جو ہم چاہتے ہیں وہ تم مت چا ہو۔ شمس جیلانی

0
147

کل پاکستان کے مرکزی وزیر داخلہ جناب اقبال احسن صاحب کابیان نظر سے گزرا کہ انہوں نے فرمایا “ عمران خان یہ چاہ رہے ہیں کہ ہم ان کو گرفتار کرکے ہیرو بنا دیں، ہم ان کی یہ خواہش پوری نہیں کریں گے “ ۔ یہ ان کا بیان ہے جو اس کابینہ میں سب سے زیادہ مدبر اور معقول سمجھے جاتے ہیں۔ مگر ہم اسے پڑھ کر مایوس ہوئے۔کہ مسلمان کی تعریف ہی یہ ہے کہ“ جو اپنے لیے چاہو وہی اپنے بھا ئی کے لیےبھی چاہو“ بہت سے رہنما عمران خان کی طرح دل میں یہ خواہش لیے پھررہے ہیں کہ کوئی عدالت سزا سنادے یا گرفتار کرلے تو ہم ہیرو بن جائیں ؟اور عدالتیں ہیں کہ ان کی خواہشیں پوری کر کے نہیں دے رہی ہیں۔ کہ وہ کہیں مظلوم نہ بن جائیں ۔ مگر ایسے جو ہیں وہ تو مغرور مشہور ہیں ان کی بات اور ہے؟ ان میں سے اگر کوئی یہ بات کہتا تو ہم سمجھ جاتے کہ ان کے نزدیک ایک مستند لیڈر کی برابری کرنا اور وہ بھی کوئی نو زائیدہ لیڈر کرے وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں، انہیں یہ بات بھلا کیسے برداشت ہوسکتی ہے کہ ان کی کوئی برابری کرے۔ ان کے منھ کو آئے۔ یہ تو صرف اشرافیہ کام ہے۔ مگر احسن اقبال صاحب سے ہمیں ایسی امید نہ تھی کہ وہ اس طرح سوچیں گے کیونکہ باریش آدمی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سنت پر کاربند بھی ہیں۔ اور انہوں نے شاید یہ بھی پڑھا ہو ؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرما یا کہ“ تکبر میری چادر ہے جو اس میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا سزا بھگتے گا۔

اقبال احسن صاحب کے اس بیان سے تمام جرائم پیشہ ا فرد کو کیا پیغام گیا ہو گا اور اس کے اثرات امن وامان کی صورتِ حال پر کیا مرتب ہونگے یہ سوچنا ہر شہری کاکام ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس طرح تمام جرائم پیشہ افراد کی ہمتیں بڑھ جا ئیں گی۔ا ن میں سے جس کو بھی پکڑا جائے گا وہ کہدیا کرے گا کہ یہ سیاسی الزام ہے مجھے انتقام کا نشانہ بنایا جارہا۔ پھر جلسہِ عام کرکے سڑکوں پر عوام کو جمع کریگا اور کہتا پھرے گاکہ “بتاؤ تو مجھے پکڑا کیوں ہے اور میرے ساتھ جو برتاؤ ہورہا ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی“ جبکہ مثالیں تو موجود ہیں مگر وہ قانونی کتابیں کھول کر پڑھنے کی کوشش شاید خود جاان کر نہیں کرتے کہ اس سے ان کی معصومیت کو ٹھیس پہونچے گی؟ البتہ اس بات سے انکی ہم اتفاق کریں گے اور ملزموں کے ساتھ ان کی طرح VIP سلوک نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اور ملزموں کو یہ سہولت ملتی ہے کہ وہ چوالیس کاروں کے جلوس کے ساتھ عدلت میں حاضر ہوں ۔

پہلے ہی کوئی ملزم ملک میں پکڑا نہیں جاتا ہے اگر کبھی غلطی سے پکڑا بھی جاتا ہے۔ توجن کا وہ بندہ ہو وہ ان کے فون پر چھوٹ جاتا ہے۔ یا ڈراکر دھمکاکر مال خرچ کے چھوٹ جاتا ہے۔ وہ کوئی بدقست ہی ہوگا کہ اس کے با وجود بھی دھر لیا جائے، پھر ہر ایک ہر طرف وہ دننداتا پھرے کہ مجھے گرفتار کرلو؟ یہ اس ملک کے لیے کوئی اچھی روش نہیں ہے جہاں جیلیں ملزمان کی جنت ہیں ۔ منشیات فروشی کی آماجگا ہیں وہ کیا کچھ ہیں اس کی تفصیل جو چاہے اخبارو میں پڑھ لے ۔ چونکہ پاکستان کے دستور میں ابھی تک “اسلامی“ جمہوریہ پاکستان لکھا ہو ہےاور پارلیمان کے دروازے پر“ کلمہ طیبہ بھی“ کاش کو ئی اس کا پاس کرے جس ملک میں اٹھانوے فیصد آبادی خود کو مسلمان کہتی ہے؟اس کی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ یہ سلوک ترک کر دے اور اپنے کام سے کام رکھے کہ جس کا وارنٹ جاری ہو پہلے انہیں خود پیش ہونے کا موقع دے؟ جو عدالت میں آنا کسر ِ شان سمجھتے ہوں انہیں گرفتار کر کے لائے؟ رہے مطلوبہ افرادا نہیں بھی چاہیئے کہ وہ اپنی عدالتوں کا احترام کر یں جیسا کہ مہذب ملکوں میں ہماری ہی تاریخ پڑھ کر انہوں نے اپنایا ہے، جو کبھی ہمارے دور میں ہوتا رہا ہے کہ خلیفہ راشد (رض) تک مدعی کے برابر جا کر عدالت میں کھڑے ہوجاتے تھے؟ نہ جج کرسی پیش کرتا تھا اور نہ ہی کوئی سہولت۔ ہم میں سے کوئی پہلے تو ایسا کام ہی نہ کرے کہ وارنٹِ گرفتاری نکلنے نو بت آئے۔ اور اگر کسی کا کسی غلطی کی بنا پر وارنٹ نکل بھی گیا ہے تو فوراً حاضر ہوجائے ! یہ ہی معزز لوگوں کی پہچان ہوتی ہے اسی میں ان کی شان پنہاں ہے۔ ہمارے نزدیک ان میں سے کوئی بھی قابلِ ستائش نہیں ہے ۔ جو کہ عدالتوں کا منھ چڑائے۔ قانون کا مذاق اڑائے؟ اور نہ ہی یہ مسلمانوں کی پہچان ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY