پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن ٹو کے دوران سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث کرکٹر شرجیل خان سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ بدھ (30 اگست) کو سنایا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹریبیونل میں شرجیل خان کے خلاف اسپاٹ فکسنگ میں الزامات ثابت ہونے پر تاحیات پابندی کی سفارش کر رکھی ہے۔

پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی کے مطابق جسٹس ریٹائر اصغر حیدر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 30 اگست کو دوپہر 1 بجے شرجیل خان کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سنائے گا۔

مذکورہ بینچ میں سابق چیئرمین پی سی بی لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا اور سابق وکٹ کیپر وسیم باری بھی شامل ہیں۔

اسپاٹ فکسنگ کیس میں شرجیل خان کے خلاف سماعت گذشتہ ماہ 29 جولائی کو مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا، جہاں پی سی بی نے کرکٹر پر تاحیات پابندی کی سفارش کی تھی۔

خیال رہے کہ اوپننگ بلے باز شرجیل خان کا کیس پی سی بی کے ٹریبیونل میں گذشتہ 6 ماہ سے زیر سماعت ہے جس میں ان کے وکلاء پی سی بی کے ثبوتوں کو ناکافی قرار دے کر مسترد کرتے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں متحدہ عرب امارات میں منعقدہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن کے آغاز میں ہی اسپاٹ فکسنگ کے الزامات پر اسلام یونائیٹڈ کے دو کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا تھا.

بعد ازاں شاہ زیب حسن، ناصر جمشید اور فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو بھی بکیز سے رابطے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے پی ایس ایل سے باہر کر دیا گیا تھا۔

محمد عرفان نے پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کا اعتراف کر لیا تھا جس کے بعد ان پر ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے پر ایک سال کی پابندی عائد کردی گئی۔

پی سی بی نے عرفان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ڈسپلن بہتر ہونے پر فاسٹ باؤلرز کی سزا 6 ماہ تک محدود کی جا سکتی ہے۔

ناصر جمشید کو اسپاٹ فکسنگ کیس میں مبینہ طور پر سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے بھی یوسف نامی بکی کے ساتھ گرفتار کیا تھا لیکن بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

شاہ زیب حسن اور خالد لطیف پر اسپاٹ فکسنگ کیس میں سماعتیں اب بھی زیر التواء ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY