اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹر چینج پر جاری مذہبی جماعت تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دھرنے کا آج 19واں جبکہ کراچی میں دیے گئے دھرنے کا چھٹا دن ہے۔
دونوں جگہوں پر مظاہرین اپنے مطالبات کے پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
حکومت نے فیض آباد میں جاری دھرنے کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پہلا قدم اٹھاتے ہوئے گزشتہ روز ان کی سپلائی لائن کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ نے فیض آباد جانے والے تمام راستے بند کردیے اور مری روڈ پر مزید کنٹیز لگا دیئے۔
کھانے پینے کے اسٹالز کو بھی بند کرنے کے ساتھ، فیض آباد پل کے گرد اسٹریٹ لائٹس بھی رات میں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ مذہبی جماعتوں نے اپنے مطالبات کے حق میں گزشتہ 18 روز سے فیض آباد میں دھرنا دیا ہوا ہے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے مذہبی جماعتوں کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن انہوں نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
اس پر عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیکی کے کام کو اگر غلط انداز سے کیا جائے تو یہ عمل بھی غلط ہی ہو گا۔
ادھر دھرنا قائدین کا کہنا ہے کہ وہ مقدمات سے گھبرانے والے نہیں، جب تک وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا وہ اس وقت تک دھرنا جاری رکھیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY