میں بھی دیکھوں گا۔۔ تم بھی دیکھو گے‎

0
255

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا میں ہر ملک کے باسیوں اور مقامی باشندوں کا اپنے ملک کے وسائل پہ پہلا حق ھوتا ھے اور ریاستیں اپنے شہریوں کے تمام بنیادی انسانی حقوق کا نہ صرف تحفظ کرتی ہیں بلکہ انھیں ہمیشہ مقدم رکھتی ہیں۔

انگلیوں پہ گنیں تو دنیا میں چند ممالک ایسے ہیں جنکی افرادی قوت محض کمانے کی غرض سے بسلسلہ روزگار اپنا گھر بار اپنی مٹی چھوڑ کر سمندر پار جاتی ھے جنہیں عام زبان میں تارکین وطن بھی کہا جاتا ھے ایسے بے بس و لاچار اور مجبور انسان جن سے اپنا وطن کسی ناگزیر وجہ سے چھوٹا یا چھڑایا گیا ان ممالک کے باشندوں میں عراق یمن لبنان مصر فلسطین ترکی شام سوڈان صومالیہ ایتھوپیا نائیجیریا افغانستان پاکستان بھارت نیپال سری لنکا بنگلہ دیش برما اور فلیپائن شامل ہیں

رزق کی تلاش میں در بدر ھو کر پردیس کی خاک چھاننے والے اکثر تارکین وطن کاتعلق ان ممالک سے ھے جو یا تو جنگ کی ہولناکیوں کا شکار ہیں اور یا خائن حکمرانوں کی مالی بدمعاشیوں کے باعث جنم لینے والی معاشرتی ومعاشی نا ہمواریوں کے ستائے مجبور و بے بس اور مالی بدحالی کا شکار ہیں۔ یہ طے ہے کہ کوئی خوشی سے ملک نہیں چھوڑتا بقول شاعر۔۔۔۔

مجبوریاں چا نکھڑیندیاں ہن

وس نال نکھڑدا کوئی نئیں، ،

ہم اس اسلامی ایٹمی مملکت خداداد کے پڑھے لکھے پیشہ ور ہنر مند اور محنت کار ملک بدر تارک وطن سمندر پار پردیسی باشندے ہیں جس خوبصورت مملکت خداداد کو اللہ تعالی نے طرح طرح کی معدنیات و دیگر بیش قیمت وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے لیکن بدقسمتی کہ سامراجی و استعماری طاقتوں کا پروردہ خائن و غاصب چھوٹا سا بدیسی ٹولہ عوامی وسائل پہ زہریلے ناگ کی طرح پھن پھیلائے قابض بیٹھا ہے۔۔ ملک کی اکثریتی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔ علم و شعور رکھنے والی عوام کے ذہنوں میں یہ سوالیہ نشان موجود ہے کہ کیا ستہر سالہ آزادی کا ثمر حاصل ہونے کے بعد بھی کیا ہمارا کٹھ پتلی نظام حکومت لارڈ وکٹوریہ اور وائسرائے ہند کے ما تحت چلایا جا رہا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح رحم اللہ کی وفات انکی آخری سانسوں بے رحم و دردناک داستان تو تاریخ کاایک الگ المیہ تھا ہی لیکن ان کے انتقال کے بعد مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح مرحوم کی میدان سیاست میں آمد،اس آمر کے ہاتھوں رسوائی وہی آمر جس نے قائد اعظم کی حیات میں ان کو سرکاری سیلوٹ سے انکار وانحراف کیا تھا۔۔۔ مادر ملت کی پراسرا موت بلاشبہ قائد کے آخری ایام میں کہے گئے اس جملے پہ ثبت تصدیقی مہر ہے جس میں فرمایا کہ ” ہاں ہاں میری شیروانی کی جیب میں کچھ سکے کھوٹے بھی ہیں’

وہ کھوٹے سکے اور انکی نسلیں آہستہ آہستہ ملک و قوم کیلئے مفاد کی بجائے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہی بنتے چلے آئے ہیں لیکن ان تمام ناکارہ سکوں کی کردار و تصویر کے تاریک پہلو دانستہ مخفی رکھ کر صرف چند روشن پہلو نام بڑے اور درشن چھوٹے کے مصداق عوام کو دکھائے گئے۔ نسلوں کو خود ساختہ چلنی چپڑی تاریخ کے دریچوں میں بھٹکا کر منزل سے دور کر دیا گیا ۔۔۔ تعلیمی اداروں کے نصاب میں سب اچھا ہے اور اور حقائق سے یکسر مختلف و برعکس خوش فہمیوں کی کہانیاں چھاپی گئیں۔ ایک سازش کے تحت بتدریج نسلوں کو علم و شعور سے محروم کر دیا گیا۔۔۔

سیاست ایک پر کشش کاروبار اور دین فتویٰ فروشی کی دکانیں بن گئیں۔۔

وہ بھی تخت اقتدار پہ جلوہ افروز ہوئے ۔ جن کے دور میں مقبوضہ کشمیر اسی فیصد فتح ہو چکا تھا لیکن ملک و قوم کے وسیع تر مفادات کی خاطر فوج واپس بلا کر سیز فائیر قبول کر لیا۔۔ انہی کے کاسئہ گداگری میں پہلی غیر ملکی امداد کے چند ڈالر گرے جو آج اہل وطن پہ ایک لاکھ تیس ہزار بطور قرض واجب الاد ہو چکے ہیں۔۔۔نام نہاد جمہوریت کے علبرداروں نے اپنے دور حکومت میں ملک میں مسلم لیگ کے علاوہ کسی نئی سیاسی جماعت کے وجود کو پنپنے ہی نہ دیا کسی بھی نئی پارٹی کی تشکیل شجر منوعہ قرار پائی۔۔

انتقال اقتدار کبھی عسکری قبضوں اور کبھی بزور طاقت و دھوکہ دہی حاصل کئے جاتے رہے۔۔۔

ایک ہی ٹولہ چولے بدل کر نسل در نسل ایوانوں پہ قابض ہو کر کروڑوں جیتے جاگتے انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ادھر سے ادھر ہانک کر اپنی غلام گردشوں میں جکڑ کر جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزارنے پہ مجبور کرتا چلا آیا

اقتدار کا ہما انکے سر بھی بیٹھا جو جمہوریت کے اکلوتے سول مارشل لاء ایڈمنسٹیٹر قرار پائے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دے کر عوام سے قبر کی چھ فٹ زمین بھی چھین لی۔۔اپنے ہوس اقتدار میں ملک کے دو ٹکڑے کر ڈالے۔۔

دو وزرائے اعظم تو عالمی مالیاتی اداروں کے ملازم ہمارے تخت اقتدار پہ بطور ہدیہ مسلط کئے گئے جن کے پاس ملکی شہریت کی مطلوبہ ضروری دستاویز بھی مکمل نہ تھیں نہ ہی ان کے خاندان کا کوئی فرد پاکستان میں مقیم ہے۔۔

ملک کی سب سے بڑی غریب پرور جمہوریت کی چیمپئین و دعویدار سیاسی جماعت کے ایک گدی نشین بادشاہ سلامت سے چند برس قبل ایک غیر ملکی دورے کے دوران خاتون صحافی نے جب سوال پوچھا کہ آپ کے ملک میں امن و عامہ کے معاملات بہتر نہیں تو ہمارے وزیر اعظم کا جواب تھا کہ اگر عوام کو جمہوریت چاہیے تو لاقانونیت تو برداشت کرنا پڑے گی۔۔۔دوسرے اہم سوال پوچھا گیا کہ پاکستان کی قابلیت رکھنے والی کثیر افرادی قوت آئے روز عجلت میں وطن چھوڑ کر بیرون ملک جا رہی ھے ملک تیزی سے brain drain کا شکار ہو رہا ہے جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کیلئے کافی سنگین صورت حال ھے۔؟ ت غیرت مند وزیر اعظم کا جواب تھا ًانکو پردیس جانے سےکس نے روکا ھے۔؟ یعنی انکی بلا سےلوگ جلا وطن ہوں یا در بدر، سمندر پارجاتے ھیں تو خوشی سے جائیں۔۔

یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ وزیر اعظم کے عہدے پہ براجمان ہونے سے سے صرف چھ ماہ قبل اس نے اپنی گاڑی بیچ کر بچوں کی فیسیں ادا کیں۔۔۔اور حیرت انگیز امر ہے کہ بچے باپ کے وزیر اعظم بننے کے کچھ عرصہ بعد انتہائی قیمتی گاڑیوں کے مالک بن گئے۔۔۔۔ایک برادر ملک کے سربراہ اوران کی اہلیہ نے سیلاب کے موقع پہ پاکستان کے دورے کے دوران اجڑے بے گھر متاثرین سیلاب کے لئے قیمتی ہار بطور امداد پیش کیا وہ سیلاب زدگان کی داد رسی کی بجائے ہمارے اسی سربراہ کی اہلیہ کے گلے کی زینت بن گیا۔۔۔۔موصوف کی ذاتی حویلی کی چار دیواری پہ ملک و قوم کی کمائی کے کروڑوں روپے صرف کئے گئے سب سے بڑھ کے تو بے شرمی اور ڈھٹائی کی یہ حد ہے کہ جس دن یہ وزیر اعظم برطانیہ پہنچے اسی روز کراچی میں گیارہ افراد لسانیت و سفاکیت اور ٹارگٹ کلنگ کی بھینٹ چڑھ گئے لیکن افسوس کہ برطانیہ کا وزیر اعظم ہماری شرمناک جمہوریت اور اس کے ہرکارے کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا یہی وزیر اعظم مالی بدعنوانی کے باعث مقررہ مدت سے قبل ایک عدالتی فیصلے کی بنیاد پہ اپنے عہدے سے معزول ہوگئے۔۔۔لیکن المیہ ہے کہ سزا حسب روایت ندارد

ہم جیسے تقریبا” (70) لاکھ سمندر پار پاکستانیوں کی کمائی کے وطن بھجے گئےاربوں روپے کے زر مبادلہ کی رقوم پہ پلنے والے بھیڑیوں

کے غول کے ہر خونی درندے کو سمندر پار جا کر در در کی خاک چھاننے والے کو روکنے میں بھلا کیونکر دلچسپی ہو سکتی ھے۔جمہوریت کے ثمرات قوم کو کیا حاصل ہوئے اس کا تسلسل جاری ہے

آج پھر قوم کے تین سو ارب ہڑپ کرنے والا خاندان سمیت بتیس برسوں سے خاندان و دوست احباب سمیت تخت لاہور پہ قابض مغل اعظم خائن جھوٹا اور نااہل بادشاہ سلامت میری قوم کو معاشی ومعاشرتی نا ہمواری اور بدحالی کے بھاشن دے کر خود کو مظلوم ثابت کرنے کا ٹوپی ڈرامے رچا رہا ہے یہ وہ صاحب ہیں جو پہلی بار بدعنوانی دوسری بار اختیارات کے ناجائز تجاوز اور تیسری بار بھر مالی بدعنوانی کے باعث تخت سے محروم ہوکر تختے کے قریب پہنچنے کو ہیں

یہ شخص دوسری بار عہدے سے محروم ہونے کتے بعد ایک ڈیل کے تحت تقریباً دس برس جس اسلامی برادر ملک میں مہمان رہا ۔وہاں آج بھی ہم وطن خون پسینہ ایک کرنے کے با وجود کسمپرسی کی زندگی گزارنے پہ مجبور ھیں۔لاکھوں افراد گزشتہ چند مہینوں میں روزگار سے فارغ کئے جا چکے ھیں اور لاکھوں کی تعداد میں بے روزگاری سے تنگ آ کر ملک روانگی کے منتظر ہیں۔برسوں کی محنت و مشقت کے بعد اچانک واجبات و روزگارسے محروم وبیدخل ان لاکھوں جلا وطن محنت کشوں کی وطن میں بحالی کا کوئی حکومتی سطح پہ انتظام و انتصرام تک موجود نہیں ۔

جس ملک کے بادشاہ کو اپنے وطن کے جلا وطنوں ملک وقوم کے لئے بیرون ملک محنت و مشقت کی بھٹی میں جھونک کے دن رات ایک کر دینے والے جفاکش حب الوطنوں سے صرف اس حد تک محبت ہو کہ ان کا پیسہ وہ بذریعہ حوالہ بیرون ملکوں بھیج کے اپنا سرمایہ بڑھا سکے اسے اپنی ہی جماعت کے اقتدار میں ہونے کے باوجود معاشی و معاشرتی نا ہمواریوں کے جھوٹے قصیدے اور عوام سے ناجائزحمایت و ہمدردی کے مطالبے کسی طور بھی زیب نہیں دیتے۔جمہوریت کے نام پہ ملکی و قومی اداروں کو تباہ و برباد کرکے اعلی عدلیہ پاک افواج سمیت دیگر اہم حساس اداروں پہ ہزیا سرائی کرنے والوں ۔اپنی جائیداد اولاد اور دولت کے ناجائز انبار غیر ممالک محفوظ کرنے والوں کو پاکستان میں سیاست کی بات کرنے کا ہر گز حق حاصل نہیں ۔۔۔

آخر ہمارا ملک کب تک تجربات کی بھٹی میں جلتا رہیگا کب تک عوام مختلف نظام ہائے حکومت کا ایندھن بنتے رہیں گے،،سمندر پار پاکستانی کب عزت و احترام کے ساتھ واپس وطن لوٹیں گے،روٹی کب سستی ہوگی اور کب مہنگی ہوگی جان۔۔اللہ وہ دن جلد اور ضرور لائے مجھے اور آپکو وہ دن دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے

اللہ رب کریم بیرون ملک مقیم شدید مشکلات کا شکار ھم وطنوں کیلئے آسانی فرما۔اور ظالم و جابر بد عنوان بے ایمان بے حس اور خود غرض عناصر کی شر انگیز قیادت و حکمرانی سےنجاعت دلا۔ آمین

ابو آمنہ بتول

SHARE

LEAVE A REPLY