بود نامی صاحبِ ملکِ سخن میرمحمد معصوم بکھری گورنر سندھ

محسنِ سندھ میرسید محمد معصوم بکھری یگان ۂدہر اور فخر روزگار ہستی ہیں ۔آپ سیدنا امام موسیٰ الکاظم کی ذریت طیبہ میں سترہویں پشت (۱۷)میں آتے ہیں۔ ابتدائی تعلیم ملا کنگری سے حاصل کی بعدازاں کامل اساتذہ سے استفادہ کیا۔ نہایت وجیہہ،خوبصورت ،قد آور اور دلیر تھے ۔بچپن سے لے کر عالمِ شباب تک فنون سپہ گری و تیغ زنی کاذوق وشوق غالب رہا۔آپ کی جرأت وبہادری کے کارنامے نواح میں مشہور ہونے لگے اور ان کے رعب وجلال سے عوام وخواص مرعوب ہونے لگے۔یہ زمانہ محمود خان حاکمِ سندھ کا تھا ۔اس نے ان واقعات کی اطلاع جلال الدین اکبر بادشاہ کو دی ۔جلال الدین اکبر صاحبانِ کمال کا قدر دان تھا ۔فوراًاپنی فوج کا افسر مقرر کیا ۔اس وقت آپ کی عمر اڑتیس سال تھی۔اجمیر اور دوسرے معرکوں میں بر سر پیکار رہتے بیس سال تک کارہائے نمایا ں سرانجام دیے جن میں ایدر کی لڑائی ۹۸۴ھ؍۱۵۷۶ء،بہار وبنگال کی لڑائی ۹۸۸ھ؍۱۵۸۰ء،بنگال میں ایک اور لڑائی ۹۹۱ھ؍۱۵۸۴ء اور گجرات کی مہم ۹۹۲ھ؍۱۵۸۴ء معروف ہیں ۔قیامِ گجرات میں آپ نے طبقاتِ اکبر ی (۱۰۰۲ھ) کے مصنف خواجہ نظام الدین احمد کی معاونت کی ۔اسی دوران آپ کو تاریخِ سندھ لکھنے کا خیال آیا ۔قیامِ گجرات کے دوران ہی ۹۹۸ھ؍۱۵۸۹ء آپ کو لاہور پہنچنے کا حکم ملا جہاں آپ نے اکبرسے ملاقات کی۔ اکبر بادشاہ آپ کو قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتا تھا ۔شوال ۹۹۸ھ؍جولائی ۱۵۹۰ء اکبر کی جانب سے ٹھٹھہ کی فتح کا حکم جاری ہوا ۔

اس دوران آپ کی والدہ سیدہ بی بی کلاینہ نے اسے خط لکھا کہ جس ماں کا اکلوتا بیٹا بیس سال تک نگاہوں سے اوجھل رہے اس ماں کا دل کیا کہتا ہو گا جبکہ میرا بیٹابادشاہ کی ملکی فتوحات میں جانبازی اور وفاداری کے جوہر دکھلا رہا ہے اور اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتا ۔کیا بادشاہ سلامت کے عدلِ خسروانہ سے یہ امید کر سکتی ہوں کہ میرے بیٹے کو میرے آخری سانس تک اس علاقے کا حاکم تعینات کر دے۔ بادشاہ اس خط سے متاثر ہوااور میر معصوم کو دربیلا(نوابشاہ )،کاکڑی، چانڈ کا پر گنہ کی جاگیر عطا کر کے ۱۰۱۵ھ میں سندھ کا گورنر مقرر کیا ۔ آپ ۱۴صفر ۹۹۹ھ؍ ۱۲دسمبر ۱۵۹۰ء کو سکھر پہنچے۔ ان کے ساتھ عبدالرحیم خانخاناں بھی ٹھٹھہ کو فتح کرنے کے لیے لاہور سے سکھر پہنچا ۔ضروری تیاری اور آرام کے بعد خانخاناں ٹھٹھہ کو فتح کرنے کے لیے بکھر سے نکلے۔ حکم کے مطابق میر محمد معصوم بھی اسی مہم میں شامل تھے ۔ٹھٹھہ پر میرزا جانی بیگ کی حکمرانی تھی ۔جنگ شروع ہوتے ہی ترخانوں اور خانخاناں کے مابین زبردست معرکے ہوئے اور جنگ کا دائرہ سیہون ،عمر کوٹ،نصر پور ،بدین اور ٹھٹھہ تک پھیل گیا ۔زبردست خون خرابے کے باوجود بھی مغل لشکر فتح حاصل نہ کرسکا ۔بالآخر صلح کی کوششیں ہوئیں اور مرزا جانی بیگ اور عبدالرحیم خانخاناں کے درمیان ۲۶محرم ۱۰۰۰ھ؍۱۷اگست ۱۵۹۱ء معاہدہ طے پایا ۔جنگ ختم ہوئی اور ٹھٹھہ کا مغل سلطنت سے الحاق کیا گیا ۔

جنگ کے خاتمے کے بعد میرمحمد معصوم فارغ ہو کر تعطیلات میں بکھر آئے اور تین برس(۱۰۰۱ھ تا ۱۰۰۳ھ مطابق ۱۵۹۱ء تا ۱۵۹۳ء )تک بکھر میں رہے ۔خاندانی قبرستان کی تزئین و آرائش ، والد اور بھائی کی قبر کے کتبے سجا کر محفوظ کیا ۔مختلف عمارتوں اور تعمیرات کی بنیاد رکھی ۔سندھ کی گورنری کے دوران آپ نے رفاہ عامہ کے لیے بہت سی سرائیں، درسگاہیں ، مساجد اور عید گاہیں بنوائیں ۔غرباومساکین ،بیواؤں اور یتیموں کی ہرممکن اعانت کرتے رہے ۔تین سال گزرنے کے بعد ۱۰۰۳ھ؍۱۵۹۵ء میں سبی میں افغانوں نے بغاوت کر دی ۔ انہیں میر ابوالقاسم نمکین کے ساتھ سبی کے لیے فوجی مہم پر مامور کیا گیا جس باعث مغل حکمرانوں کو قندہار ومکران تک رسد کی آسانی ہوئی ۔میر معصوم سبی کی مہم سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ شاہی حکم کے مطابق انہیں’اڑھائی صدی ‘منصب دے کر قندہار روانہ ہونے کو کہا گیا جو آخر میں’ایک ہزار‘تک جا پہنچا۔میر صاحب بکھر واپس آنے کی بجائے قندہار چلے گئے ۔قندہار میں انہوں نے چار سال (۱۰۰۳ھ؍۱۵۹۵ء سے ۱۰۰۷ھ؍۱۵۸۹ء)تک فوجی خدما ت دیں ۔۱۰۰۸ھ؍۱۵۹۹ء میں انہیں قندہار چھوڑنے کا حکم ملا اور وہ سبی اور شال سے ہوتے ہوئے بکھر پہنچے اور بعد میں جیسلمیر کے راستے آگرہ پہنچے ۔آگرہ پہنچے تو برہانپور کے لیے جنگی تیاریاں عروج پہ تھیں ۔اکبرخود اس مہم میں شریک ہو رہے تھے ۔ یہ مہم دو سال (۱۰۰۸ھ؍۱۵۹۹ء سے ۱۰۰۹ھ؍۱۶۰۰ء)تک جاری رہی ۔بالآخر مغل لشکر نے خاندیش پر قبضہ کر لیا ۔اس جنگی مہم میں میر معصوم بھی شامل رہے ۔اس فوجی مہم کی کامیابی کے بعد میر معصوم آگرہ لوٹ آئے ۔

Dr. Ali Abbas Shah at Ma'soomi Minar in Sukkur

اس زمانے میں مغل حکومتکو ایران کی طرف سفارت بھیجنے کی ضرورت پڑی جس کے لیے میر معصوم کا انتخاب کیا گیا ۔اسی زمانے میں اکبر بادشاہ نے آپ کو’امین الملک ‘کا منصب دیا ۔
۱۰۰۹ء میں آپ ایران جانے کے لیے آگرہ سے بکھر پہنچے ۔ضروری ساز وسامان اور تیاری کے بعد ۱۰۱۲ھ/دسمبر۱۶۰۳ء میں ایران کے لیے روانہ ہوئے ۔اس موقع پر جلال الدین اکبر نے اپنے مراسلے میں شاہِ فارس کوآپ کے تعارف میں لکھا؛’سیادت ونقابت آثار، افادت واضافت دثار، محرم بزمِ جلالت ، اسا س مخصوص الطاف واعطاف عنایت اقتباس ، امین الملک میرمحمدمعصوم بکریکہ ازاجلۂ ساداتِ ایں بلاداست وبمزیدمراتب اخلاص ورواتب اختصاص مخصوص وممتاز ‘؛ آپ جس مقصد کے لیے ایران بھیجے گئے اس میں کامیابی ہوئی ۔ایران کے بادشاہ عباس صفوی سے ملاقات اور طرفین میں خطوط وتحائف کا تبادلہ ہوا۔کامیاب سفارتی دورے کے بعد ۱۰۱۳ھ؍۱۶۰۴ء میں وطن لوٹ آئے ۔شاعر، مؤرخ اورصاحبِ قلم وقرطاس ہونے کے باعث ایران کی ادبی دنیا نے خوب پذیرائی کی ۔علمی وادبی مجالس کا اہتمام کیا گیا۔ آپ سے ملاقات کرنے والے دو دانشوروں تقی کاشی نے ۱۰۱۲ھ میں اپنے تذکرے ’خلاصۃ الاشعار ‘ ا و ر ۱۰۱۳ھ میں تقی اوحدی نے ’عرفات العاشقین‘میں آپ سے ملاقات کا احوا ل درج کرتے آپ کی تعریف کی ہے ۔ایرانی حضرات کے علاوہ آپ کے معاصر دو ہندی دانشوروں خواجہ نظام الدین احمد نے’طبقات اکبری‘ اور ملا عبدالقادر بدایونی نے ’منتخب التواریخ ‘ میں آپ کا ذکرشایانِ شان کیا ہے ۔
سفارتِ ایران سے واپس ہوتے وقت بکھر سے آگرہ پہنچے ۔چند ماہ بعد شہنشاہ اکبر ۱۴جمادی الاول ۱۰۱۴ھ ؍۱۷اکتوبر ۱۶۰۵ء کو فوت ہوئے اور جہانگیر بادشاہ بنے ۔اس وقت میر معصوم دربار میں موجود تھے ۔رمضان ۱۰۱۴ھ؍جنوری ۱۶۰۶ء جہانگیر سے اجازت لے کر بکھر روانہ ہوئے ۔

بکھر پہنچنے کے بعد دو ماہ بعد بروز جمعہ ۶ذی الحج۱۰۱۴ھ؍۴ ۰ اپریل ۱۶۰۶ء راہ ئعدم ہو گئے ۔ ؂سال فوتم ازخرد جستم بگفت بود نامی صاحبِ ملکِ سخن ۱۰۱۴ھ
آپ کی زوجہ رقیہ بی بی دختر سید محمد شاہ کاظمی قندہاری کے بطن سے ایک فرزند سید میر بزرگ کلاں پیدا ہوئے جن کے صلب سے ایک دختر (زوجہ خواجہ محمد چشتی مودودی ) اور دو پسران میرزا قندہاری اور سید محمد زکریا شاہ پیدا ہوئے ۔سید محمد زکریا شاہ کے دو صاحبزادے سید محمد اور سید علی شیر شاہ تھے ۔سید علی شیر شاہ مغلیہ عہد حکومت میں گجرات کے حاکم رہے۔ میر معصوم کی اولاد ساداتِ معصومی کہلاتی ہے اور پرانا سکھر معصومی محلہ میں آباد ہے ۔میر معصوم بھکری جہاں فرمانروا،جنگجو سپہ سالار تھے وہیں علم وادب میں بھی بلند مقام رکھتے تھے ۔عہد حاضر میں آپ گورنر ،سپہ سالار ، ،سفیر ،امیر اور جاگیر دار اور سیاستدان ہونے سے زیادہ ایک مصنف ،شاعر اور مؤرخ معروف ہیں ۔

در مذہب ما بجملہ یکسان میباش در دائرۂ کفر بایمان میباش
اینست طریقِ عشق جانان ۂما زنار بگردن ومسلمان میباش نامی ؔ

بارگاہ حیدر کرار میں نذرانہء عقیدت پیش کرتے فرماتے ہیں ؛

شہِ دین ودنیا علی الولی وصی ووفی جانشین نبیؐ
قدمہاش بر باز ویی شد سوار کزو بازویی شرع شد استوار

قایلۃ نواب امیر محمد معصوم الحسیني النامي تخلصاًوالبکري مسکناًدر وقتيکہ از ہند برسالۃ إیران آمدہ بود إینجارسید،۱۰۱۳ھ ہزار وسیزدہ
قندہار کی گورنری کے دوران اپنے خاندان کے ایک بزرگ سید محمود شیر قلندرکے مزار پہ یہ اشعار کندہ کروائے ؛
درین آرام گاہ بی رہ و رو اگر مردی ! منہ دل یکسر مو
از ایں منزل کہ یاراں در رحیل اند ترا آں جملہ در رفتن وکیل اند
ترا گر آسماں منزل نشین است ہم آخر جایی تو زیر زمین است
بیا نامیؔ ! بہ کار خود بگرئیم زمانی بر مزار خود بگرئیم
سفارتِ ایران کے دوران تربتِ جام میں ابونصرشیخ احمد جام ژندہ پیل کی درگاہ پہ حاضری دی اور یہ اشعار کندہ کیے ؛
مرشدِ نامی شیخِ گرامی احمدِ جامی عمر برہ
سال وفاتش گر تو بجوئی احمدِ جامی قدس سرہ حررہ محمد معصوم بکریی نامی ۱۰۱۲ھ
شاہِ خراسان ،امامِ رؤف ،آٹھویں خلیفo ۂراشد ،سیدنا امام علی ابنِ موسیٰ رضا کی بارگاہ میں جبینِ نیاز خم کرتے یہ قصیدہ پیش کیا؛

خواہم سري بگنبد مینا برآورم زیں دامگہ سري بتماشا برآورم
از آہ دم بدم بفلک نردبان نہم خود را ازیں نشیب ببالا برآورم
آراستند از پءي ما باغِ خلد را خواہم سري بدیدنِ آنجا برآورم
خواہم بسان روح مجرد شوم زخود تا خویش را بمسکن علیا برآورم
پرواز کردہ دل بسوي قافِ قربِ دوست ہر دم زشوق شہپر عنقا برآورم
زیں نقش پایي ناقہ کہ ہر روز گم شود پیي گیر بیي کنم ،پیي این پا برآورم
خواہم چو گرد باد کنم دھر گر دمي پرکار وش سر از خطِ دنیا برآورم
دنیاست کم زیک سر موي،کجاست چشم کایں مویي را ز دیدۂ بینا برآورم
ہر شب در ایں رواق بلند از شگافِ صبح خورشید وار سر بتماشا برآورم
زأھن دلئ دوست اگر نالہ میکنم آتش چو برق از دل خارا برآورم
تا دامنش کشم بسویي خویش دمبدم دست ہوس زجیب تمنا برآورم
از شوق ماہ رویي تو بر ہر سر نگاہ چشمي دگر زبہرِ تماشا برآورم
در آرزوي رویي تو ہر شام تا سحر دست از پئ دعا بتقاضا برآورم
دردِ ترا بقیمتِ صد جاں خریدہ ام مشکل دگر کہ دل بمداوا برآورم
بندم زبان گفت وشنو ز اھل روزگار حرفي زوصف خسرو والا برآورم
در مدحتِ علی رضا شاہِ اولیا ہر دم زباں چو بلبلِ گویا برآورم
از بہر طرف مرقد آں شاہِ جن وانس خواہم زدیدہ از مژہ ہا پا برآورم
اول قدم بکرسیي خورشید پانھم تا سر از اں حریم معلا برآورم
بوسم چو آستان درش را بکامِ دل کام دلِ ھزار تمنا برآورم
خواہم پیي مشاہدہ چوں خوشۂ عنب سر تا بپایي دیدہ ز اعضا برآورم
بینم گہ سجود درش عرش زیر پا شد فرض ازاں کہ سجدہ مثنیٰ بر آورم
از بس کہ بیکنار بود أبر بخششت من دامن امید چو دریا برآورم
کلکِ مراست معجزۂ عیسوي ازاں از نوکِ خارش ایں ہمہ خرما بر آورم
گردد قلم عطارد وخورشید محبرہ از آستین چو دست با ملا برآورم
ہر گہ کہ مشکبار شود دودہ ام زکلک دود از دماغ عنبر سارا برآورم
در روزگار مایۂ کان دگر شود ہر نکتہ کان ز کلک گھر زا برآورم
ہنگام فیض بخشیي و وقت اجابتست ناميؔ بیا کہ دستِ دعا را بر آورم
یا رب بحق قبلۂ ہشتم شہیدِ طوس کاندم کہ جان زقالب سودا برآورم
جسم مرا بہ مشہد آں مقتدا سپار تا آنکہ سر زجنتِ أعلیٰ برآورم

جلال الدین اکبر کے بعد جہانگیر کی تخت نشینی کے وقت آپ دربارِ مغلیہ دہلی میں موجود تھے ۔اس موقع پہ آپ نے چوتھے مغل فرمانروا کے بارے میں کہا؛

شاہِ جہاں چوں گرفت جایی بتختِ شرف تخت ز رفعتِ نہاد بر زسر چرخ پا
دستِ دعا بر کشاد پیر فلک از نشاط گفت کہ بادا مدام حکم تو فرماں روا
خواست کہ نامیؔ کند سالِ جلوسش رقم بود در آندم لبش پر زثنا
میل دو چشم حسود یک الفش کرد وگفت بادِجہان بادشاہ شاہ جہانگیر ما قایلہ وراقم محمد معصوم البکري
آپ نے ۱۰۰۹ ھ میں اولین تاریخِ سندھ کی ترتیب وتدوین کا آغازکیاجو ۱۰۱۴ھ میں مکمل ہوئی ۔تاریخِ سندھ کا یہ قدیم معتبر ماخذ۱۰۱۷ھ میں حبیب اللہ کوریجو نے نقل کیا ۔یہ کتاب تاریخِ معصومی کے نام سے معروف ہے جس کا اردو زبا ن میں ترجمہ سندھی ادبی بورڈ نے شائع کیا ہے ۔اس کے علاوہ ’پنج گنج‘،’طب ومفردات نامی‘،فارسی شاعری کے دو دیوان ، رباعیات کا دیوان ،ساقی نامہ آپ کے علمی آثار ہیں ۔

Ma'soom Shah's History at Mausoleum in Sukkur

معصومی مینار سکھر

میر معصوم علم وادب اور فنون سپہ گری کے ساتھ ساتھ ماہر تعمیرات اور خطاط بھی تھے ۔ایران وہندوستان کے متعدد مزارات کی تاریخ وکتبہ جات اپنے ہاتھوں رقم کیے۔سید حسام الدین راشدی نے چوون (۵۴) کتبوں کی نشاندہی کی ہے اور ان کے عکس اپنی کتاب مطبوعہ سندھی ادبی بورڈمیں محفوظ کیے ہیں ۔ہندوستان ،ایران وافغانستان کے مختلف مقامات پہ مساجد ،مقابر،مزارات ، باغات اور راستوں پہ نصب کتبے فارسی زبان میں ہیں ۔ شیخ الاسلام میر صفائی کا مزار تعمیر کروا کے اس کے ساتھ آپ نے ۱۰۰۲ھ مطابق ۱۵۹۳ء ،ایک ۸۴فٹ بلند مینارکی بنیاد رکھی جو۱۰۱۳ھ مطابق۱۶۰۴ ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس مینار کی کل ۸۴سیڑھیاں ہیں اور اس کی بلندی پہ پہنچ کر دریائے سندھ اور قدیم و جدید سکھر کا نظارہ نظر افروز ہے۔مینارے کا افتتاح شہنشاہ جلال الدین اکبر نے کیا ۔انگریز ناقدین نے مینار کی بناوٹ ،پختگی و پائیداری کی ستائش کی ہے ۔ علاوہ ازیںآپ کے تعمیراتی کارناموں میں روہڑی کی عید گاہ ،چوکنڈی قبرستان سکھر، آرام محل ،باغِ قندہار ،منزل گاہ ،مسجد جہاز نما ، گنبد ستیاسر ،جیسلمیر کی رفاہی عمارت ،مسجدِ اطاق قندہاربر مزار سید شیر قلندر،ہشت پہلو گنبد و ہفت چاہ عمارت سکھر کتبِ تاریخِ سندھ میں فروزاں ہیں جن میں سے اکثر کا وجود مٹ چکا ہے ۔حیاتِ دنیا میں ۷۵ سال ضیا پاشی کے بعدساداتِ موسویہ کاظمیہ ہارونیہ کا یہ چراغ بروز جمعہ ۶ ذی الحج ۱۰۱۴ھ مطابق ۴اپریل ۱۶۰۶ء راہ ئعدم ہو گیا ۔آپ کے وصال سے سندھ کی علمی ، ادبی اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنہرا باب بند ہو گیا ۔ اپنے والد شیخ الاسلام میر صفائی کے پہلو میں دفن ہوئے ۔آپ کا مزار پر انوار سکھر ،سندھ میں مرکز تجلیات ہے اور معصوم شاہ کا مینارہ سکھر کی پہچان ہے ؛

میر معصوم آں مہ برج شرف آفتابِ شرع ودیں فخر زمن
روز جمعہ سادسِ ذی الحجہ گشت عازمِ جنت بامرذُوْالْمَنَنْ
سال فوتش از خرد جستم بگفت بود نامی ؔ صاحبِ ملکِ سخن ۱۰۱۴ھ

ڈاکٹر سید علی عباس شاہ منڈی بہاء الدین

SHARE

LEAVE A REPLY