سابق صدر پرویز مشرف نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مشتبہ سرگرمیوں کا انہیں علم تھا کیونکہ وہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ کے آر ایل چلاتے تھے، اس لئے ان پر نظر رکھنا ضروری تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ دبئی جا رہے ہیں لیکن وہ سوڈان چلے گئے تھے، اس پر میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پُراسرار سرگرمیوں پر نواز شریف کو جی ایچ کیو میں بریفنگ دی تھی۔

پرویز مشرف نے کہا کہ مجھے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ شرمندگی اس وقت ہوئی جب میرے دورہ امریکا کے دوران صدر بش نے کہا کہ میں جارج ٹیننٹ سے ملاقات کر لوں تو مجھے ایک دن مزید قیام کرنا پڑا، اس دوران جارج ٹیننٹ نے مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف نا قابلِ تر دید ثبوت دکھائے کہ انہوں نے کس طرح ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کے آلات بھی سمگل کیے تھے۔ ایک سری لنکن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا فرنٹ مین تھا جو کہ در حقیقت ڈبل ایجنٹ تھا، میں نے اسلام آباد میں ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو بلا کر یہ نا قابلِ تردید ثبوت دکھائے تو میں خدا کو حاضر و ناظرجان کر کہہ رہا ہوں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان میرے گھٹنوں کو پکڑ کر رونے لگے اور کہا کہ مجھے بچا لیں، وہ میرے بھی ہیرو تھے، امریکی تو انہیں حوالے کرنے کا کہہ رہے تھے، جبکہ میں نے تجویز رکھی کہ وہ اپنے کیے کی قوم سے معافی مانگیں۔ ہمیں اندیشہ تھا کہ اس کے بعد کوئی انہیں نقصان نہ پہنچائے، اس لئے انہیں گھر میں زیرِ نگرانی رکھا گیا، میں نے امریکیوں کو کہا کہ ایٹمی صلاحیت دنیا میں سب نے چوری کے ذریعے حاصل کی، ہم نے بھی اپنے مفاد میں ایسا کیا۔ اب اگر ڈاکٹرعبدالقدیر خان میرے خلاف بولتے ہیں تو مجھے افسوس ہوتا ہے۔

لندن میں واقع اپنے فلیٹ میں دنیا نیوز کے پروگرام “آن دی فرنٹ” کیلئے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کرپشن میں مبتلا تھے اور وہ اسی قابل تھے کہ انہیں نا اہل قرار دیا جاتا، لوگ نواز شریف کی نا اہلی پر بہت خوش ہیں کیونکہ انہوں نے ملکی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ پرویز مشرف نے دعویٰ کیا میاں صاحب کی نااہلی پر لوگوں نے انہیں بھی مٹھائیاں بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے دور میں نواز شریف کیخلاف مقدمات بنے لیکن نواز شریف کے معاہدہ کر کے ملک سے باہر جانے کی بنا پر ان پر عمل نہیں ہو سکا۔

SHARE

LEAVE A REPLY