گلف اسٹیل مل33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی، نعیم بخاری

0
73

پاناما جے آئی ٹی کیس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلف اسٹیل مل33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی، 3 ججز نے مزید تحقیقات کی ہدایت دی ہیں۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ جمع کرائی جا چکی ہے۔ وزارت انصاف یو اے ای نے14 اپریل 1980 کے گلف اسٹیل معاہدے کی تصدیق نہیں کی جبکہ طارق شفیع کا بیان جے آئی ٹی نے غلط ثابت کیا ہے۔

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے قطری خط اور قطری کاروبار کی ورک شیٹ کو افسانہ قرار دیا ، جے آئی ٹی کے مطابق لندن فلیٹس شروع سے ہی شریف خاندان کے پاس ہیں،نوازشریف کاقطرسےمتعلق موقف تبدیل ہوتا رہا،وزیراعظم نےاسمبلی فلوراورقوم سے خطاب میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا۔

وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے لندن فلیٹس کو مریم نواز کی ملکیت قراردیا،جےآئی ٹی نےکہاکہ وراثتی تقسیم میں لندن فلیٹس کا کوئی تذکرہ نہیں۔بیریئرسرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں،ٹرسٹی ہونےکے لئے ضروری تھا کہ مریم نواز کے پاس بیئررسرٹیفکیٹ ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ بیئررسرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں،فرانزک ماہرین نےٹرسٹ ڈیڈ کےفونٹ پربھی اعتراض کیا،جےآئی ٹی نےکہا2006کی ٹرسٹ ڈیڈمیں استعمال ہونیوالافونٹ متعارف ہی نہیں ہواتھا، تحقیقات کےدوران مریم نواز نے اصل سرٹیفکیٹ پیش نہ کیے۔

وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایجنسی نے موزیک فونسیکا کے ساتھ خط وکتابت کی گئی ہے جس کی جے آئی ٹی نے بھی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلف اسٹیل مل سے متعلق شریف خاندان اپنا موقف ثابت نہیں کرسکا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY