پاناما کیس نظر ثانی اپیلوں کا 23 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری

0
98

سپریم کورٹ نے پاناما کیس پر نظر ثانی اپیلوں کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاناما فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں ہوئی، جس پرنظر ثانی کی جائے، نواز شریف کی نااہلی سےمتعلق حقائق غیرمتنازع ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پاناما فیصلے میں دی گئی آبزرویشن عارضی نوعیت کی ہیں، احتساب عدالت شواہد کی نوعیت پر اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے، ٹرائل کورٹ کمزور شواہد کو رد کرنے کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے ۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ چھ ماہ میں ٹرائل کی ہدایت ٹرائل کورٹ کو متاثر کرنا نہیں، جلد مکمل کرنے کے لیے ہے، نگراں جج کا تقرر نئی بات نہیں، مقصد ٹرائل میں لاپروائی کو روکنا ہے، یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ نگراں جج ٹرائل پر اثرانداز ہوں گے۔

عدالت کو پانامہ کیس کی سماعت کے دوران افسوس اور مایوسی ہوئی جب نواز شریف نے عدالت کے سوالات کے دیانتدارانہ جوابات نہ دیئے ۔نواز شریف نے عدالت کو کبھی سچ نہ بتایا ، عدلیہ سمیت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی ، جھوٹ بولنے سے بہتر تھا کہ باعزت طور پر عہدے سے مستعفی ہوجاتے ۔
پانامہ کیس فیصلہ پر نواز شریف ، حسن ، حسین، مریم نواز اور اسحاق ڈار کی نظر ثانی درخواستوں کو مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نےتحریر کیا جو 23صفحات پر مشتمل ہے، جسٹس آصف خان کھوسہ نے مختصر اضافی نوٹ بھی لکھا ہے ۔
تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کیپٹل ایف زیڈ ای سےناوصول کردہ تنخواہ مستقبل کے لیے نہیں بلکہ ماضی کے ساڑھے 6 سال کی تھی،کیا سپریم کورٹ اقامہ کی بنیاد پر بنائے جانے والے اثاثے سے صرف اس لیے آنکھیں بند کر لیتی کہ درخواست گزار وزیر اعظم پاکستان ہے۔
ملک کے اعلیٰ ترین عہدیدار سےاعلیٰ ترین اقدار کی توقع کی جاتی ہے ،سماعت کے دوران عدالت کو افسوس اور مایوسی ہوئی جب نواز شریف نے عدالت کے سوالات کے دیانتدارانہ جوابات نہ دیئے ۔نواز شریف نے عدالت کو کبھی سچ نہ بتایا۔
پارلیمنٹ کے اندر اور باہر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی اور یہ سوچے سمجھے بغیر کہ کچھ وقت تو لوگوں کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ،عدالت کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی ۔سوالوں کے واضح جواب نہیں دیئے ،مبہم جوابات کے پیچھے نہیں چھپا جاسکتا ۔
اگر قسمت نے ان کے سر پر حکمرانی کا تاج رکھا تھا تو انہیں مثالی اقدار کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، جھوٹ بولنے سے بہتر تھا کہ باعزت طور پر عہدے سے مستعفی ہوجاتے ۔
وزیر اعظم ملکی اور بین الاقوامی طور پر قوم کی نمائندگی کرتا ہے ،کیا ایک اثاثے سے انکار اور 2006میں ایسے فونٹ میں لکھی گئی ٹرسٹ ڈیڈ جو 2007میں رائج ہوا ان کے عہدے اور وقار کے برخلاف نہیں ؟۔
نواز شریف نے زبانی یا تحریری طور پر کبھی یہ نہیں کہا کہ نا وصول کردہ تنخواہ ان کا اثاثہ نہیں اور نہ ہی 2006سے 2013تک جمع ہونے والی تنخواہ کو لینے سے زبانی یا تحریری انکار کیا ، لہٰذا یہ دلیل کہ اگر یہ تنخواہ وصول نہ کی جائے تو وہ اثاثہ نہیں ہوتا درست نہیں ۔
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلیک لا ء ڈکشنری کی اثاثے سے متعلق تعریف پر درست انحصار کیا، ایک لمحے کے لیے اگر بلیک لاء ڈکشنری کی تعریف پر انحصار نہ بھی کیا جائے تو تنخواہ ہرطرح ان کا اثاثہ ہے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ شعر بھی لکھا کہ
ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

SHARE

LEAVE A REPLY