ناسا میں صلاحیت منوانے والی پہلی پاکستانی نژاد خاتون

0
179

یہ اگست 1990 کی ایک عام سی رات تھی، عموما ََ رات کے اس پہر کا سناٹا بہت پر سکون ہوا کرتا ہے مگر اس روز ہر جانب پھیلی بارود کی بو اور جنگ کے منڈلاتے مہیب بادلوں کے سائے میں یہ سنا ٹا جیسے ہر شے کو نگلنے پر آمادہ نظر آتا تھا ۔

چار سالہ حبا نے ٹھنڈی ہوا سے سرد پڑتی اپنی انگلیوں کے ساتھ ماما کا ہاتھ کچھ اور مضبوطی سے تھاما ۔ اس کا ننھا سا دل پے در پے گونجتے بموں اور ٹینکوں کے دھماکوں کی آوازوں پر لرز پڑتا تھا ۔ ماما نے گھر سے افراتفری میں نکلتے وقت اسے صرف یہ بتایا تھا کہ کویت پر عراق نے حملہ کر دیا ہے اور وہ کسی محفوظ راستے سے سرحد پار کرکے اردن چلے جائیں گے ۔

ناجانے ابھی اور کتنا سفر باقی تھا ، کچھ دیر کے لیئے وہ لوگ دم لینے ایک چٹان کی آڑ میں بیٹھے تو بے اختیار حبا کی نگاہیں بے کراں آسمان کی وسعتوں میں گم ہوتی چلی گئیں ، آج سے پہلے اس نے کبھی کھلے آسمان تلے بیٹھ کر ، اس پر چمکتے لا تعداد ستاروں اور کٹورا سے چاند کو نہ دیکھا تھا ، یہ حبا کا چاند ستاروں اور سیاروں سے پہلا تعارف تھا ۔

چند برس پاکستان میں گزار کر اسکی فیملی حالات بہتر ہونے پر کویت واپس لوٹی تو اس وقت تک اسٹرانامی میں حبا کی دلچسپی کچھ اور بڑھ چکی تھی ، اگرچہ وہ ریاضی میں ابتدا ہی سے بہت اچھی تھی مگر فزکس اسے قدرے مشکل لگا کرتا تھا ۔

اسے علم تھا کہ مستقبل میں اسپیس اور ایروناٹکس میں کچھ غیر معمولی کر دکھانے کے لیئے فزکس پر مکمل دسترس بہت ضروری ہےسو حبا اپنا سارا وقت لائبریریز میں فزکس کے نیومیریکلز اور پرابلمز حل کرکے گزارا کرتی، اوائلِ جوانی سے اس عادت پختہ تھی وہ جب کچھ کر دکھانے کا ارادہ کر لیتی تھی تو پھرراستے کی ساری رکاوٹوں کو روندتی ہوئے منزل پر پہنچ کر دم لیتی تھی ۔

1997 میں حبا نے اعلی ٰ تعلیم کے لیے کویت سے امریکہ جانے اور یونیورسٹی آف فلوریڈا سے کمپیوٹر انجینئرنگ میں گریجویشن کرنے کی ٹھانی تو اس کی عمر صرف سترہ برس تھی، مگر اسکے عزمِ مصمم کو دیکھتے ہوئے اس کے والدین بے فکر تھے ، اور حبا نے ہمیشہ انکی امیدوں اور توقعات سے بڑھ کر کر دکھایا ۔

خلا باز بننے کا خواب اب بھی انگڑائیاں لیتا تھا مگر حبا کو معلوم تھا کہ اس خواب کو تعبیر د ینا اتنا آسان نہیں ، سو دھیرے دھیرے اپنے لیے راستہ بناتی ہوئی آگے بڑھتی رہی، کمپیوٹر انجینئرنگ انکی منزل نہ تھی سو گریجویشن کے بعد ا نہوں نے کینیڈی سپیس سینٹر میں ایک بوئنگ کمپنی جوائن کی جو اس وقت انٹر نیشنل سپیس سینٹر کے ایک اہم مشن پر کام کر رہی تھی ۔

ملازمت کے ساتھ ساتھ حبا نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جارجیا ٹیک سے الیکٹریکل اینڈ کمپیو ٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا، اور 2008 میں اپنی زندگی کا ایک اور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے کینیڈی سپیس سینٹر میں ایویونک اینڈفلائٹ انجینئر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تو وہ وہاں کام کرنے والی چند کم عمر خواتین میں سے تھی ۔

ان کے کام کرنے کی لگن اور کچھ کر دکھانے کا عزم اتنا پختہ تھا کہ محض چار برس بعد 2012 میں اسے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹوریٹ میں شامل کر لیاگیا جن کا کام ناسا کے مختلف سپیس مشنز کے لانچنگ پروسیس کی معاونت کرنا تھا ۔

اگرچہ حبا کی صرف پیدائش پاکستان کی ہے اور وہ صرف چند ماہ کی تھیں جب ان کے والدین کویت منتقل ہو گئے تھے ، انکا بچپن کویت میں گزرا ، جبکہ سترہ برس کی عمر سے وہ امریکہ میں ہے مگر وہ اب بھی پاکستانی اور ایشیائی کہلائے جانے پر فخر محسوس کرتی ہیں ،وہ اس خطے کی خواتین کے لیئے رول ماڈل بننے کا عزم رکھتی تھی اور اس نے ثابت کر دکھایا کہ اگر انسان چاہے تو نا ممکن کچھ بھی نہیں ہوتا ۔

ناسا جیسے اعلیٰ معیار کے ادارے سے منسلک ہوکر خلا میں بھیجے جانے والے وہیکلز اور اسپیس شپس کی لانچنگ میں بھرپور تکنیکی معاونت بھی بلاشبہ کسی اعزاز سے کم نہیں۔

حبا نے اسی پر بس نہیں کیا ،اس کنسے ترین جاب کے ساتھ یہ آئرن لیڈی مستقل اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور سٹیون انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے سپیس سسٹم انجینئرنگ میں گریجوئیٹ سرٹیفیکیٹ کے علاوہ ، وہ 2012 میں انٹرنیشنل سپیس سینٹر کے تحت منعقد ہونے والے ایک اسٹڈی پروگرام کا بھی حصہ رہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ وقتاََ فوقتاََمختلف فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہتی ہیں جن کا بنیادی مقصد دنیا بھر کی خواتین میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے شعور اور آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ان میں کچھ غیر معمولی کر دکھانے کی تحریک پیدا کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین میدان عمل میں آکر مردوں کے ساتھ بلا جھجک پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سر انجام دیں ۔ جس کے لیے حبا عموما ََ فیس بک اور ٹویٹر کا استعمال کرتی ہیں۔

فی الوقت حبا رحمانی کینیڈی سپیس سینٹر کے ایکسپیڈیبل لانچ وہیکل ( ای ایل وی) کا ایک ا ہم حصہ ہیں جو “پیگاسس “اور “فیلکن نائن “پر کام کرتے رہے ہیں ، اس کے علاوہ حبا ناسا کے لانچ سروسز پروگرام (ایل اپی ایس ) سےبھی منسلک ہیں اور کینیڈی سپیس سینٹر سے مختلف راکٹ لانچنگ پروسیس کی ٹیلیمیٹری لیبارٹری میں نگرانی کرتی ہیں ۔

حبا کا کہنا ہے ان کے لیے زندگی کا خوش گوار ترین دن وہ ہوتا ہے جب پوری ٹیم کی برسوں کی انتھک محنت کے بعد کو ئی راکٹ کامیابی کے ساتھ لانچ کرتا ہوا خلا میں پہنچتا ہے ، ا س سے انہیں ہمیشہ یہ سبق ملا کہ اگر آپ کے عزائم بلند ہوں تو راستے کی رکاوٹیں اور دشواریاں کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بے شک منزل ِ مقصود تک پہنچنے کے لیئے بہت سے تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے مگر دراصل یہی رکاوٹیں اور نا کامیاں آپ کو آگےبڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں ۔

ناسا جیسے ادارے تک پہنچنا ان کے لیے اتنا آسان نہیں تھا انہوں نے برسوں کی محنت اور ریاضت سے یہاں اپنی جگہ بنائی ، اتنی کھٹن جدوجہد کے با وجود ان کے بہت سے خواب اب بھی تشنۂ تعبیر ہیں جن میں خلا کا سفر سرِفہرست ہے، مگر ان کے عزائم بلند ہیں کہ ایک روز وہ یہ سنگ ِ میل بھی ضرور عبور کر لیں گی۔

حبا رحمانی ناسا تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی نژاد خاتون ہیں ، وہ نا صرف پاکستانی بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے لیے ایک رول ماڈل ہیں جہاں ہزار میں سے بمشکل دس خواتین فلکیات میں دلچسپی رکھتی ہیں اور جس طرح کی ذمہ داریاں حبا ایک عرصے سے ناسا میں سر انجام دے رہی ہیں ایسے تکنیکی معاملات میں ان کی سمجھ بوجھ نا ہونے کے برابر ہے ۔

حبا کو “انٹر نیشنل اسپیس ویک 2017” کی سرگرمیوں میں انکی اسپیس پروگرامز سے متعلقہ غیر معمولی خدمات پر یو ایس ایمبیسی کی جانب سے با حیثیت پاکستانی خصوصی خراچ تحسین دیا گیا ہے یہ ہفتہ وار سرگرمیاں چار سے دس اکتوبر تک ہر سال منعقد کی جاتی ہیں تاکہ ان افراد کر خراج ِتحسین پیش کیا جاسکے جن کی ان تھک محنت کی بدولت انسان کا خلا کو تسخیر کرنے کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY