عرب لیگ نے امریکا کو اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقلی کی صورت میں خطرناک نتائج سے خبردار کرتے ہوئے اس سے گریز کرنے کو کہا ہے۔

فلسطین کی درخواست پر عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط کی سربراہی میں منگل کو قاہرہ میں منعقد ہوا جس میں المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانےکی بیت المقدس منتقلی کے امکانات پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے اپنے خطاب میں احمد ابوالغیط نے امریکی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اس قسم کا کوئی اقدام سے خطرناک نتائج مرتب ہونگے اور فلسطین اسرائیل تنازع کے ممکنہ حل کے لئے جاری کوشش میں امریکا کے کردار کا خاتمہ کردینے کے لئے کافی ہوگا۔

ابو الغیط نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے بیت المقدس کی اصل حیثیت اور شناخت کو تبدیل کردے۔ یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے کو مؤخر کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس بارے میں اعلان اگلے کچھ دنوں میں سامنے آئے گا۔
1995 میں امریکی کانگریس اسرائیل میں سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کے بعد سے تمام صدور اس فیصلے پر عمل درآمد کو چھ ماہ کے لیے ملتوی کرتے رہے ہیں۔ اب ٹرمپ کو بھی تاخیر کے اپنے اس فیصلے کے بارے میں وضاحت پیش کرنا ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY