اسلام اور حقوق العباد (19) شمس جیلانی

0
238

ہم پچھلی قسط میں یہاں تک پہونچے تھے۔ کہ اگر ہمیں بطور مسلمان اپنی بقا عزیز ہے اور دنیا میں عزت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تواسلام کواپنانا پڑیگا؟ تاکہ دنیا کو بتلا سکیں کہ اصل اسلام یہ ہے۔ورنہ دنیا اصل اسلام اس کو ہی سمجھ رہی ہے اور سمجھتی رہیگی؟ جو بین الاقوامی میڈیا کچھ سازش اور کچھ اسلام سے ناواقفیت کی بنا پر دنیا کودکھا رہی ہے۔ اور وہ معلومات اسلام کے بارے میں سازشیوں سے یا پھر وہاں سے حاصل ہورہی ہیں جو کہ القائدہ یا داعش جیسی جماعتوں کے اراکین اپنے عمل سے دنیا کو دکھا رہے ہیں۔ اگر دنیا میں کہیں ایسا کوئی مل جائے جوکہ واقعی کوئی عملی مسلمان ہو یعنی پوری طرح حضور (ص)کے اسوہ حسنہ پرعامل ہو ۔ بس ا سی سے ہی تمام غلط پروپیگنڈے کا تدارک ہو سکتا ہے ہر نئے مبلغ بننے والے اور دنیا بھر کے مبلغین کو چاہیئے کہ وہ چاہے کسی بھی جماعت یا فرقےسے بھی تعلق رکھتے ہوں ایسے شخص کو ڈھوند نکالیں جس کے بارے میں وہ فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہوں کہ یہ اصل اسلام ہے ،جس پر وہ اورمیں عامل ہوں؟ ورنہ جس سے بھی آپ بات کریں گے وہ پریشان ہو جائے گا اور ہاتھ جوڑ کہے گا کہ با با معاف کرو؟اور آپ خود پہلی ناکامی پر ہی دلبرداشتہ ہو جائیں گے؟ پھر اس سمت میں آگے بڑھنا نا ممکن سمجھنے لگیں گے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں موجود نہیں ہیں ۔ وہ ہیں کیونکہ قرآنی تعلیمات کے مطابق یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ وہ کسی برائیوں میں مبتلابستی کو تباہ کرنے سے پہلے انہیں وہاں سے نکال لیتا ہے، پھر اسے تباہ کرتا ہے۔ اس کی معنی یہ ہوئے کہ ان کی موجودگی بستیوں اور دنیا کی بقا کی ضمانت ہے۔ رہا تلاش کرنا یہ مشکل کام ہے کیونکہ ان کی تعداد اول تو آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے، پھر ان کی کہیں دکانیں بھی کھلی ہوئی نہیں ہوتیں ہیں۔ وہ صر ف اپنے عمل سے پہچانے جاتے ہیں۔ دوسرے اگر انہیں ڈھونڈنے والا خود ہی نہیں جانتا کہ ان کی پہچان کیا ہے تو اور بھی مشکل ہے۔ا س کے لیے اگر وہ خود حضور (ص) کی سیرت اور ان مقدس ہستیوں کی سیرت پڑھ لے جو حضور(ص) کی معیت میں اس راستے پر عامل تھے جس راستے پر حضور (ص) نے انہیں عمل کرکے دکھایا تو ان کی پہچان سے حاصل ہوجائیگی۔ ہر وقت ایسے لوگوں کے موجود ہونے کے سلسلہ میں سورہ نمبر2 آیت نمبر 252-250 کی پرانی تفسیرِ ابنِ کثیر ؒ پڑھ لیں تو آپ کو کافی اورتفصیلی معلومات مل جا ئیں گی۔ جو انٹر نیٹ پر اس لنک پرموجود ہیں۔

http://www.fiqhulhadith.com/ibn-e-kaseer/book.php

اگر آپ وہاں تک بھی جانے کی زحمت نہیں کرنا چاہتے تو پھراس راہ میں آگے کیسے بڑھیں گےجو نبیوں (ع) کا راستہ ہے۔ جس میں پتھر پہلے کھانے پڑتے ہیں اور کامیابی بعد میں ملتی ہے۔ چلیے ہم آپ کی ہمت افزائی کے لیے یہ بھی بتائے دیتے ہیں کہ یہ ہی مضمون بہت سی قوموں کے قصوں میں قرآن میں بھی بیان ہوا ہے ۔ ہمارا مندرجہ بالا لنک یہاں دینے کامقصدیہ ہےکہ آپ کی عادت ہر بات کو قرآن اور سیرت میں تلاش کرنے کی پڑ جائے۔ اگر آپ صرف ایک رکوع روزانہ اوراپنے عقیدے کہ مطابق تفسیر کے ساتھ اسے پڑھنا شروع کردیں تو آپ دیکھیں گے آپ کی معلومت کا خزانہ روز بہ روز بڑھتا چلاجارہا ہے اور ایک وقت آئے گا آپ کو اس پر عبور حاصل ہوجائے گا۔ آپ کو میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں ابن ِ کثیر (رح) کو کیوں پسند کرتا ہوں اوروں کو کیوں نہیں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے یہاں احادیث کا ذخیرہ ہے۔ جس میں ہرایک اپنے عقیدے کے مطابق آحادیث دیکھ سکتا ہے جبکہ انہوں نے اپنی کوئی رائے نہیں دی ہے صرف یہ بتا یاہے کہ کہاں سے لی اور اسکی علمائے امت کے نزدیک حیثیت کیا ہے ۔ کیونکہ حدیث کے بغیر اکیلےقرآن سے پورافائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا اس لیے احادیثوں کا جاننا بھی ضروری ہے؟ وجہ یہ ہے کہ قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تمام بنیاد یات تو فراہم کردی ہیں۔ مگراس کی تفسیرصرف حضور(ص) کو بتائی تھی جس کو حضو ر (ص) نےعملی طور پر کرکے دکھایا کچھ کو زبانی بتایا ہے اور کچھ پر خموشی اختیار کی ہے اسکی مصلحت بھی وہ خود ہی جانتے تھے۔ اسی لیے انہیں (ص) مجسم قرآن کہاجاتا ہے۔ اور قرآن میں اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے ہماری ہدایت کے لیئے فرمادیا کہ“ تمہارے لیئے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کافی ہے“ یہ بھی فرمادیا کہ ا ن کی اطاعت میری طاعت ہے۔ اور یہ بھی کہ “ جو یہ (ص) دیں لیلو جس سے منع کریں رک جاؤ “ اور یہ بھی کہ“ یہ (ص) اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے وہی کہتے ہیں جوان کی طرف وحی کیا جاتا ہے“ یہ کسی اور کے لیے نہیں کہا گیا، اور نہ کسی اور نے خود کہا کہ میرا اتباع کرو؟ اس بحث سے ثابت یہ ہوا کہ اور بھی ذرائعِ وحی تھے جن سے حضور (ص) کی رہنمائی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرما ئی جس کا ثبوت اسلام کے پانچ میں سے تین ارکان ہیں یعنی نماز کیسے پڑھی جائے ، روزہ کیسے رکھا جائے ۔حج کیسے کیاجائے؟ ان کو کرنے کا حکم قرآن میں ہے لیکن کیسے ادا کیے جا ئیں گے وہ حضور (ص) نے خود کرکے دکھا یا ہے۔ اب رہاموضوع اور منکر حدیثوں کا معاملہ وہ حضور (ص) نے ایک حدیث میں ہی طے کردیا ہے کہ “جو حدیث قرآن سے ٹکراتی ہو وہ کہنے والے کہ منھ پر ماردو“ تو حدیثوں کو چنتے وقت یہ ضرور دیکھ لیں کہ وہ قرآن کے طابع ہوں ٹکراتی نہ ہوں؟ اگر ٹکراتی ہوں تو رد کردیں۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY