چرچ حملے میں جاں بحق 9 افراد کی تدفین کر دی گئی ہے۔ شہر میں فضاء سوگوار ہے۔ بلوچستان حکومت نے ورثاء اور زخمیوں کیلئے امداد کا اعلان کر دیا۔ سینیٹ میں مذمتی قرارداد پیش کر دی گئی ہے۔ نئی سی سی ٹی وی فوٹیج دنیا نیوز پر۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بہادر پولیس اہلکار نے درخت کی اوٹ سے فائرنگ کرکے ایک خودکش بمبار کو نہ صرف آگے جانے سے روکا بلکہ ہلاک بھی کر دیا جس کے باعث چرچ بڑی تباہی سے بچ گیا اور دلیر اہلکار اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران ایک لمحے کیلئے بھی خوفزدہ نہ ہوا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے قوم کے اس عظیم سپوت کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے اور اس کیلئے تمغۂ حسنِ کارکردگی کا اعلان کیا ہے

کوئٹہ میں زرغون روڈ چرچ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے 26 افراد کو ہسپتال سے صحتیاب ہونے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا جبکہ 25 افراد ابھی سول ہسپتال، سی ایم ایچ اور بی ایم سی ایچ میں زیرعلاج ہیں جن میں 18 خواتین بھی شامل ہیں۔ مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ وہ دہشتگردی کی وارداتوں سے گھبرانے والے نہیں۔

زیرعلاج زخمیوں کی وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اور گورنر بلوچستان نے عیادت کی اور ان کے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کسی بھی حالت میں دہشتگردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے اور بلوچستان کو پرامن بنانے کا عزم نبھاہیں گے۔

دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں سے 8 کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں گورا قبرستان کوئٹہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے جبکہ ایک کی میت کو سیالکوٹ روانہ کر دیا گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY