بلال ناجی ھیں خالق کے ھاں ازل سے وھی

0
147

قرارِ قلبِ پیمبر حسین میرے حسین
یہی ھے ورد زباں پر حسین میرے حسین

ترے ھیں در کے سوالی ترے پدر کے غلام
ھیں سندھ والے قلندر حسین میرے حسین

سنی جو تیری شہادت کی بات بابا سے
کہا بتول نے رو کر حسین میرے حسین

برائے امن خلافت کو جس نے چھوڑ دیا
ھیں اس حسن کے برادر حسین میرے حسین

تری عظیم شہادت کے بعد زینب کی
زباں پہ رھتا تھا اکثر حسین میرے حسین

خدا کے خاص مقرب تھے ساری امت میں
وہ تیرے ساتھی بہتر حسین میرے حسین

پلائیں گے ھمیں کوثر کا جام محشر میں
شہِ مدینہ سے لیکر حسین میرے حسین

بلال ناجی ھیں خالق کے ھاں ازل سے وھی
ھیں جن کے تیسرے رھبر حسین میرے حسین

بلال رشید

SHARE

LEAVE A REPLY