حقوق العباد (18) از ۔۔۔ شمس جیلانی

0
141

ہم گذشتہ قسطوں میں یہاں کے معاشرے کے مطابق وہ سب معلومات فراہم کرچکے ہیں جن سے یہاں آپ کا واسطہ پڑیگا اور آپ کو ذ ہنی طور پر یہاں آنے کے بعد تمام صورتِ حال سے واقف بھی کراچکے ہیں تاکہ ا س کے لیے آپ ذہنی طور پر تیار ر ہیں۔ لیکن آپ کی کامیابی کا دار و مدارا ب اس پر ہے کہ آپ نے اس میں سے عمل کر کے خود کو کس حدتک اس قابل بنالیا ہے کہ آپ بہ یک وقت دنیا اور دین دونوں بنا سکیں جو اسلام کا مقصد ہے۔ اس کے لیے اسلام نے ایک اور چیز بھی بتائی ہے اوروہ ہے تبلیغ “ حکمت“ کے ساتھ بس آپ اپنی پوری صلاحتیں کام میں لاتے ہوئے ہر کام حکمت کے ساتھ ہی کریں۔ ہمارے یہاں بھی آجکل صورت حال اتنی اچھی نہیں ہے جتنی پہلے کبھی تھی لیکن پھر بھی تمام یورپین ممالک سے اس لیے اچھی ہے کہ یہ ملک ملٹی کلچرل ازم پر یقین رکھتا ہے اور آجکل اس شخص کا بیٹا وزیر اعظم ہے جس نے اسے ملٹی کلچرل شکل پہلی دفعہ دی ۔
جبکہ 911 سے پہلے مسلمانوں کو پوری دنیا میں اچھی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مگر آجکل وہ بات نہیں ہے۔ کیونکہ اانہوں نے مسلمانوں کے وہ مکروہ چہرے دیکھے ہیں جنہیں ہمارے ہی نام نہاد بھائیوں نے ان کے سامنے غلط ا سلام کی شکل میں پیش کرکے سب کے ذہن مسموم کر دیے ہیں۔ امن پسند مسلمان جنکا تناسب کم از پچا نوے فیصد ہے ۔ اس کے لیے ذمہ دار بین الاقوامی سازشو ں اور میڈیا کو قرار دیتے ہیں۔ مگر وہ خود کون سے پوری طرح اسلام پر عمل کر رہےہیں۔ اگر کر رہے ہوتے تو کسی کو شکایت ہی نہ پیدا ہوتی لہذااس کے لیے ہم خود بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں کے وہ کردار ہم نے خود اپنے بے عمل ہونے سے انہیں فراہم کیے ہیں ۔ اب دنیا ذہنی طور پرا لجھی ہوئی ہے کہ وہ کس کی بات مانے آپ کی یا ان کی؟ اس لیے ہر مسلمان کو وہ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اگر بقیہ مسلمانوں کے کردار حضور(ص) سے ملاتے ہیں تو وہ بھی ان پچانوے فیصد میں سے ایک فیصد بھی مشکل سےنکلیں گے جو حضور (ص)کے راستے پر عمل کرتے ہوں ۔نتیجہ یہ ہے کہ بچے ، بچوں کو اسکولوں میں تنگ کرتے ہیں ہوٹنگ ہوتی ہے۔ بڑے بڑوں کو شک کی نگاہ دیکھتے ہیں؟
اس کا حل یہ ہے کہ آپ اپنے اندر قوتِ برداشت پیدا کریں۔ کیونکہ اسلام تو ہر موقعہ پر یہ بتاتا ہے کہ بدلا لینے کے بجائے معاف کردینا بہتر ہے۔ حالانکہ اس کے تدارک کے لیے یہاں بہت اچھا ا نتظام ہے، لوگ بہت اچھے ہیں۔ مگراول تو آپ سب سے لڑ کر کیسے رہ سکیں گے۔ دوسرے پولس کہاں تک حفاظت کرے گی اور کس، کس کی کریگی۔ اس کا بہترین حل یہ ہی ہے کہ ہر وقت عفو اور در گزر سے کام لیں۔ یہاں صبر آپ کے بہت زیادہ کام آئے گا۔ جبکہ ہمارے یہاں اس کا فقدان ہے حالانکہ اسلام میں صبر کرنا بہت بڑی نیکی ہے اور اس کا بڑا ثواب ہے۔ انگریزی میں اس کا متبادل لفظ ٹالرینس ہے۔ جبکہ ہماری بات بات پربپھر جانے کی عادت ہے۔ جو کہ ا پنے ملکوں سے لیکر آئے ہیں۔ آئیے! اسے بھی ہم پہلے حضور (ص) کے اسوہ حسنہ میں تلاش کریں؟ اور اس کے لیئے ان (ص) مکی دور دیکھیں کہ گیارہ سال تک ان(ص) کواور مسلمانوں کو کس طرح تنگ کیا گیا ان کا جینا مشکل کر دیا گیا۔ مگر کبھی انہوں نے ان میں سے کسی نے اینٹ کاجواب پتھر سے نہیں دیا ہمیشہ بھلائی سے دیا۔مدینہ منورہ پہونچ کر بھی وہاں کے باشندوں اور ہمسایوں سے معاہدے کر کے اپنی جگہ بنائی خود کو سالوں تک اس طرح محفوظ رکھا کہ ان کی جنگ مقامی لوگوں سے نہیں ہوئی۔ جبکہ وہاں اہلِ مکہ کی طرف سے اہلِ مدینہ کو پیغام آتے رہے کہ تم ان کو نکالدو ورنہ پورے عرب سے لڑنے کے تیار ہو جاؤ۔ پھر خود ہی وہ لڑنے کے لیے پہونچ گئے تب دوسال بعد پہلا “غزوہ“بدر کے میدان میں برپا ہوا، بعد میں یہ ہی خوبی اور قوتِ برداشت ا ہلِ بیت میں دیکھی گئی جو حضرت امام حسن(ّع) نے دکھا ئی۔ کہ اشتعال دلانے کے لیے کرائے کے لوگ بھیجے جاتے اور وہ ان کے سامنے انہیں برا بھلا کہتے ؟ لیکن ان کا ایک جواب ہوتا کہ اچھا! اب تم اپناکام کر چکے۔ تم مسافر لگتے ہو اگر کھانا نہیں کھایا ہے تو میرے ساتھ چلو میں کھانا کھلاؤں ، اگر زادِ راہ نہ ہو تو وہ دیدوں ۔اگر تمہاری سواری تھک گئی ہو تو تازہ دم سواری دیدوں۔ یہ ہے حضور (ص) کے اخلاقِ پاک کا پرتو۔ جبکہ یہاں وہ مکہ معظمہ کی طرح تعداد میں کم نہیں تھے نہ ان کے حامی کم تھے۔ لیکن یہ وہ اخلاقی مار تھی جو اسلام کا طرہ امتیاز کبھی تھی کہ اللہ سبحانہ اپنے نبی (ص) کو قرآن میں فرمایا تھا کہ“ تم اپنے دمشن کو معاف کرکے تو یکھو وہ تمہارا دوست ہوجائے گا ۔۔۔الخ “ کیا ہم میں ایک بھی کہیں اس معیار پر پورا اتر سکتا ہے۔ اُس دور کے مسلمانوں اور اس دور کے مسلمانوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے ۔ پھر بات بنے تو کیسے بنے۔ دنیا جو پہلے انتشار سے پریشان ہے۔ وہ سکون کی طرف دیکھ رہی ہے۔ آپ میں اگر اسے وہ مسیحائی نظر آئے گی تو وہ آپ کی طرف بڑھے گی ،آپ کی بات سنے گی۔ اگر آپ خود بیمار ہیں تو ا نہیں کیا دیں گے؟ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY