بات کرنی نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے،تسنیم عابدی

0
170

“تیرے لہجے سے ترا جہلِ دروں بولتا ہے
بات کرنی نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے”
ایسا لگ رہا ہے کہ میرے شاعرِ طرح دار عرفان ستار نے یہ شعر کیپٹن صفدر جیسے ہی لوگوں کی لئے کہا ہے ادھر منہ کھلا اور تعصب جہل اور فساد کا زہر اگلنا شروع!!!
مجھے اس وقت بے ساختہ ایک واقعہ یاد اگیا کہ ابو ظہبی کے شیخ خلیفہ اسکول میں ہر دو سال بعد پاکستان سے کوئی نہ کوئی پرنسپل تعینات ہوکر جب بھی اتا سارا اسٹاف اس کی کرسی سنبھالنے ہی اس کے مذہب مسلک اور کردار کے حوالے سے کن سوئیاں لینے لگتا مجھے رفتہ رفتہ یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ تگ و دو اس لئے ہوتی کہ سامنے والے کی اہلیت کا مقابلہ تو مشکل ہے اس لئے اگر کوئی کمزور پہلو مل جاتا تو پھر اس طرح اس کے ما تحت کام کرنے میں دل کو تسلی سی ہو جاتی ایک مرتبہ ایک ائر فورس کےریٹائرڈ افسر بحیثیت پرنسپل تعینات ہوئے ابھی وہ پہنچے ہی تھے کہ لوگوں نے بھانپ لیا کہ یہ صاف گو ہےاور یقیناً کام کرنے والے لوگوں کو ہی پسند کرے گا بس پھر کیا سارے نا اہل ایک طرف ہوگئے ایک طویل بے نام کی تحریر چھاپی گئی جس کا لب لباب یہ تھا کہ تمام لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ پاکستانی کالج میں ایک احمدی پرنسپل کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ معصوم طلبہ کے عقیدے کو نقصان پہنچایا جاسکے موصوف احمدی ہیں رنگین مزاج ہیں اور روشن خیال ہیں بس پھر کیا تھا ساری کمیونٹی میں خلفشار مچ گیا بعد میں معلوم ہوا کہ جتنے ظاہری دیندار نمازی ریاکار تھے یہ ان کی سازش تھی اور ان پرچوں کی تقسیم میں مقامی مسجد کے امام اور مسجد کو استعمال کیا گیا سوائے ہم چند لوگوں کے سب مخالف تھے ہم سر پھروں کا یہ کہنا تھا کہ کسی بھی مذہب کا شخص ہو اگر وہ کرسی کا اہل ہے تو بس بات ختم ۔۔ایک ماہرِ تعلیم سے استفادے کے بجائے اس کے مذہب اور مسلک کی فکر چہ معنی دارد ۔۔!!بعد میں معلوم ہوا کہ الزام بھی غلط تھا ۔۔ایک کرپٹ شخص جو خود مالی بد عنوانی میں مبتلا تھا اس نے ایسا کیا تو گویا ہمارے پاس اب کیسے میں شیعہ ، قادیانی ، بریلوی ، عیسائی کارڈ موجود ہیں جس نااہل کو ضرورت پڑتی ہے اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لئے استعمال کر لیتا ہے
کیسا برا وقت اور کیسا برا زمانہ اگیا ہے کہ اب چور ، لٹیرے بد عنوان لوگ اپنی برہنگی کو چھپانے کے لئے علی الاعلان مذہب کا لبادہ چڑھا رہے ہیں دین اور مذاہب کا ملمع ہر دور میں چڑھایا جاتا رہا ہے مگر اس طرح کھلم کھلا اپنی بیہودگی اور نا اہلیت کو چھپانے کے لیے جوسب کچھ اب ہورہا ہے ایسا تو چشمِ فلک نے کبھی کبھی ہی دیکھا ہوگا ۔۔۔مجھے ان نام نہاد سیاستدانوں سے زیادہ ان لوگوں سے گلہ ہے جو بیوقوف بن کر خوش ہوتے ہیں اور اپنے لٹنے کا خود ہی جشن مناتے ہیں ۔۔۔ پناما کیس نے کیسے کیسے شریفوں کے چہروں سے نقاب اتارا مگر افسوس صد افسوس کہ اپنے جرم کا دفاع یہی کہہ کر ہوتا رہا کہ یہ جمہوریت کے ساتھ سازش ہے گویا جمہوریت کسی ایک فرد یا ایک خاندان کی حکومت کا نام ہوگیا ہو یا پھر پچاس ساٹھ ہزار کی اکثریت سے جیتنے والا اب ہر جرم اور ہر خطا کے کے لئے آزاد قرار دیدیا گیا ہو !!!
جس سیاسی پارٹی کو دیکھوصرف ووٹ کے حوالے سے عوام کی طرف دیکھتی ہے اس کے لئے چاہے انھیں کالعدم جماعتوں کے ممبرز کو ٹکٹ دینا پڑے یا کسی گدھے کا انتخاب کرنا ہو یا اگر کسی فرقہ پرست ووٹرز کی طرف رجوع کرنا پڑے تب بھی یہ سودا گوارا ہے کیونکہ اس بازار میں خریدار سے زیادہ جنسِ ارزاں خود کو بیچنے کے لئے بےقرار ہے اگر پھر بھی کچھ کسر رہ جائے تو دھاندلی کے سنہرے اصول اپنا کر اسمبلی کی نشست کو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ اس بازار میں سب کچھ بکتا ہے اپنی قوتِ خرید دکھاؤ اور پورے علاقے بلکہ پورے سماج کا سودا کرلو ۔
واقعی اندھیر نگری چوپٹ راجہ ہے اس نگری میں مذہب اور حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ اپنوں کو کوڑیوں کے دام اور دوسروں کو اشرفیوں کے مول بھی نہیں ملتے ۔۔۔کیسی بد نصیب قوم ہے جو اپنے وزرا اپنی فوج اپنے بیوروکریٹس کے ہاتھ روزانہ بکتے ہیں اور بکنے پر قیمت بھی نہیں ملتی ریاست اقلیت کے خون کی پیاسی نظر آتی ہے فوج طاقت کی علامت بنتی جارہی ہے جو دشمن کے بجائے اپنے ہی لوگوں کو زنجیریں ڈالنے میں مصروف ہے ایک زمانہ تھا کہ فوج کو محافظ ادارہ سمجھا جاتا تھا نجانے کس کی نظر لگ گئی کہ اب بدگمانیوں کی ایک خلیج ہے جو پاٹنے نہیں پَٹتی ۔اب اس اسٹیبلشمنٹ کی بلا کے سامنے ہر اصول ہر قانون بے بس نظر اتا ہے ۔۔۔۔اسی لئے رفتہ رفتہ جو باتیں ڈھکے چھپے کی جاتی تھیں اب ببانگِ دہل کی جارہی ہیں بات گلی محلے کے جلسوں سے بڑھتے بڑھتے ٹی وی ٹاک شوز اور اب اس سے بڑھ کر اسمبلی ہال تک جا پہنچی کیپٹن صفدر صاحب اپنی بد عنوانی اپنی لوٹ مار اپنی عیش و عشرت کی داستانوں کی صفائی کے بجائے ڈاکٹر عبدالسلام کے مذہب اور مسلک پر بات کر رہے ہیں کاش اس اسمبلی میں کسی میں اتنی جرات ہوتی کہ وہ کھڑا ہوکر کہتا کہ اس فلور سے اگر محبت اور مساوات نہیں تقسیم کر سکتے تو کم از کم یہ نفرت کا منجن تو فروخت مت کریں کیپٹن صاحب کیا سلمان تاثیر کے قاتل کو اپ اپنا ہیروکہہ کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اب فیصلےعدالت کی چار دیواری کے بجائے گلی اور محلے کے ہجوم کے ہاتھوں ہوں گے کاش کہ ڈاکٹر عبدالسلام جیسے سائنسدان کی تحقیق اور علمی سطح پر کوئی گفتگو کی جاتی ایک طبیعات کے ماہر کو قادیانیت کا طعنہ دے کر نیچا نہ دکھایا جاتا کیپٹن صفدر صاحب نیوٹن ، ایڈیسن تو خادمین حرمین شریفین کی طرح اپ کے سگے رشتے دار ہیں جن کی سائنسی ایجادات اور نظریات سے اپ کے محل جگمگا رہے ہیں ایک سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کفار اور مشرکین کی عطا کردہ ہیں اللہ کا شکر ہے کہ کوئی پاکستانی نہیں ورنہ اپ جیسوں کی نفرت کی بھینٹ چڑھتا ویسے لندن اور یورپ میں جہاں اپ سب کے بچے پڑھ رہے ہیں کیا ان یونیورسٹیوں کے تمام شعبے مسلمانوں کے نام پر ہیں ۔اپنی کرپشن اور بد عنوانی کو چھپانے کے لئے نفرت کی سیاست کو فروغ مت دیجئے پاکستان پہلے ہی مسلک فرقے اور لسانی حوالے سے لہو لہو ہے ناموس رسالت پر ووٹ خریدنے والا نواز شریف ہو عمران خان ہو شیخ رشید یا سابق فوجی کیپٹن صفدر ہو صرف اس بات کو یاد رکھیں کہ جو لوگ مذہب اور مسلک کا کارڈ استعمال کرتے ہیں وہ فکری یتیم ہوتے ہیں میں اس نبی کی ماننے والی ہوں جو علم حاصل کرنے کے چین یا روس میں فرق نہیں کر سکتے جو بدر کے کافر اور مشرک قیدیوں
کو مسلمانوں کا استاد بنانے میں عار نہیں سمجھتے تھے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY