عراق نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی ’خلافت‘ کے خاتمے کا اعلان کر دیا

0
244

آٹھ ماہ کی شدید عسکری کارروائی کے بعد جمعرات کو عراقی فورسز نے موصل میں قائم اس قدیمی مسجد پر قبضہ کر لیا ہے، جہاں پر کھڑے ہو کر شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے خلافت کا اعلان کیا تھا۔

داعش تین برس تک اس شہر پر قابض رہی۔ عراقی حکام کے مطابق شہر کے قدیمی حصے کے نواح میں چند جہادی اب بھی موجود ہیں، جب کے زیادہ تر جہادی پسپا ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز میں یہ شہر مکمل طور پر اس شدت پسند تنظیم سے آزاد کرا لیا جائے گا۔ ایک ہفتے کے قبل داعش نے اس ساڑھے آٹھ سو سال پرانی مسجد کو تباہ کر دیا تھا۔

جمعرات کے روز ایک تجزیاتی ادارے نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ اپنے زیرتسلط ساٹھ فیصد سے زائد علاقے سے محروم ہو چکی ہے، جب کہ اسے مختلف علاقوں سے حاصل ہونے والے 80 فیصد سرمایے میں کمی ہو چکی ہے۔ جون 2014ء میں اس شدت پسند تنظیم نے شام اور عراق کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر کے خودساختہ خلافت کا اعلان کر دیا تھا۔

سن 2015ء میں اس تنظیم کے زیر قبضہ علاقے کا مجموعی رقبہ نوے ہزار اٹھ سو مربع کلومیٹر تھا جب کہ جون 2017 میں یہ علاقہ سکڑ کر صرف چھتیس ہزار دو سو مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے علاوہ شامی اور روسی فورسز بھی اس تنظیم کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY