سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے آل پارٹیز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اے پی سی میں 40 سے زائد سیاسی جماعتیں شرکت کر رہی ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن اور مجھے کیوں نکالا آج کے قومی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا بعض دفعہ قومی سطح پر ایک سمت کے تعین میں مشکلات نظر آتی ہیں، سیاسی جماعتوں کو 17 جون کے خون شہادت نے اکھٹا کیا ہے، باہمی اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتیں آج ایک چھت تلے جمع ہیں۔ ان کا کہنا تھا تمام سیاسی جماعتیں افواج پاکستان اور عدلیہ کے تحفظ کیلئے اکٹھی ہیں، ہم اداروں کو مسمار نہیں ہونے دینگے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا نواز شریف نے سیاست میں لوگوں کو خریدنے کا کلچر ڈالا، نواز شریف نے 1988 کے انتخابات میں غیر جمہوری ناخداؤں کی سرپرستی میں الیکشن لڑا، سندھ، کے پی کے، بلوچستان میں کیش دے کر دھڑے خریدے گئے۔ انہوں نے کہا شریف فیملی کے ترجمان ایسے چوزے ہیں جو اس وقت انڈوں سے نہیں نکلے تھے، نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کیلئے ساز باز کی۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر عوامی تحریک کی لاہور میں اے پی سی میں پاکستان تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، پی ایس پی سمیت 12 سے زائد جماعتیں شریک ہیں۔ طاہرالقادری آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ تحریک انصاف کا وفد شاہ محمود قریشی، چوہدری سرور، اعجاز چوہدری اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے وفد میں قمر زمان کائرہ، رحمن ملک، سردار لطیف کھوسہ اور میاں منظور وٹو شامل ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کا وفد شیخ رشید، پاک سرزمین پارٹی کا وفد مصطفیٰ کمال کی قیادت میں شریک ہے۔ مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین،علما مشائخ اور بار کے وفد بھی شریک ہیں۔

دوسری جانب عوامی تحریک نے جدوجہد کو فیصلہ کن بنانے کی تیاریاں مکمل کر لیں، تمام کارکنوں کو ہدایت دی کہ تمام اضلاع میں 15 روز کا راشن رکھا جائے، جنوری میں طویل دورانیے کا احتجاج ہو سکتا ہے۔ خرم نواز گنڈا پور کا کہنا ہے تمام سیاسی جماعتیں عوامی تحریک کے ساتھ کھڑی ہیں، اے پی سی میں متفقہ قرارداد پاس کی جائے گی۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کنٹینر بھی تیار ہو گیا، تزئین و آرائش مکمل کر لی گئی۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید بھی حکومت مخالف فیصلہ کن تحریک کی تجویز اور اپوزیشن کو سڑکوں پر آنے کامشورہ دینگے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے حکمران قانونی و اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY