پاناما کیس :آخری چھ سماعتیں ہنگامے سے بھرپور رہیں

0
174

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی آخری چھ سماعتیں ہنگامہ خیز رہیں ، وکلاء نے دلائل دئیے تو ججز کے تیکھے ریمارکس بھی سامنے آئے ۔ دس جولائی کو جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہوئی ۔ اکیس جولائی کو فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ۔
پاناما کیس کی آخری چھ سماعتیں
پہلا دن 10 جولائی 2017
جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہوئی ۔ تقریباً دن 2 بجے عدالت نے حکم دیا دس والیم پر مشتمل رپورٹ کے نو والیم فریقین کو دے دئیے جائیں ۔ جے آئی ٹی کی استدعا پر والیم ٹین پبلک نہیں ہوگا ۔ سماعت 17 جولائی تک ملتوی کر دی گئی ۔
سماعت کا دوسرا دن 17 جولائی 2017
صبح ساڑھے 9 بجے سماعت شروع ہوئی ۔ دلائل کا آغاز تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کیا ۔ نعیم بخاری نے رپورٹ کے حق میں مختصر دلائل دئیے جس کے بعد درخواست گزار شیخ رشید خود عدالت میں پیش ہوئے ۔ شیخ رشید نے جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں وزیر اعظم کی نااہلی کی استدعا کی ۔ 17 جولائی کو ہی جماعت اسلامی کے وکیل نے بھی دلائل مکمل کیے اور پھر وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کر دیا ۔ وزیر اعظم نے دائر اعتراضات میں رپورٹ کو جانبدرانہ ، متعصب اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ۔
تیسرا دن۔18 جولائی 2017
وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل جاری رکھے ۔ وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کو لندن فلیٹس کا براہ راست مالک ٹھہرایا نہ ہی کرپشن اور عہدے کے غلط استعمال کا ، ایسے میں وزیر اعظم کو نا اہل کیا جا سکتا نہ ہی ان کے خلاف ریفرنس بھیجا جا سکتا ۔
چوتھا دن 19 جولائی 2017
وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے تین بعد اپنے دلائل مکمل کرلیے ۔ وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ وہ بیرون ملک سے آنے والی نئی دستاویزت کل عدالت میں جمع کرائیں گے اور دلائل کا باقاعدہ آغاز کریں گے ۔ ان کے بعد اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل دئیے ۔
پانچواں دن 20 جولائی 2017
وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل کا آغاز کیا ۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جے آئی ٹی تحقیقات کے بعد بھی غیر متنازع حقائق سامنے نہیں آئے ۔ ریفرنس کی سفارش نہیں کی جا سکتی ، آف شور کمپنیوں کے بینفیشل مالک حسین نواز ہیں ۔ عدالت نے وکلاء کو دلائل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔
چھٹا اور آخری دن 21 جولائی 2017
سلمان اکرم راجا نے دلائل مکمل کیے جبکہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن ، نیب ، ایف آئی اے اور درخواست گزاروں کے وکلاء نے جواب الجواب میں موقف پیش کیے ۔ دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ۔

SHARE

LEAVE A REPLY