا کہ دوران آپریشن 450 موبائل فونز، سمیں، یو ایس بیز اور اینٹی جیمرز جیسی ڈیوائسز جن کے ذریعے سگنل جام کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا جاتا ہے برآمد کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ سینٹرل جیل پر موبائل فون کے جیمر لگے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے اطراف کی آبادیوں میں موبائل فون کمپنیوں کے سگنل مکمل نہیں پہنچ پاتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY