انیس اگست 1970ء امتیاز علی تاج کا یوم وفات

0
340

امتیاز علی تاج
تاج، امتیاز علی
سن ۱۹۷۰ – ۱۹۰۰ مشہور مدیر اور ناشر منشی ممتاز علی کے فرزند تھے۔ ان کا ادارہ “دارلاشاعت پنجاب لاہور” میں مرکزی اشاعت گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ امتیاز کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔ اے۔ کر کے اشاعتی ادارے کی نگرانی اور تصنیف کے کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ جلد ہی مستند ادیبوں میں شمار کیے جانے لگے۔ ابتدا ہی سے ان کا رحجان ڈراموں کی طرف زیادہ تھا۔ کالج کی تعلیم کے زمانے میں کئی ڈرامے لکھے۔

۱۹۲۲ میں ان کا شاہ کار، نیم تاریخی ڈرامہ “انار کلی” منظر عام پر آیا۔ انار کلی ڈرامہ ادبی حلقوں میں بہت سراہا گیا۔ ایسی مقبولیت کسی اور ڈرامے کے حصہ میں نہیں آئی۔ اس ڈرامے میں اثر انگیزی بہت ہے۔

انار کلی کے بعد تاج نے کوئی مکمل اسٹیج ڈرامہ نہیں لکھا۔ البتہ یک یابی ڈرامے اور ریڈیو ڈرامے کافی تعداد میں لکھے۔ انھوں نے فلمی کہانیاں اور مکالمے بھی لکھے۔ ہدایت کار کی حیثیت سے فلم سازی میں بھی حصہ لیا۔

اردو مزاح نگاری میں تاج کا سب سے نمایاں کام چچا چھکن کے مزاحیہ کردار کی پیش کش ہے۔ مزاح نگاری کا یہ اسلوب انھوں نے انگریزی سے اخذ کیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY