معاملہ ایک دو وزراء کے استعفوں پر نہیں رکے گا،راجا ظفر

0
87

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے چیئرمین اور آئینی ترمیم کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ راجا ظفر الحق نے کہاہے کہ ایک دو وزراء کے استعفوں سے معاملات حل ہوتے ہیں تو ان میں کوئی حرج نہیں،لیکن خدشہ ہے کہ اس کے بعد مطالبات بڑھ جائیں گے ۔
جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان ‘ میں اظہال خیال کرتے ہوئے راجا ظفر الحق نے خدشہ ظاہر کیا کہ معاملہ ایک دو وزراء کے استعفوں پر نہیں رکے گا ، دھرنے پر بیٹھے لوگوں کے مطالبات مزید بڑھ جائیں گے ۔
راجا ظفر الحق نے کہا کہ مظاہرین سے مذاکرات کے کی کافی کوششیں کی گئیں اور انہوں نے معاملے کو حل کرنے کے لیے مظاہرین اور حکومتی وفد کو اپنے گھر بھی مدعو کیا تاہم کوئی حل نہ نکل سکا۔

خیال رہے کہ راجا ظفر الحق ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں تبدیلی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے قائم کی جانے والی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
کمیٹی میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان بھی شامل تھے۔
7 اکتوبر کو قائم ہونے والی اس کمیٹی نے معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی ہے اور امکان ہے کہ راجا ظفر الحق یہ رپورٹ پیر کے روز عدالت میں پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ دھرنا مظاہرین راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لانے اور وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
فیض آباد آپریشن رکنے کے بعد بند ہونے والی نیوز چینلز کی نشریات 28 گھنٹے بعد بحال ہوگئیں۔
وفاقی حکومت نے پیمرا کو تمام نیوز چینل بحال کرنے کا حکم دیاتھا، پیمرا کا کہنا ہے کہ تمام نیوز اور کرنٹ افیئر چینل بحال کردیے گئے ہیں۔

وفاقی حکومت کی طرف سے نیوز چینلزبحال کرنے کا حکم ملنے کے بعد پیمرا نےتمام کیبل آپریٹروں کو چینل پہلی والی پوزیشنوں پر بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہےاور ساتھ ہی نئی پالیسی گائیڈلائنز بھی جاری کردیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دھرنے کی کوریج سے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی پر چینل کی نشریات معطل کرنے کا اختیار ہے، پیمرا کے مطابق پالیسی گائیڈ لائن پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کو بھجوا دی گئی ہیں ۔

گزشتہ روز پیمرا نے پہلے لائیو کوریج نہ کرنے کا حکم دیا پھر نیوز چینلز کی نشریات ہی معطل کردی تھیں، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن( پی بی اے) نے ٹی وی چینلز کی بندش کی شدید مذمت کی تھی ۔
پیمرا کی پابندی کی وجہ سے عوام تازہ صورتحال جاننے سے محروم رہے ،سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئٹر جب کہ ویڈیوز سرچ انجن یوٹیوب بھی تاحال انٹرنیٹ براوزر پر بند ہیں ۔

فیض آباد دھرنے سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت امن وامان سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ احسن اقبال اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں آپریشن کے بعد کی صورتحال اور آئندہ حکمت عملی پرغور کیا گیا۔

سیکورٹی رینجرز کے حوالے
فیض آبادمیں ایف سی اور پولیس کو اگلی پوزیشن سے ہٹاکر سیکورٹی انتظامات رینجرز کے حوالےکردیئے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رینجرز کی فرنٹ پرتعیناتی کا فیصلہ رات انتظامیہ اور رینجرزکے اجلاس میں کیا گیا تھا، رینجرز کو فرنٹ پر تعینات کرنے کا مقصد جلاؤ گھیراؤ کو روکنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز اہلکار فیض آباد کے اطراف پوزیشن پر تعینات کیے گئےہیں جبکہ ایف سی اور پولیس کو اگلی پوزیشن سے ہٹادیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ملاقات کی ہے۔
ذرائع کے مطابق فیض آباد دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ متحدہ عرب امارات کا دورہ مختصر کرکے رات ہی وطن واپس پہنچے ہیں۔

راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا جاری ہے۔ ترنول پھاٹک روڈ، آئی جے پی روڈ نزد ڈبل روڈ، اسلام آباد مری روڈ، ایکسپریس ہائی وے اور لاہور جانے کے لیے موٹروے بند مکمل طور پر بند ہے ۔
آج صبح مظاہرین نے آئی ایٹ کے قریب پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے کچنار پارک کے قریب پولیس اہلکاروں کی پانچ موٹرسائیکلوں اور ایک گاڑی کو آگ لگادی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل اور گاڑی پولیس اہلکاروں کی ذاتی ملکیت تھی۔ سی پی او راولپنڈی اسرار عباسی فیض آباد پہنچ گئےہیں، جبکہ مظاہرین فیض آباد پُل پر اب بھی موجود ہیں۔

عسکری حکام کا وزارت داخلہ کو جواب ارسال
دوسری جانب وفاقی حکومت کی طرف سے فوج طلب کرنے کے معاملے پر عسکری حکام نے وزارت داخلہ کو جواب ارسال کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں دھرنے والوں سے فیض آباد خالی کرانے کے لیے آپریشن ہفتے کی دوپہر ڈھائی بجے سے معطل ہے۔
جواب میں عسکری حکام کی جانب سے کہا گیا ہے پاک فوج تفویض کردہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہے، سول حکومت کی مدد پاک فوج کی آئینی ذمہ داری ہے۔
فوج کی تعیناتی سے پہلے عسکری حکام کی جانب سے حکومت سے تین نکات پر وضاحت مانگ لی گئی ہے۔

عسکری حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی بھرپور اہلیت سے کام نہیں کیا، پولیس کے ساتھ رینجرز موجود تھی، لیکن رینجرز کو تحریری احکامات کیوں نہیں دئیے گئے؟

عسکری حکام نے یہ بھی کہاکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے روایتی طور پر فوج استعمال نہیں کی جاتی، ہنگامہ حل کرنے کے لیے فوج کا استعمال کیا جاتا ہے۔ہنگامہ ختم کرنے کی خاطر فوج کی تعیناتی کے لیے ان معاملات کی وضاحت ضروری ہے۔
عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے آپریشن کے لیے آتشیں اسلحہ کے استعمال سے منع کیا ہے۔
قبل ازیں فیض آباد دھرنے کی وجہ سے دارالحکومت اسلام آباد میں قیام امن کے لیے فوج طلب کی گئی تھی، وزارت داخلہ نے فوج کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ فوج کو فوری طور پر تاحکم ثانی تعینات کیا جائے، فوج آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔فوجی جوانوں کی تعداد کا تعین کمانڈر 111 بریگیڈ کریں گے، فوج کی مناسب تعداد سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پورے اسلام آباد میں تعینات کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کیا، سمری چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے وزارت داخلہ کو ارسال کی گئی ، وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔

وزارت داخلہ کی بیوروکریسی کی عجلت کی وجہ سے نوٹیفکیشن میں بنیادی خامیاں پائی گئیں، نوٹیفکیشن میں سیریل نمبر 2013 کا درج ہے جبکہ اس میں ای سی او سمٹ کا ذکر بھی موجود ہے۔
گزشتہ روز فیض آباد میں دھرنے والوں کو ہٹانے کے لئے پولیس کی کارروائی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی ،مظاہرین اسلام آباد کی مختلف سڑکوں پر موجود ہیں،جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد زخمی ،10سے زائد پولیس کی گاڑیاں بھی نذر آتش کردی گئیں۔
مظاہرین نے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے گھر پر حملہ کیا ، اندر داخل ہوگئے ،مین گیٹ جلادیا ،گھر سے نکلنے والی بکتر بند گاڑی توڑ پھوڑ دی ،قریبی کثیر المنزلہ عمارت کو بھی آگ لگادی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ 68اہلکاروں سمیت 200سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
فیض آباد کے ملحقہ علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولت بند کردی گئی جبکہ پیمرا کے حکم کے بعد مختلف شہروں میں نیوز چینلز کی نشریات معطل کردی گئیں۔
دھرنا شروع ہوا تو مظاہرین کےخلاف کئی سمتوں سے پیش قدمی کی گئی، کارروائی میں پولیس اور ایف سی کے 8ہزار اہلکار آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ رینجرز اہلکار بھی پولیس اور ایف سی کی مدد کے لیے موجود ہیں۔آپریشن کی نگرانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی کی جارہی ہے۔

آنسو گیس سے مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوئے تو پولیس نے بعض کی گرفتاریاں بھی کیں جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکار کے سر پر شدید چوٹ آئی،اہلکار کو آئی ایٹ فور میں شہید کیا گیا۔
فیض آباد دھرنامظاہرین کے پتھراؤ کے باعث مختلف اسپتالوں میں 190سے زیادہ زخمی لائے گئے۔زخمیوں میں ایس ایچ او بنی گالا ذوالفقار اور مجسٹریٹ عبدالہادی بھی شامل ہیں۔
فیض آباد میں پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کے باعث رہائشی اور دفاتر میں کام کرنے والے متاثر ہوئے جبکہ کئی متاثرین اسپتال لائے گئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY