مصر کے شورش زدہ صوبے شمالی سیناء کے دارالحکومت العریش میں مسلح افراد کی پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ سے چار اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
مقامی میڈیا کی اطلاع کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور پولیس نے ان کی تلاش شروع کردی تھی۔
شمالی سیناء میں پولیس اہلکاروں پر اس حملے سے ایک روز قبل ہی دارالحکومت قاہرہ کے شمال میں واقع ایک گاؤں میں مسلح افراد نے ایک پولیس پارٹی پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں دو پولیس افسر ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔
واضح رہے کہ جزیرہ نما سیناء میں مختلف جنگجو گروپوں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن فوج اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔مصری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل اور غزہ کی پٹی کی سرحد کے ساتھ واقع صوبے شمالی سیناء میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والوں میں سب سے نمایاں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ صوبہ سیناء یا انصار بیت المقدس ہے۔مصری فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سیناء میں کارروائیوں کے دوران ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے لیکن ابھی تک وہ شورش پسندی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
گذشتہ کچھ عرصے سے داعش کے جنگجو قاہرہ اور دوسرے علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ مصر کی سب سے بڑی اقلیت قبطی عیسائیوں پر بھی بم حملے کررہے ہیں یا انھیں فائرنگ میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY